Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستان کو بھارت میں مدغم ہونے سے بچائے ; قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

پاکستان کو بھارت میں مدغم ہونے سے بچائے ; قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

الم انگیز ہونے پر کیا دلچسپ ہوتا ہےچراغ انجمن کا ذکر، پروانے کا فسانہ


سرسید نے آج سے قریب  ایک سوپچاس برس پہلے، اپنے انگریز کلکٹر سے کہا تھا کہ آپ لوگ اسں غلط فہمی میں نہ رہیں، کہ ہندوستان میں ایک قوم بستی ہے۔ یہاں دو الگ الگ قومیں بستی ہیں، اگر آج کوئی اس حقیقت سے اغماض برتتا ہے تو آنے والا زمانہ اس سے اس حقیقت کو خود منوا لے گا۔ سر سید نے یہ اعلان، جنگ آزادی1857 سے چند برس بعد کیا تھا، جب حالت یہ تھی کہ انگریز اور ہندو کی متحدہ سازش، بھارت سے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹانے کے لئے برسرِ کار تھی۔ سر سید کے اس انقلابی اعلان سے ان کے کان کھڑے ہوئے اور انہوں نے متحدہ قومیت کا جالبننے کے لئے گہری تدبیریں سوچنی شروع کردیں۔ 1880میں کانگریس کا قیام اسی سازش کی ایک کڑی تھا، سر سید نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ وہ ہندو اور انگریز کے تیار کردہ اس دام ہمرنگ ِ ز میں نہ پھنسیں اور اُس کانگریس میں قطعاََ شامل نہ ہو جو بھارت کے تمام باشندوں کو ایک قوم کے افراد قرار دے کر، اپنے آپ کو”نیشنل“ کہتی ہے۔اس کے بعد جب بھارت کو شریک ِ حکومت کرنے کی اصلاحات کا پہلا قدم اٹھایا گیا تو سر سید نے انگریز سے بر ملا کہہ دیا کہ جب تک مسلمانوں کو جداگانہ نیابت نہیں دی جائے گی، ہم اس میں شرکت نہیں کرینگے۔ سر سید کے بعد اقبال بھی اسی پیغام کو دہراتا رہا کہبنا ہمارے حصار ِ ملت کے اتحاد ِ وطن نہیں ہے


 اور ہندو، اس کے خلاف متحدہ قومیت کا راگ الاپتا رہا، تآنکہ 1930میں اقبال نے اس نظری تصور کو عملی پیکر میں تبدیل کرنے کے لئے، مسلمانوں کی جداگانہ قوم کے لئے ایک جداگانہ خطہ  زمین کے مطالبہ کی بنیاد رکھی۔ بات آگے بڑھتے چلی گئی تآنکہ ہندو اور انگریز دونوں کو، مسلمانوں کے اس متحدہ مطالبہ کے سامنے جُھکنا پڑا، اور1947میں مسلمانوں کے لئے خطہ  زمین کو الگ کردیا گیا اور اس طرح ہندوستان کے تقسیم عمل میں آگئی۔ یوں تو یہ تقسیم انگریز، ہندو اور مسلمانوں کے مشترکہ معاہدہ کی رُو سے عمل میں آئی تھی، لیکن ہندو اور انگریز دونوں کے دل پر کیا گذری تھی، اس کا اندازہ اس اعلانات سے لگائیے، جس سے انہوں نے اس معاہدہ کی رسم افتتاحیہ ادا کی تھی۔یہ معاہدہ مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین ہوا تھا۔ 3 جون1947 کو اس پر دستخط ہوئے اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے  14جون کو حسب ِ ذیل قرار داد پاس کی۔” آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو پورا پورا یقین ہے کہ جب موجودہ جذبات کی شدت میں کمی آجائے گی تو ہندوستا ن کے مسئلہ کا حل صحیح پس منظر میں دریافت کرلیا جائے گا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے دو الگ الگ قومیں ہونے کا باطل نظریہ مردود قرار پاجائے گا۔

“پنڈت جواہر لعل نہرو ایک طرف اس معاہدہ پر دستخط کررہا تھا اور دوسری طرف قوم سے کہہ رہا تھا کہ۔۔” ہماری اسکیم یہ ہے کہ ہم اِس وقت جناحؔ کو پاکستان بنا لینے دیں اور اس کے بعد معاشی طور پر اور دیگر انداز سے ‘ ایسے حالات پیدا کرتے جائیں جن سے مجبور ہو کر مسلمان گھٹنے کے بل جھک کر ہم سے درخواست کرے کہ ہمیں پھر سے ہندوستان میں مدغم کرلیجئے۔“یہ قوم پرستوں کے نیتاؔ تھے۔ ہندو مہا سبھا کے سرپنچ، ڈاکٹر شیاما پرشاد مکر جی، اپنی جاتیؔ کو یہ تلقین کررہے تھے کہ۔۔”ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پھر سے ہندوستان کا حصہ بنالیا جائے، اس حقیقت سے متعلق میرے دل میں ذرا سا بھی شبہ نہیں کہ ایسا ہو کر رہے گا، خواہ یہ معاشی دباؤ سے ہو یا سیاسی دباؤ سے، یا اس کے لئے دیگر ذرائع استعمال کرنے پڑیں۔“گو کہ پاکستان کا قیام ماضی کی تاریخ سے مستقبل کی جانب گامزن ہے، لیکن سوچنا یہ ہے کہ کیا بھارت واسیو کے دل میں پاکستان سے نفرت کو بھڑکنا والے، اس آگ کو کبھی بجھنے بھی دیں گے کہ نہیں، یا یہ آتش فشاں ہر وقت پھٹتا رہے گا۔پاکستان کے سرخیلوں نے ماضی سے نکل کر مستقبل کے لئے اب کیا سوچا ہے، اس پر نوجوان نسل نے کبھی غور کیا کہ نہیں یا، باریاں کی آنیاں اور جانیاں لگی رہے گی۔ ذرا نہیں پورا سوچو، لیکن ایک بار صرف نوجوان کے مستقبل کے لئے، پاکستان کے لئے۔۔ پاکستان کو بھارت میں مدغم ہونے سے بچائے۔ کیونکہ مملکت واقعی نازک دُور سے گذر رہی ہے۔معاشی اور سیاسی تباہ حالی کے پل صراط سے۔۔


شیئر کریں: