Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آزادکشمیر متحدہ اپوزیشن محاذ – پروفیسر عبد الشکور شاہ

شیئر کریں:

آزادکشمیر متحدہ اپوزیشن محاذ – پروفیسر عبد الشکور شاہ

الیکشن 2021 میں آزادکشمیر کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ آزادامیدوار ضلع نیلم سے دیکھنے کو ملے۔بس صرف دیکھنے کو ملے کیونکہ 99% الیکشن کے دن سے پہلے اپنی ساکھ،نظریہ،بلندوبالا نعرے،نام نہاد انقلابی سوچ، اعلی تعلیمی ڈگریاں وغیرہ وغیرہ سب روائیتی سیاستدانوں کی جھولیوں میں بطور نظرانہ پیش کر چکے تھے۔جو ایک فیصد رہ گئے تھے ان کی داستان غم بیٹھ جانے والوں سے بھی دردناک ہے۔بس یوں سمجھ لیں جب سب بیٹھ گئے تو ان کے بیٹھنے کی جگہ ہی نہ بچی لحاظ انہوں نے کھڑے رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔آزادکشمیر کے سبھی اضلاع میں یہی ماجرا پیش آیا۔جیسے ہی الیکشن نتائج کا اعلان ہوا تو رت ہی بدل گئ۔ پی پی کو ووٹ دینے والے ن لیگ کے جیتنے والے امیدوار کو مبارکباد دینے پہنچ گئے اور ن لیگ کو ووٹ دینے والے پی پی کے جیتنےوالے امیدوار کو مبارکباد دینے پہنچ گئے۔پی ٹی آئ کو مبارکباد دینے کے لیے نسونس،پہجو پہج،چمڑوچمڑ،پہلچو پہلچ تے ترپوترپ جیسی صورت حال تھی۔

چھوٹی جماعتیں اور آزادامیدوار خرامے خرامے واپس پنڈی،اسلام آباد،لاہور اور کراچی کی طرف کھسکنے لگے۔یوں الیکشن سے پہلے اپوزیشن کی باتیں کرنے والے کانوں میں روئ ٹھونس کر رفوچکر ہوگئے۔نیلم میں جناب شاہ اور میاں صاحب نے آپس میں مک مکا کر کے الحاج سرکار کو اکھاڑے سے باہر کردیا۔مسلم کانفرنس نے ہر ممکن مفاد حاصل کرنے کی سہی کی مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔مسلم کانفرنس نےچند بکروں کے بدلے ٹکٹ تقسیم کیے تو آخر میں مینگڑاں ای ملیاں۔ہمارے میاں صاحب بھی دیرینہ رفاقت کو چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہوگئے شائد کچھ بھانجے بھتیجے لگوانے کی امید باقی ہو آج تک عوام علاقہ کے ووٹوں کے نام پر اپنی جیبیں بھری ہیں اور اپنے رشتہ دار ہی لگائے ہیں۔نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ اور کشمیر کونسل کی نشستوں کے وعدوں پر ایم فل پرائمری پاس کے چرنوں میں جاگرےمگر کوئ امید بر نہ آئ۔واحد حل جماعت اسلامی والے تو اب واٹسپ گروپس اور سوشل میڈیا سے بھی غائب ہوچکے ہیں۔جماعت اپنی ماضی کی روش پر چل رہی جس کا ممبرومحراب چپ رہ کر عہدے اور مفادات حاصل کرنا ہے۔

تحریک لبیک مذہبی چورن کے نام پر جماعت اسلامی سے بہتر ووٹ لینے میں کامیاب تو ہوئ مگر الیکشن کے بعد چپ سادھ لی ہے۔چند دن پہلے ان کے گم شدہ کارکنان اپنے سربراہ کے ولیمے کے لیے وئبریشن کرتے دکھائ دیے اور پھر سائلینٹ موڈ پر لگ گئے ہیں۔لبریشن لیگ کے امیدواران تو کیا ان کا صدر آزاد امیدوار کے برابر بھی ووٹ نہ لے سکا۔اب اپوزیشن کرنے کے لیے نہ کوئ فرزندکشمیر ہے،نہ فخرکشمیر،نہ سپوت کشمیر،نہ محافظ کشمیر،نہ شان کشمیر، نہ کوئ کمانڈر اورمجاہد کشمیر۔میراکشمیر جوں کی توں ہے اور یہ سیاسی ہفتہ باز سبزباغ دکھا کر رفوچکر ہوچکےہیں۔لاٹری تو ان لوگوں کی نکلی جن کی حکومت نہیں بنی۔یہ سیاسی شہید بن چکے ہیں۔نہ کام کے نہ کاج کے دشمن قومی اناج کے۔5سال تک ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ،مراعات،سہولیات اور ایم ایل اے فنڈز لیکر کہنا ہماری حکومت ہی نہیں ہم کیا کریں۔سابقہ سپیکر آزادکشمیر تو برسراقتدار ہوتے ہوئے یہ کہتے تھے میری ڈی سی نہیں سنتا، اب تو شائد چپڑاسی بھی نہ سنتا ہو۔رہے میاں صاحب اب موبائل بھی مہنگے والے ہیں اب موبائل توڑنے والا کام بھی مشکل ہے۔سب نے اپنی دکانداری چمکا لی ہے بس بیچاری عوام وہیں کی وہیں ہے۔

غریب کے نام پہ ووٹ لینے والے امیر ہوگئے اور غریب کو دووقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔الیکشن سے پہلے سب بڑی سیاسی پارٹیوں کی اجارہ داری کے خلاف تھے مگر متحدہ کشمیر/ نیلم محاذ بناکر الیکشن تو نہ لڑ سکے کم از کم متحدہ اپوزیشن محاذ کشمیر بنا کر اپوزیشن تو کرسکتے ہیں۔مگر یہ ایسا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کا مقصد کشمیر نہیں نوکریاں،تبادلے،سکیمیں،ٹھیکے اور اپنی دیہاڑی لگانا ہے۔جماعت اسلامی ہویا لبیک،لبریشن لیگ ہویا مسلم کانفرنس،ن لیگ ہو یا پی ٹی آی،آزاد امیدوار ہوں،دیگر پارٹیاں ہوں یا پی پی سب کھا پی کے چکروں میں ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے حکومتی پارٹی کے ساتھ ماضی کے الحاق اس بات کا واضع ثبوت ہیں یہ مفادات کے لیے اپنا نظریہ تک بیچ دیتےہیں۔رہے آزادامیدوار تو وہ بیچارے معصوم ہیں ان کو تو خود نہیں پتہ تھا وہ الیکشن کیوں لڑرہے تھے۔کچھ نوکری کے لیے لڑ رہے تھے،کچھ انا کی تسکین،کچھ شہرت،کچھ ضد،کچھ بیٹھنے کے لیے،کچھ لیٹنے کے لیے،کچھ سیاسی کاروبار کے لیے،کچھ سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے لیے،کچھ سیاسی پارٹیوں کے کہنے پر اور کچھ دیگر مفادات کے لیے میدان میں اترے تھے۔

ہم خیال گروپ ایسا شڑپ ہوا کہ کیا کہوں۔ہم خیال کے امیدوار نے کلمہ پڑھ کر کہا بیٹھوں گا نہیں وہ بیٹھاواقعی نہیں لیٹ گیاہے۔مقامی سیاسی چیلوں کو نہ تو کسی پارٹی سے سروکار ہے اور نہ ہی کسی شخصیت سے۔ان کا مقصد ٹھیکوں اور سکیموں کے زریعےمال بٹورناہے۔عام ووٹر ابھی بھی کسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔کچھ بڑے مقامی سیاسی چیلے پہلے نوجوانوں کو نشے پہ لگواتے ہیں پھر ان سے چوریاں کرواتے ہیں۔مال خود کھاجاتے اور چوروں کو یاتو بچا دیتے یا بھگا دیتے۔ان نقب زن گروہوں میں کچھ مقامی سیاستدانوں اور آستانہ نشینوں کے بچے بھی شامل ہیں۔پورے کشمیر کا کوئ پرسان حال نہیں ہے۔اگر ہم سیاسی پارٹیوں سے پیوستہ رہ کر بہتری یا اپوزیشن کی امید لگائے رکھیں گے تو یہ عبس ہے۔سیاسی پارٹیاں اور افراد اپوزیشن نہیں اپنی پوزیشن کے بارے فکر مند رہتے۔اب یہ ذمہ داری کشمیر کے پڑھے لکھے،باشعور اور غیورنوجوانوں کے کندھوں پر ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے اپوزیشن کا کردار ادا کریں۔اس الیکشن میں اکثر اعلی تعلیم یافتہ  نے اپنی ڈگریاں،قابلیت،اہلیت،جدوجہد، نظریہ سب کچھ پرائمری پاس کے چرنوں میں ڈال کر بھی خوار ہو رہے۔ یہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ سیاسی بتی کے پیچھے لگنے کےبجائے اپنی تعلیم،قابلیت،اہلیت اورمیرٹ پر یقین رکھیں۔اپنی خوداری،عزت نفس اور وقار کسی صورت مجروح نہ ہونے دیں۔جو اسمبلی ایم ایل اے کے لیے پرائمری اور چپڑاسی کے لیے میٹرک پاس ضروری قرار دے وہاں کیا امید کی جاسکتی ہے۔درد دل رکھنے والے احباب کشمیر متحدہ اپوزیشن محاذ بنا کر اپنے حقوق کی جدوجہد کا آغاز کریں۔


شیئر کریں: