Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دشمن بھی غم ناک ہوگئے – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

دشمن بھی غم ناک ہوگئے – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

ملک کے ارباب ِ درد اور اہل ہوش طبقہ سے بار ہا اپیل کرتے رہتے ہیں کہ وہ وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ملک میں عدم برداشت کے سوال پر سنجیدگی سے غور اور احساس کریں کہ اس باب میں ان پر کس قدر عظیم ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ سوچئے کہ ہم میں سے کس کی خواہش نہیں کہ دین اسلام کے سلامتی اور امن کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلائیں اور اس کے مطابق زندگی بسر کریں۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے کہ جب ہم دین اسلام کی تعلیمات کو سمجھیں، سمجھائیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے دعوت فکر بھی دیں۔ ملکی آئین میں انسانی حقوق کی شقیں تو موجود ہیں، انسانیت کا احترام کا دعویٰ بھی کرتے تھکتے نہیں، مگر فکر و عمل سے عاری ہوکر وہ اقدام کرجاتے ہیں جس کی اجازت نہ اسلام دیتا ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی مذہب یا انسانی اقدار۔ہم میں سے بیشتر نہ تو ملکی قانون کے تحت چلتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے ضابطہ حیات کو خود پر لاگو کرتے ہیں۔ کسی ایک درست سمت پر چلنے سے نہ جانے کیوں گریزاں ہیں۔ یہ عدم برداشت کی خو، نہ جانے کب جائے گی۔

جب تک درست سمت کا تعین نہیں کریں گے تو نہ ہی  کوئی معاشرتی زندگی میں تبدیلی آئے گی اور نہ ہی ہماری معاشی حالت موجودہ سطح کے مقابلے میں نسبتاََ بہتر ہوسکتی ہے۔ بلاشبہ روزے، نمازکی ادائیگی کے لئے آزادی حاصل ہے لیکن عملی طور پر ہجومی تشدد سے کسی شخص کو ماورائے عدالت قتل کردینے کا حق کس نے کس کو دیا۔ ایک ریاست کے ہوتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لینے کا مطلب ریاست کی رٹ کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ سڑکوں پر اپنی عدالت لگا کر خود ساختہ فیصلے کرنا دراصل انصاف فراہم کرنے والی عدالتوں سے بغاوت کا کھلا اعلان ہے۔ ریاست کے اندر ہر گلی کوچوں میں ریاست بنانے کی روش سے انسانیت سے ہی دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسلامی زندگی میں صرف روٹی مل جانا، نماز اور روزہ رکھ لینے کے علاوہ بھی آداب معاشرت او ر حقوق العباد شامل ہیں۔ روٹی تو امریکہ اور غیر مسلم آبادی والے ممالک میں ہم سے بہتر اور با آسانی مل جاتی ہوگی لیکن اسلامی زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ تعالی اور سنت رسول ﷺ کی اطاعت ہم پر فرض ہے کیونکہ ہم خود کو اسلام کے نام لیوا کہلواتے ہیں۔

اس مقام پر اُن تمام لوگوں سے جو ہجومی تشدد کا حصہ بن جاتے ہیں، گذارش کروں گا کہ وہ کچھ وقت کے لئے جھوٹی عزت نفس اور خود ساختہ قانون کا ٹھیکے دار بننے سے گریز کریں، جذبات منافرت اور عناد کو الگ کرکے خالصتاََ  خوف خدا سوچئے کہ ہم اس وقت کس نازک دور اہے پر کھڑے ہیں۔ (قرون اوّل کے بعد) ہماری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مملکت اسلام اور مذہبی آزادی کے نام پر حاصل کی گئی۔ شائد کچھ لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہ کریں لیکن آنے والا مؤرخ شہادت دے گا کہ اس ناکامی کی بڑی وجہ آپ حضرات کے باہمی اختلافات تھے۔ اگر آپ اُس وقت، اپنے اپنے لسانی، صوبائی عصبیت، نسل پرستی اور فرقہ وارانہ رجحانات سے بلند ہوکر اسوہ حسنہ ﷺ پر چلتے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ملک وقوم کو کس قدر کامیابی نصیب ہوتی۔ عدم برداشت اور ہجومی تشدد کی ضد اوروتیرے نے ہم سے ہماری شناخت چھین لی ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے پورے معاشرے کو لاقانونیت کے گہرے اندھے کنوئیں میں دھکیل دیا ہے۔نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگاقیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کاہمیں اس کا علم ہے کہ آپ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ اختلاف انسان کی فطرت ہے اس لئے اختلافات مٹ ہی نہیں سکتے۔

میں ان لوگوں سے کچھ نہیں کہنا چاہتا، لیکن یہ سوال کرنے کا حق ضرور رکھتا ہوں کہ ایک ریاست میں حکومت ہوتے ہوئے سڑکوں پر خود ساختہ عدالتیں لگا کر موت کی سزائیں دینے کا اختیارکس نے کس کو دیا اور اس کے نتائج کی ذمے داری کس کی گردن پر ہوگی۔  ارباب ِ درد اور اہل ہوش طبقہ سے پوری درد مندی سے بار بار یہی گذارش کروں گا کہ انصاف کو انصاف کے دروازے سے ہی حاصل کرنے کا شعور اجاگر کرنے میں مدد دیں۔ وقت کی نزاکت کا احساس کرائیں۔عدم برداشت کے اس کلچر کو ختم کرنے کے لئے اپنے اختلافات کو دفن کریں۔ہمارے اختلافات مٹ سکتے ہیں، یہی حق و باطل کے پرکھنے کا معیار بھی ہے کیونکہ اسلام ہی ہمیں سلامتی و امن کا وہ پیغام و حکم دیتا ہے جو دنیا میں کسی مذہب اور نظام میں نہیں۔ اسلامی قوانین اور اصولوں میں تغیر و تبدیلی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں، نہ کسی جمہوریت کو نہ آمریت کو۔کہتا ہے کون نالہ  گل کو بے اثرپردے میں گل کے لاکھ جگرچاک ہوگئےعدم برداشت کی وجہ سے ہم اپنے ملک و قوم اور دین کے برخلاف جا کر مقبوضہ کشمیر اور بھارت سمیت پوری دنیا میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانے کا حق کھو رہے ہیں۔

ہمیں اس امر پر شرمندگی کا احساس ہوتا ہے کہ جس عمل پر شدت کے ساتھ احتجاج  اور مذمت کرتے ہماری زبان نہیں تھکتی، وہی روش ہم میں بھی موجود ہے۔ ہم مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر جورو ستم پر سراپا احتجاج ہوجاتے ہیں، جب خود ہمارے علاقوں، گلی کوچوں میں ہجومی تشدد اور عدم برداشت کے واقعات ہوتے ہیں تو یقین کیجئے کہ اس حق کو کھو بیٹھتے ہیں کہ کسی دوسرے کو مورد ِ الزام ٹھہرائیں۔ ہم نے تو اپنے اکابرین سے یہی سیکھااور اسوہ حسنہ ﷺ  کو پڑھا ہے کہ مسلم مرد مومن کی قابل رشک زندگی کو دیکھ کر غیر مسلم اقوام عالم اسلام کے قریب آجائیں تو یہ سعادت کس قدر عظیم اور اس کا اجر کیسا جلیل ہوگا۔ لیکن یہ سعادت اس لئے ہمارے حصے میں نہیں آرہی کیونکہ عدم برداشت کی روش رکھنے والوں کی قسمت میں یہ طالع مندی اور فیروز بختی (شاید) جو ہمارے مختص تھی اس کی فقید المثال بختاوری سے ہم نے خود اپنے آپ کو محروم کرلیا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ اسلام کی اس آئیڈیالوجی کو پہلے خود پر لاگو کریں، پھر دنیا کے سامنے پیش کریں کہ اسلام کس طرح روح ِ انسانیت کو ہلاکت سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عدم برداشت کے ہجومی تشدد کے رویوں کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔  شب ہجراں کے جاگنے والوکیا کرو گے اگر سحر نہ ہوئی


شیئر کریں: