Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے ۔ محمد شریف شکیب

افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کی شدید برفباری میں سکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر پیدل دفتر آنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوئی ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ برفباری میں وزیر خارجہ اکیلے ہی پیدل دفتر آرہے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی بھی سکیورٹی اہلکار موجود نہیں۔تاہم وڈیو میں یہ واضح نہیں کہ یہ ویڈیو کب کی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیر خارجہ کی سادہ طرز زندگی کی تعریف کی گئی ہے۔امیر خان متقی گذشتہ سال اگست میں طالبان کے کابل پر قبضے اور عبوری حکومت کے قیام کے بعد وزیرخارجہ بنے تھے اس سے پہلے امیرمتقی ہماری طرح عام آدمی تھے اور پیدل مٹرگشت کرنا عام آدمی کا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے ممکن ہے کہ یہ وڈیو کسی نے چار چھ سال پہلے بنائی ہو۔ لیکن اسے ریلیز کرنے کا وقت اہم ہے۔اسلامی ملکوں میں سادگی کے ایسے مظاہرے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔

ہمارے ہاں کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے بھی ایک مرتبہ سائیکل پر گھر سے دفتر جانے کی مثال قائم کی تھی۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ جب صدر نے سادگی کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پورے راستے میں ان کی حفاظت کے لئے خفیہ مقامات پر سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے اور جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے (جو اس زمانے میں عیاشی سمجھے جاتے تھے)نصب کئے گئے تھے۔ ایوان صدر سے دفتر تک پانچ دس منٹ سائیکل پر سفر کے قومی خزانے پر کوئی پچاس لاکھ کے قریب اخراجات پڑے تھے۔ شاید اسی سادگی کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ ”اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا“امیر متقی کی پیدل مارچ کی وڈیو وائرل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افغانستان کی معاشی حالت اتنی دگرگوں ہوچکی ہے کہ ملک کے وزیرخارجہ کے پاس دفتر جانے کے لئے گاڑی تک نہیں۔ یا پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ گاڑی میں گھر سے دفتر جانے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

اسی وڈیو کی بنیاد پر افغانوں نے عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہوگی کہ افغانستان کے منجمد اثاثے واپس کرنے اور انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگوں نے اس بات کو بھی بعید از قیاس قرار نہیں دیا ہے کہ وزیرخارجہ کو ہائی بلڈ پریشر، کولسٹرول یا جوڑوں میں درد کی شکایت ہو۔اور ڈاکٹروں نے انہیں پیدل چلنے کا مشورہ دیا ہو۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ امیرمتقی نے کسی کی زبانی خاموش انگریزی فلموں کے لافانی کردار چارلی چپلن کے یہ الفاظ سنے ہوں کہ ”مجھے بارش میں پیدل چلنا اچھا لگتا ہے کیونکہ لوگ میری آنکھوں سے بہنے والے آنسووں کو بارش کے قطرے سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں“جب ساری دنیا کو ہنسا ہنسا کر پاگل کرنے والا چارلی چپلن اتنا دکھی، اداس، پریشان حال اور غمناک ہوگا توہم آپ اور امیرمتقی ان کے سامنے کیا بیچتے ہیں۔ افغان وزیرخارجہ کے دکھ یقیناًہم سے بھی زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے کس شان و شوکت کے ساتھ کابل کا اقتدار سنبھالا تھا۔ جب ان پر بین الاقوامی پابندیاں لگ گئیں تو چھٹی کا دودھ یاد آنے لگا۔

دل کے ارمانوں کا جب خون ہونے لگے تو آنکھوں سے آنسو چھلکنا فطری امر ہے۔بہرحال وجہ خواہ جو بھی ہو۔ افغان وزیرخارجہ کی یہ سادگی ہمیں بھی بہت پسند آئی۔جب مسلمانوں کا امیرالمومنین راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں پیدل گھوم پھیر کریہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہو کہ کسی گھر میں فاقوں کی وجہ سے بچوں کے رونے کی آواز تو نہیں آرہی۔ جب ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا تو امیرالمومنین اپنے کندھوں پر آٹے کی بوری اٹھاکر اس گھر میں چھوڑ آتے تھے۔ فاروق اعظم کی یہ سادگی اور فرض شناسی قیامت تک اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کے لئے ایک زندہ مثال ہے۔ اسلامی نظام کے علمبردار خود سادگی اختیار کریں گے تب ہی وہ دوسروں کے لئے قابل تقلید مثال بن سکتے ہیں۔


شیئر کریں: