Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مادری زبان کا عالمی دن – تحریر ۔ محمد اسلم

شیئر کریں:

21فروری کو عالمی  مادری زبان کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یونسکو کے سرپرستی میں مادری اور مقامی زبانوں کا دن منانے کا مقصد مادری زبان کی اہمیت ، ترویج و ترقی اور معدومیت کے ممکنہ خطروں سے آگاہی فراہم کرنا ہے ۔ یونسکو  رپورٹ کے مطابق ہر 15دن میں ایک زبان صفہ ہستی سے مٹ جاتی  ہے ۔ 1950 سے ڈائی ہزار زبانیں مٹ چکی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق زبان معدوم ہونے کے پیچھے کئ وجوہات ہوسکتے ہیں ۔ اہم وجوہات  مندرجہ وجوہات ہیں ۔1۔ رسم الخط کا نہ ہونا۔ کسی بھی زبان کا  رسم الخط ہونا اس کے بقا کیلئے انتہائی ضروری  ہے ۔  زبان کے معدوم ہونے کے بڑی وجہ زبان رسم الخط نہ ہونا بھی ہے ۔  اس لئے کہ اس کو لکھنے والے لکھ نہیں سکتے اور بولنے والے بول نہیں سکتے۔ کتابی شکل میں محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے زبان کی ترویج نہیں ہوتی اور آہستہ آہستہ زبانوں سے بھی مٹ جاتی ہے۔


2۔ ہجرت ۔ یہ عام بات ہے کہ کسی علاقے سے ہجرت کرنے پر اس کی زبان بھی بھول جاتی ہے۔چترالی لوگ  تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کئی مختلف ممالک اور شہروں میں  جاتے رہتے ہیں۔کسی اور جگہ جانے سے اس علاقے کی زبان کو سیکھنا اور اپنانا پڑتا ہے اور آہستہ آہستہ مادری زبان بھول جاتے ہیں۔


مونیکا فی الحال زبان کے بھولنے کے عمل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ کہتی کہ بچے نئی چیزیں زیادہ آسانی سے سیکھتے ہیں پرانی باتیں بھولنا بھی ان میں عام ہے۔ 12 سال کی عمر تک کسی بھی بچے کی زبان میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ یعنی وہ اپنی مادری یا پیدائشی زبان کو مکمل طور پر بھول سکتا ہے۔لیکن بالغوں کا اپنی مادری زبان کو مکمل طور پر بھول جانا غیر معمولی بات ہے اور ایسا کم ہی دیکھا گيا ہے۔بالغ افراد اپنی مادری زبان انتہائی تکلیف کے بعد ہی بھول پاتے ہیں۔
3۔ مادری زبان تعلیمی نصاب میں شامل نہ ہونا۔زبان کی ترویج کیلئے ضروری ہے کہ اس کو پڑھائی اور لکھائ کیلئے عملی اقدامات کرے اور اہتمام کے ساتھ پڑھائی جائے۔  مقامی زبان نصاب میں شامل نہ ہو نے کی وجہ سے نئی نسلوں میں آہستہ آہستہ اس کی اہمیت ختم ہوجاتی اور زبان آہستہ آہستہ  معدومیت کی طرف بڑھتی رہتی ہے ۔


4۔زبان کے درست قاعدہ نہ ہونا۔کسی بھی زبان کی بقا کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ الفاظ درست تلفظ اور املہ کے ساتھ نئی نسلوں کو منتقل ہو ۔ مادری/مقامی زبان  اس لئے  بھی مٹ جاتی ہیں کہ انکے قاعدے مقرر نہیں ہوتے۔ کوئ قاعدے نہ ہونے کی وجہ سے زبان میں  روز بروز بگاڑ پیدا ہوتی ہے۔
ماہرین لسانیات کے مطابق پاکستان میں بولی جانے والی 74 زبانوں میں سے 30 زبانیں شمالی پاکستان یعنی چترال، سوات، گلگت اور کشمیر میں بولی جاتی ہیں ۔چترال میں کھوار کے علاوہ 10 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں کلاشہ، یدغا، پالولہ، شیخانی، دامیلی، گواربتی، واخی، مداک لشٹی، گوجری اور پشتو شامل ہیں۔
 کہوار زبان چترال ،سوات،کلگت اور کئ علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں بولنے والے ہیں اس کے باجود بھی یہ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے کیونکہ ’یہ کہی پڑھائی نہیں جاتی اور حکومت کی سرپرستی بھی حاصل نہیں  ۔


چترال میں زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے قائم غیر سرکاری ادارے ’مدرٹنگ انیشیٹیو فار ایجوکیشن اینڈ ریسرچ‘(میئر) کے سربراہ فرید احمد رضا کا کہنا ہے کہ کلاشہ زبان کو  معدوم ہونے کا خطرہ ہے اس کی وجہ کلاش لوگوں کا مذہب تبدیل کرنا ہے۔ لوٹ کوہ میں بولی جانے والی ’ یدغا’ بھی قریب المرگ ہے ۔ایک ریسرچ کے مطابق چترال میں بولی جانے تقریبا سارے زبانوں کو یہی خطرہ لاحق ہے ۔ خاص کرکے یدعا،وخی،پالولہ،شیخانی شامل ہیں ۔
جدید دور میں دوسرے ترقی یافتہ زبانوں کے الفاظ کی آمد سے کہوار زبان بہت متاثر ہوئی ہے۔ خاص کرکے نئی نسل تلفظ جان بوجھ کر درست ادا نہیں کرتے ہیں انہیں مادری زبان کی اہمیت  اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلئے اہل قلم، گورنمنٹ، NGOs اور صاحب استطاعت حضرات  سے استدعا کہ کہوار زبان کی ترویج  اور مقرر کہوار گرائمر کی تشکیل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیا جائے تاکہ پوری چترال  میں درست   املہ اور تلفظ کے ساتھ کہوار زبان بولنا ممکن ہوسکے۔


وماعلینا الاالبلاغ ۔

تحریر ۔محمد اسلم


شیئر کریں: