Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گورنر اسٹیٹ بینک کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ دی جارہی ہے، وزارت خزانہ

شیئر کریں:

گورنر اسٹیٹ بینک کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ دی جارہی ہے، وزارت خزانہ


اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ) وزارت خزانہ نے سینٹ سیکریٹریٹ کو تحریری جواب میں بتایا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ مل رہی ہے اور ان کی تنخواہ میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینٹرعرفان صدیقی نے ایوان بالا میں گورنر اسٹیٹ بینک کو ملنے والی تنخواہ کی تفصیلات پر سوال کیا تھا، اور پوچھا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آئی ایم ایف میں کتنے عرصہ کیلئے ملازم رہے، پاکستان میں بطور گورنر اسٹیٹ بینک ملنے والی تنخواہ اور مراعات کتنی ہیں۔وزارت خزانہ نے گورنر اسٹیٹ بینک کے حوالے سے تفصیلات کا تحریری جواب سینٹ سیکریٹریٹ کو جمع کرا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ مل رہی ہے اور ان کی تنخواہ میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کو فرنشڈ گھر یا اس کے برابر کرایہ اور مرمتی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ان کے پاس ڈرائیور سمیت دو گاڑیاں ہیں اور انہیں گاڑیوں کے استعمال کی مد میں 600 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو بجلی، گیس، پانی اور جنریٹر کے اخراجات فراہم کیے جاتے ہیں اور ان کے بچوں کی 75 فیصد فیس ادا کی جاتی ہے، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو مفت لینڈ لائن، موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی حاصل ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک 4 ملازمین رکھ سکتے ہیں اور ہر ملازم کی تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ ہے، گورنر کو 24 گھنٹے سیکیورٹی اور سکیورٹی گارڈز کی سہولت حاصل ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کو مکمل علاج کی سہولت حاصل ہے، وزارت خزانہ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک کو ہر ماہ تین دن چھٹی کی سہولت حاصل ہے، ان کی گریجویٹی ایک ماہ کی تنخواہ سالانہ ہے، ان کو ٹرانسفر کے لیے خاندان سمیت ائیر ٹکٹ اور سامان منتقلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو کلب کی ماہانہ چارجز سمیت سہولت حاصل ہے۔

‘فیٹف کی 28 میں سے 27 شرائط پر عملدرآمد کرلیا، اب بھی گرے لسٹ میں رکھنا زیادتی ہے’


اسلام آباد (سی ایم لنکس) وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فیٹف کی28 میں سے 28 شرائط پر عملدرآمد کرلیا، اب بھی گرے لسٹ میں رکھنا زیادتی ہے، کوشش ہے جلد گرے لسٹ سے نکل آئیں گے۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا، جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، فیٹف کے28 شرائط تھے 27 پر عملدرآمد کرلیا گیا ہے۔27 شرائط پر عملدرآمد کرنیوالے ملک کو گرے لسٹ سے نکال دیا جاتا ہے لیکن یہ ہمارے ساتھ زیادتی ہے کوشش ہے جلد گرے لسٹ سے نکل آئیں گے، آخری چند سال میں پچھلی حکومت نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا جوفیٹف گرے لسٹ میں گئے۔روپے پر پریشر تھا اب روپیہ 174پرآگیا ہے، اس وقت روپیہ انڈرویلیونہیں ہے،ایک دو روپیکافرق ہے، سعودی عرب سیموخرادائیگی پر تیل کی درخواست کی، اس وقت اپنے تیل کے ذخائراستعمال کر رہے ہیں۔پٹرول پرسیلزٹیکس اورپی ڈی ایل کو کم کیا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 100فیصدسیزائداضافہ ہوا لیکن ہم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40فیصدتک اضافہ کیا، ہم کوشش کر رہے ہیں عوام پرکم سے کم بوجھ پڑے۔امپورٹڈ کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کیلئے کوئلہ توامپورٹ کرنا پڑے گا، کچھ پاور پلانٹس چلانے کیلئے تھرس یکوئلہ نکالاجارہاہے، آپ کہیں پٹرول امپورٹ کرنابندکریں توایسا نہیں ہوسکتا۔ہم نے چینی، گندم امپورٹ کی جس کیباعث امپورٹ میں اضافہ ہوا، صرف جنوری میں امپورٹ بل میں 1.5ارب ڈالرکی کمی ہوئی ہے، ہم نے سی بی یوزپرڈیوٹی بڑھائی، جس کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں

اضافہ ہوا۔


شیئر کریں: