Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چے گویرا اوربلوچستان – تحریر : راجہ منیب

شیئر کریں:

پاکستان میں  دوبارہ دہشت گردی کے واقعات میں جس  تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، اس سے عام پاکستانی گہری سوچ میں گرفتار ہورہا ہے کہ آخر اس دہشت گردی کا کوئی تدارک تو ہو گا۔ اس وقت بلوچستان اور کے پی کے میں گزشتہ ایک ہفتے  میں پنجگور، نوشکی اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کچھ زیادہ تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر نے معصوم شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور لوگوں کی پرامن زندگیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔معدنیات سے مالا مال صوبے میں دہشت گردی نے سر اٹھایا ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں پورے خطے میں گھات لگا کر کیے گئے حملوں، جھڑپوں اور بم دھماکوں میں درجنوں سیکورٹی اہلکار اور دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے پاکستان میں حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔کل تو افغانستان کے بارڈر سے حملہ ہوا ہے اور پانچ پاکستانی سکیورٹی اہلکار شہیدہو گئے ہیں جس سے ہماری افغان پالیسی پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آخر کب تک ہم دہشت گردی کا شکار ہوتے رہیں گے ۔

اس حوالے سے وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ یہ انڈیا کی ،را، ایجنسی کی کاروائی ہے جس میں امریکی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ پڑوسی ملک افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال اور دہشت گردوں کو غیر ملکی حمایت صوبہ بلوچستان میں تشدد اور دہشت گرد گروہوں کے دوبارہ منظم ہونے کےاہم عوامل ہیں۔ آخر ہم برادر ملک افغانستان کو مطمئن کیوں نہیں کر پا رہے کہ کبھی تو ٹی ٹی پی اندرون ملک اور خصوصی طور پر پچھلے کچھ عرصہ سے سی پیک پر کام کرنے والے چینیز دوستوں کو بھی نشانی بنایا گیا اور اب جبکہ ہمارے ہاں آسٹریلیاء کی  کرکٹ ٹیم کی چوبیس سال بعدآمد کی خبرہےاور ان تمام واقعات کے باوجود پی ایس ایل کے میچ کامیابی سے جاری ہیں، ہمیں دہشت گردی کے ان واقعات کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہو گااور اس کے سد باب کی پوری طرح کو ششیں کرنا ہوں گی۔سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملوں اور صوبہ بلوچستان کے کئی حصوں میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 20 فوجی شہید ہوئے جو کہ اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم روٹ ہے۔بلوچستان کے حالات گذشتہ کچھ عرصے سے سیاسی سرگرمیوں کیلئے حد درجہ نا موافق رہے ہیں۔

میں ہمیشہ ہی بلوچستان کی تاریخ و ترقی پر بات کرتا رہا ہوں مگر آج    ذکر کر دوں کہ کہانی کہاں سے بگڑی ۔بلوچستان پاکستان کے ان حصوں میں سے ہے جہاں محرومی کا احساس بہت شدت سے پایا جاتا ہے ۔ بلوچ عوام کے حقوق اور بلوچستان کی ترقی کے لیے اعلانات تو کئی بار کیے گئے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفتوں کی تعداد بہت کم اور رفتار بہت سست ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ بلوچستان میں موجود علیحدگی پسند عناصر بھی اٹھاتے ہیں اور بھارت سمیت کئی ممالک بھی اس سلسلے میں اپنا منفی کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتے ہیں۔1948ء میں قلات ریاست کے پاکستان سے الحاق کے وقت ہونے والی پہلی شورش سے لے کر اب سے تقریباً دو دہائیاں قبل شروع ہونے والی پانچویں شورش تک یہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پاکستان کے اندر اور باہر موجود ملک دشمن عناصر نے بلوچ عوام کی محرومی اور بلوچستان کی پسماندگی کے نام پر عام لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اس صوبے میں انتشار پھیلا کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کیں۔27مارچ 1948کو خان آف قلات کو کراچی گئے جہاں 28مارچ کو ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا گیا اور الحاق کی دستاویز پر گورنر جنرل محمد علی جناح نے 31مارچ کو دستخط کردیے۔14اکتوبر 1955کو جب ون یونٹ بنا تو بلوچستان کے تمام علاقے اس میں ضم کردیے گئے   ۔   عام انتخابات کے نتیجے میں 30مارچ 1970کو بلوچستان میں پہلی منتخب صوبائی اسمبلی وجود میں آئی         ۔ 

1973کا متفقہ آئین منظور کیا گیا لیکن 1974میں عطاء اللہ مینگل کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور حالات خراب ہوئے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں بلوچ قوم پرستوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا ۔ جنوری 2005میں ڈاکٹر شازیہ کا کیس سامنے آیا۔  پھر 26اگست 2006کو نواب اکبر بگٹی نے مزاحمت کرتے ہوئے اپنی جان گنوائ دی۔بلوچ سرداروں کے کردار بدلتے رہے اور وہ جاگیر دارانہ تسلط کے تقاضوں کے تحت آمرانہ قوتوں کا آلہ کار بنتے رہے۔اب  براہمداخ بگٹی بلوچستان ریپبلکن آرمی سے دہشت گردی کروا رہے ہیں ۔جبکہ  حر بیار مری بلوچستان لبریشن آرمی کے ناخدا بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر جیسے دہشت گرد ہیں جو بلوچستان لبریشن فرنٹ میں بلوچی جوانوں کا دماغ خراب کر رہے ہیں۔پنجگور، نوشکی اور کیچ میں گزشتہ دنوں جو حملے ہوئے ہیں، وہ ایسے وقت میں انڈیا نے کروائے جب وزیراعظم نہایت اہم دورے پر چین گئے تھے۔بی ایل اے والے بلوچستان کی آزادی کی تحریک کا جو جواز عام عوام کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں اور اپنی اس دہشت گردی کو فریڈم فائٹ کہتے ہیں۔ماضی میں امریکہ نواز افغان حکومتیں بلوچ علیحدگی پسندوں کو پناہ اور امداد دیتی رہیں اور اس میں بھارت اور را ہمیشہ سے  متحرک ہیں۔مگربلوچستان کے مسئلے پر کوئی بھی ملک کل کر سرمچاروں / پرچار کا ساتھ نہیں دے سکتا بلکہ چند ممالک امریکہ اور انگلینڈ نے ان کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے ۔ان دہشت گردوں نے لندن سے قطر اور وہاں سے دبئی اور پھر وہاں سے بلوچستان تک غیر ملکی فنڈنگ کی پوری چین چل رہی ہے۔

ویسے بھی بلوچستان ہر ملک کے جاسوسوں کے لیے میزبان رہا ہے۔ انڈیا ہمارے  اندرونی خلفشار کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ بلوچ ناراضگی، بیگانگی اور مزاحمت انڈیا کی پیدا کردہ ہے اور کلبھوشن اس کی زندہ مثال ہے۔ حالانکہ اسے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ بھارت علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے جس سے ظاہر ہے کہ ماما قدیر نے بھارت سے کھل کر مدد مانگی ۔ا  سی انڈیا نے ہمارے مشرقی بازو ، مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کیا اور آج وہ کھلے عام ہمیں بلوچستان میں للکار رہا ہے اور یہ واضع ہے کہ بلوچستان میں تمام دہشت گردی کے پیچھے  پندرہ اگست کو  اپنے یوم آزادی پر شاہی قلعہ سے مو دی کا سرعام یہ بیان ہے کہ ہم پاکستان میں بلوچستان میں مداخلت کر یں گے۔ کیا یہ ثبوت انڈیاکو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے کافی نہیں ۔افغانستان سے اس کے پڑوسی ممالک میں سب سے طویل 2600 کلو میٹر سے زائد کی سرحد پاکستان کے ساتھ ہے اور اس میں سے 1468 کلومیٹر طویل سرحد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساتھ ہے۔صوبہ بلوچستان کے ساتھ اس طویل بارڈر پر افغانستان کے چار صوبے لگتے ہیں جن میں ہلمند، قندھار، نمروز اور زابل شامل ہیں۔ ایسے میں کچھ عرصہ سے سیاسی اور دفاعی پنڈت ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی افغانستان کی صورتِ حال کا براہ راست اثر بلوچستان پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے اورویسا  وہی ہو رہا ہے۔

خیر یہ ذکرکرتا ہوں کہ یہ سب شروع کہاں سے اور کیسے ہوا ۔اور یہ شرپسند لوگ کون ہیں اور کیوں ہیں ۔ اصل میں  یہ لوگ چے گویرا کو  اپنا روحانی رہنما مانتے ہیں۔ جبکہ جون 1928ء کو ارجنٹینا کے شہر روزایورن میں پیدا ہونیوالے چے گویرا کو آج کے نوجوان مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں,چے گویرا کا اصل نام ارنسٹو گویرا لاسیرنا تھا جو پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے جس کی پیدائش ایک متوسط گھرانے میں ہوا۔چے گویرا مارکسی نظریے کے حامل ایک جہدکار تھے اس نے طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور اسی عرصے میں جنوبی اور وسطی امریکا کے کئی ممالک کا سفر کیا اس دوران چے گویرا نے کئی ممالک میں غربت اور ظلم و جبر کو محسوس کیا اور انہیں لگا کہ غربت اور ظلم کو روکنے کا واحد حل مزاحمتی جدوجہد یا بندوق ہے مگر اس وقت وہ زمینی اور معروضی حقائق سے بالکل نابلد تھے اسلئے مارکسی نظریہ وقت کے ساتھ ساتھ دم تھوڑتی گئی اور جو ممالک معاشی طور پر مستحکم ہوئے وہ ممالک ترقی سے ہمکنار ہوتے چلے گئے اور جن ممالک نے مارکسی نظریے کو اپنایا وہ ممالک مزید پسماندگی کی طرف چلتے گئے۔

چے گویرا مارکسی نظریے سے اس قدر متاثر ہوچکے تھے انہیں لگا کہ جنوبی اور وسطی امریکا کے مسائل کا واحد حل مسلح جدوجہد کرنا ہے یا مارکسی نظریے کے تحت  نوجوانوں کی زہن سازی کرکے ریاست کے خلاف بندوق اٹھاکر جدوجہد کرنا ہے۔بلوچ سیاست کی بنیاد بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ہوتی ہے جو ایک مارکسی نظریے پر یقین رکھنے والی طلبا تنظیم ہے جس کے اسٹڈی سرکلز میں ہمیشہ مذاحمتی سیاست پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے اور بی ایس او کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کی زہن سازی کی جاتی رہی ہے کہ بلوچستان کے تمام مسائل کا حل مزاحمت ہے اور ریاست کے خلاف بندوق اٹھا کر مرنا اور مارنا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مزاحمتی سیاست کے پلیٹ فارم سے متاثر ہوکر زمانہ طالب علمی میں کئی نوجوان بھٹک گئے اور انہیں لگا کہ بلوچستان کے سیاسی, معاشی اور سماجی مسائل کا حل پہاڑوں میں بیٹھ کر ریاست کے خلاف لڑنا ہے اور یوں مزاحمتی سیاست کی آڑ میں کئی نوجوان ریاست اور اپنے ہی اقوام کے خلاف بندوق اٹھانے لگے جس سے بلوچستان کے سیاسی, معاشی اور سماجی مسائل سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے گئے۔

بی ایس او کے فلیٹ فارم سے  بلوچستان کے جن طلبا کی زہن سازی کی گئی انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ چے گویرا جس مارکسی نظریے پر قائل تھے بعد میں ان کے اپنے ہی قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ دینگے،ساتھ چھوڑنے والوں میں انکا اہم ساتھی فیڈرل کاسترو شامل تھے جو بعد میں ان سے الگ ہوگئے۔ چے گویرا کی ناکام مزاحمتی جدوجہد سے بیزار ہوکر بہت سے ممالک نے چے گویرا کو اپنے ملک سے بے دخل کردیا کیونکہ ان ممالک کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ چے گویرا کی مزاحمتی سیاست ان کے ملک میں خونریزی کے علاوہ اور کچھ فائدہ نہیں دیگی۔بلوچستان کے وہ لیڈرز جو ستر اور اسی کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے فلیٹ فارم سے مارکسی نظریے کی جدوجہد کررہے تھے بعد میں انہیں بھی مارکسی نظریے کی ناکامی کا علم ہوا اور انہوں نے بلوچستان کے عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا اور بلوچستان کی خوشحالی اور ترقی کیلئے جدوجہد شروع کردی۔

جو لیڈرز مرنے اور مارنے والی سیاست پر یقین رکھتے تھے وہ بلوچستان کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلتے گئے۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جو چے گویرا کو اپنا مزاحمتی ہیرو سمجھتا تھا اپنے اسٹڈی سرکلز میں نوجوانوں کی زہن سازی کرکے انہیں چے گویرا کی مثالیں دیتا تھا کہ کس طرح چے گویرا اپنی مزاحمتی زندگی میں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرتے تھے اور چے گویرا نے اپنی پرآسائش زندگی ترک کرکے پہاڑوں کا رُخ کرلیا۔ “چے گویرا کی ڈائری” باقاعدہ بی ایس او کے اسٹڈی سرکلز کا حصہ ہوا کرتی تھی اور ہر اتوار کے دن بلوچستان بھر کے تمام کالجز اور جامعات میں بی ایس او کے لیکچر سیشن ہوتے تھے جہاں ایک منظم طریقے سے بلوچستان کے نوجوانوں کی زہن سازی ہوا کرتی تھی۔بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا آغاز ستر کی دہائی میں ہی ہوا تھا۔ بعض بلوچ قوم پرست افغانستان میں کھلے عام تربیتی کیمپ چلاتے رہے اور یہ سلسلہ1980 تک جاری رہا۔ یہی وہ بنیادی سبب تھا جس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اسی عرصے کے دوران پاکستان نے بعض جہادی افغان کمانڈروں کی معاونت اور سرپرستی کا آغاز کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ماحول میں تبدیلی آگئی۔ تاہم وہ بھارت‘ برطانیہ‘ افغانستان اور بعض دوست ممالک سے مدد لیتے رہے اور اس کا کھلے عام اعتراف کرتے آئے ہیں۔ایک بلوچ لیڈر برہمداغ بگٹی نے 2008 میں پاکستانی چینل پر کھلے عام کہا کہ وہ بھارت‘ ایران‘ افغانستان اور برطانیہ سے مدد لیتا آیا ہے اور لیتا رہے گا۔

سال2010 میں مری قبائل کے ایک کمانڈر نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی تحریک مزاحمت کو عالمی قوتوں اور علاقائی پڑوسیوں کی معاونت حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک برہمداغ بگٹی کے پاس کابل میں تین گھر تھے۔ وہاں ان کو مکمل آزادی رہی۔ سال 2012 کے آخرمیں افغان صدر حامد کرزئی نے سلیم صافی کو دیئے گئے انٹر ویو میں خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کی ’’مداخلت‘‘ کی پالیسی کے ردعمل میں ان عناصر کی حمایت کررہے ہیں جو پاکستان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان  اپنے معاملات میں بھی کسی قیمت پر کسی کو مداخلت کرنے نہ دے اور ان قوتوں کا خاتمہ کیا جائے جو پاکستان کے حقیقی چہرے اور معاشرے کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ستر سے لیکر نوے تک کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اسٹڈی سرکلز میں ایسے سیاستدان بھی نوجوانوں کی زہن سازی کیا کرتے تھے جو آج پارلیمانی سیاست کے اہم لیڈرز ہیں جنہوں نے سویت یونین کے انقلاب کے وقت بیرونی امداد لیکر بلوچستان کے نوجوانوں کو نام نہاد آزادی کا نعرہ لگانے پر مجبور کردیا اور بہت سے نوجوانوں کو نام نہاد آزادی کا جھانسہ دیکر ہمیشہ کیلئے ریاست مخالف کردیا جو آج پہاڑوں میں بیٹھ کر بلوچستان کے مستقبل کو خونی کرنا چاہتے ہیں۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اگر چے گویرا کی ناکام مارکسی اور مزاحمتی سیاست کے بجائے بلوچستان پر اصولی سیاست کرتی, بلوچستان کے اصل مسائل کی نشاندہی کرتی اور بلوچستان کے سیاسی, معاشی اور سماجی مسائل کو اجاگر کرتی اور انکے تصفیہ کرنے کا حل پارلیمنٹ میں رہ کر ڈھونڈتی تو شاید آج بلوچستان پاکستان کا سب سے خوشحال ترین صوبہ ہوتا۔ بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔

حکومت بلوچستان کو ترقی کے حوالے سے ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ ریاستِ پاکستان جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہے آج الحمدﷲ وہ اس پر نہ صرف کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کے مجموعی حالات بھی انتہائی پُرامن ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کے دلوں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خوف کے سائے چھٹ رہے ہیں اور وہ اعتماد اور حوصلے سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔انشاءاللہ جلد ہی پورا پاکستان پرامن ہوگا ۔کیوں کہ بلوچستان کے امن پر اب کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے ۔بحیثیت قوم ان چند غیر ملکی دہشت گردوں اور باغیوں کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کرنا ہو گا تاکہ پاکستان جاسوسوں اور شرپسندوں سے پاک ہو ۔دہشت گردی ایک نا سور ہے ۔اور اس کے خلاف سخت بڑا آپریشن ہونا چاہیے تاکہ  بلوچستان پرامن  و خوشحال ہو سکے ۔ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی فرنٹ پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔بعض قوتیں بدلتے بہتر حالات کو پھر سے خراب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئی ہیں۔

اقلیتی بلوچ علیٰحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔بلوچستان کی ترقی اور وہاں امن و امان کا قیام پورے ملک کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس سلسلے میں معاشی سفارتکاری کے بین الاقوامی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچستان میں موجود اور وہاں سے تعلق رکھنے والے ایسے تمام عناصر کی ناراضی دور کی جانی چاہیے جو پاکستان کی فلاح و بہبود اور استحکام میں کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

بلوچستان میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے جہاں بعض پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے وہیں صوبے کے نوجوانوں کو مواقع اور ان کا رجحان مثبت سرگرمیوں کی جانب مائل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جانا ضروری ہے۔ پاکستانی قوم اور اس کی افواج عزم اور جانفشانی کی علامت ہیں کہ ان کی قربانیاں اور کامیابیاں اظہرمن الشمس ہیں۔ اب دنیا اس کانسپریسی تھیوری کو ماننے کے لئے چنداں تیار نہیں جس کی رو سے پاکستان کو دنیا کا امن پامال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ اب پاکستان اپنی کارکردگی کی بدولت اس مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنا مؤقف واضح کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ آج پاکستان کا شمار باوقار اور مضبوط اقوام میں ہوتا ہے جس کے لئے پاکستانی قوم اور اس کی افواج کی بے مثال کارکردگی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہماری عزت، وقار اور عظمت پاکستان ہی کے دم سے ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان پائندہ باد


شیئر کریں: