Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپرچترال میں بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ، تحریک حقوق کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے شروع کرنیکا فیصلہ

شیئر کریں:

اپرچترال میں بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ، تحریک حقوق کے زیراہتمام 14 فروری سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنیکا فیصلہ

اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے جمعرات کے دن ایم۔این۔اے چترال عبدالاکبر چترالی نے بونی میں تحریک حقوق عوام اپر چترال کے عمائدین سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اپر چترال کے تمام علاقوں سے عمائدین اور تحریک کے نمائندگان نے شرکت کی۔ تحریک کے نمائندوں نے ایم۔این۔اے کو اپر چترال میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی صورتحال اور عوام کے شدید ردعمل سے آگاہ کیا۔ ایم۔این۔اے نے انکشاف کیا کہ محکمہ پیڈو کی جانب سے محکمہ واپڈا کو 2 کروڑ سے زائد یونٹ بجلی کا بل جن کی مالیت 2 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے تاحال ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید 12 گھنٹے بڑھنے اور یہاں تک کہ اپر چترال کی بجلی کی فراہمی بند ہونے کا خدشہ ہے۔ مولانا چترالی نے متعلقہ حکام سے رابطے کرکے یہ مسئلہ اپنی بساط کے مطابق حل کرنے اورساتھ اپر چترال گرڈ اسٹیشن پر کام جلد از جلد شروع کروانے کیلئے کوشش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اس حوالے سے ان کا موقف تھا کہ گرڈ اسٹیشن منظور ہوکر فنڈز بھی ریلیز ہوچکے ہیں، لیکن کام شروع کرنے میں حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔


اپم۔این۔اے چترال کے ان انکشافات کے بعد تحریک حقوق عوام کے عمائدین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تیز کرنے کا فیصلہ کیا اور 14 فروری کے طے شدہ میٹنگ کو 12 فروری بروز ہفتہ بوقت صبح 11 بجے مقامی ہوٹل بونی میں رکھا گیا اور 14 فروری بروز پیر بونی چوک میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپر چترال کے تمام علاقوں تورکہو، موڑکہو، تحصیل مستوج سے تحریک حقوق عوام اپر چترال کے نمائندگان کے علاؤہ سول سوسایٹی اور عمائدین سے 12 فروری کے میٹنگ اور 14 فروری کے احتجاجی جلسے میں بھرپور شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں اور مجاز افسران سے بھرپور گزارش کی جاتی ہے کہ اپر چترال کے عوام کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں اور فوری طور پر بلا وجہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ بصورت دیگر شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔

chitraltimes bijli loadsheeding upper chitral meeting1
chitraltimes bijli loadsheeding upper chitral meeting

شیئر کریں: