Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہراسانی کی تعریف اور سزائیں ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

ہراسانی کی تعریف اور سزائیں ۔ محمد شریف شکیب

جنسی طور پر ہراساں کرنے کی روک تھام کے لئے تعینات وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کو خوبصورت کہنا،گڈ مارننگ کا ایس ایم ایس بھیجنا، ذومغنی شعر یا گڈ نائٹ کے پیغامات ارسال کرنا بھی ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔وویمن پراپرٹی رائٹس کا قانون آ گیا ہے،خواتین کو اگر پدری جائیداد میں حصہ نہیں مل رہا تو وہ قانون کی مدد حاصل کرسکتی ہیں۔ وفاقی محتسب ساٹھ دنوں کے اندر جائیداد میں خواتین کے حقوق سے متعلق کیس کا فیصلہ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اکثر خواتین کو یہ نہیں پتہ کہ ان کے حقوق کیا ہیں اس لئے وہ قانون کا سہارا نہیں لیتیں۔ وفاقی محتسب دو ماہ کے اندر جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے مقدمات کا بھی فیصلہ کرے گا۔

خواتین وکیل کے بغیر آن لائن بھی درخواست دے سکتی ہیں،خواتین کو انصاف تبھی ملے گا جب وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متعلق رپورٹ کریں گی۔وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کے اندر جنسی ہراسیت کے تدارک کی کمیٹی بنانا ضروری ہے،دریں اثنائسعودی ماہر سائبرکرائم اور انسداد جعلسازی کمیٹی کے رکن معتز کتبی کا کہنا ہے کہ کسی کوواٹس اپ پر سرخ دل کا علامتی نشان بھیجنا سائبرکرائم کے زمرے میں آتا ہے جس پر دوسال تک قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ہوسکتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ سوشل میڈیا پرسرخ دل یا پھول اور اس نوعیت کی دیگرعلامتیں ارسال کرنے میں احتیاط برتنی چاہئے۔خواہ یہ علامات کسی مرد کی جانب سے ارسال کی گئی ہوں یا خاتون کی۔

ایسی علامات وصول کرنے والے کو ان سے کسی قسم کی ایذا پہنچے تو یہ قانونی مسئلہ اختیار کرسکتی ہے۔ہراساں محض جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ الفاظ، عبارت یا غیرمناسب رویے کا اظہار کرنا بھی ہے جوقابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔اب تک ہم یہی سنتے آرہے تھے کہ تعریف کرنا خواتین کی پیدائشی کمزوری ہے اگر کوئی خاتون واقعی خوبصورت ہو۔تو اس کی تعریف بنتی ہے۔تاہم کسی بدصورت، بدی،حد سے زیادہ موٹی یا ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آنے والی عورت کو خوش کرکے اپنا مطلب نکالنے کے لئے اسے خوبصورت کہنا واقعی جرم ہے۔ ایسے بدزوق لوگوں کو واقعی سزا ملنی چاہئے۔مشہور ماہر نفسیات ڈیل کارنیگی کا کہنا ہے کہ لوگوں سے کام نکالنے کے لئے ان کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی تعریف کرنا ضروری ہے۔کسی کا دل رکھنے کے لئے اسے گڈ مارننگ، گڈ نائٹ،ٹیک کیئر، ہیو اے نائس ڈے اورآئی لو یو کے الفاظ یا علامات پر مبنی پیغام بھی کوئی نہ بھیجے تو معاشرے کے کام کیسے انجام پائیں گے۔دنیا میں کوئی بے حس اور بدذوق عورت بھی اپنی تعریف پر ناراض نہیں ہوتی۔

جب پیغام وصول کرنے والی کو محبت بھرے پیغامات سے تھوڑی دیر کے لئے راحت ملتی ہے تو غیر متعلقہ لوگوں کے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھتے ہیں۔وفاقی محتسب نے شکوہ کرنے کے انداز میں کہا ہے کہ خواتین ہراساں ہونے کی شکایت ہی نہیں کرتیں تو کوئی ان کی مدد کیوں کرے۔ہراسانی کی تعریف میں عصری تقاضوں کے مطابق ترامیم کی ضرورت ہے۔ ویلنٹائن ڈے پر اپنے کسی پیارے کو سرخ گلاب کا پھول نہ دیں تو لوگ کنجوس قرار دیتے ہیں پیسے خرچ کرکے پھول لے لو۔تو عاشق مزاج ٹھہرایاجاتا ہے۔ہماری فلموں اور ڈراموں میں کسی کا دل جیتنے کے لئے ہیرو کو پہاڑوں پر چڑھتے، دریاؤں میں اترتے، پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہریں بہاتے، چاند تارے توڑ کر محبوب کا دامن بھرنے، اس کے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے ہاتھ پر سورج رکھنے کے دعوے کرتے دکھایاجاتا ہے ان پر کبھی ہراسانی کا مقدمہ نہیں ہوا۔ پھول اور دل کی تصویر بھیجنے کوقابل تعزیر جرم ہی کیوں نہ قرار دیا جائے۔دل والے یہ جرم کرتے رہیں گے۔ آخر دل لگی، کسی کے لئے نیک جذبات رکھنا،رات کی پرسکون نیند اور دن کے خوشگوار اجالے کی تمنا بھری دعائیں کرنا ہماری تہذیب و ثقافت کا جزولاینفک ہے۔


شیئر کریں: