Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دین اسلام نے بین المذاہب میں بقائے باہم کے لئے درخشاں اصول دیئےعالمی بین المذاہب ہم آہنگی- قادر خان یوسف زئی

شیئر کریں:

اقوام متحدہ  ہر سال فروری میں عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کا ہفتہ مناتا ہے۔ عالمی بین المذاہب ہم آہنگی ہفتہ  کا تصور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے پیش کیا تھا جسے جنرل اسمبلی کی قرارداد کے تحت منظور کرلیا گیا۔  جنرل اسمبلی کی نشاندہی پر کہ باہمی افہام و تفہیم اور بین المذاہب مکالمہ امن کے لئے ثقافت کی اہم جہتیں رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی منانے کا مقصد بلا امتیاز رنگ و نسل اور عقیدہ ہم آہنگی کو فروغ دیئے جانا ہے۔ اقوام متحدہ لوگوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کے لئے مختلف عقائد اور مذاہب کے درمیان مکالمے کی ناگزیر ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے تمام ممالک کو دنیا بھر میں موجود گرجا گروں، مساجد، عبادت گاہوں، مندروں اور دیگر مقامات پر بین المذاہب ہم آہنگی اور خیر سگالی کے پیغام پھیلانے کی ترغیب دیتا ہے۔

 2019کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی کے ہفتہ کے انعقاد کا تھیم، ”بین المذاہب ہم آہنگی کے ذریعے پائیدار ترقی” تھا۔جس کا پیغام تھا کہ ” تمام عقیدے کے نظاموں اور روایات کا مرکز یہ تسلیم کرنا ہے کہ ہم سب اس میں ایک ساتھ ہیں اور ہمیں ماحولیاتی طور پر پائیدار دنیا میں ہم آہنگی اور امن کے ساتھ رہنے کے لیے ایک دوسرے سے محبت اور تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری دنیا پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ارد گرد ایک مخالف اور ناپسندیدہ دنیا میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے کے ساتھ تنازعات اور عدم برداشت سے دوچار ہے۔ ہم بدقسمتی سے لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے پیغامات بھی دیکھ رہے ہیں۔ روحانی رہنمائی کی ضرورت اس سے زیادہ کبھی نہیں تھی۔

یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی مشترکہ انسانیت کی بنیاد پر اچھی ہمسائیگی کے پیغام کو پھیلانے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کریں، یہ پیغام تمام مذہبی روایات کا مشترکہ پیغام ہے“کوویڈ 19نے دو برسو ں میں پوری دنیا کا نظام حیات تبدیل کرکے رکھ دیا اور خدشات ظاہر کئے گئے کہ کرونا کا جلد خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ کرونا کی نئی اشکال دنیا میں نئے چیلنجز کے ساتھ نمودار ہوتی ہیں اور کرونا سے متاثرہ ممالک و عوام کو ایک بار پھر سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔ کرونا نے جب انسانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو اس نے کسی خاص مذہب یا نسل کو منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس کی زد میں قریباََ پوری دنیا آئی عالمی وبا کے شکار کروڑوں انسانوں میں یہ تفریق نہیں کی جاسکتی کہ کس مذہب، رنگ و نسل کے ماننے والوں کو زیادہ متاثر کیا اور کس کو کم۔ عالمی وبا نے حیات زندگی کو جس طرح تبدیل کیا تو انسانوں کے مذہبی عبادتوں کو بھی متاثر کیا اور اجتماعی طور پر مسلم امہ کے عالمگیر اجتماع حج و عمرہ سمیت مساجد میں نماز کی ادائیگیوں کے لئے بھی سماجی پابندیوں نے اثر ڈالا۔

اسی طرح مندروں اور گرجا گھروں سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہیں کرونا کی زد میں آئیں۔ کرونا نے انہیں بھی متاثر کیا جن کا تعلق کسی بھی مذہب سے تھا تو وہ بھی ان کی زد میں آئے جو کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے تھے، لیکن عقائد و نظریات سے لاتعلق کرونا وبا نے جہاں ہم آہنگی کے لئے عالمی سطح پر ایک دوسرے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا تو روحانی طور پر اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے منتشر طرز حیات کو بحال کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ 2019کا برس کرونا وبا کے حوالے سے اس قدر شدت پذیر تھا کہ انتہا پسندی کا استعمال کیا گیا تو دوسری جانب عالمی سطح پر تنگ نظری نے بھی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کرونا وبا کو لے کر انتہائی نفرت انگیز مہم چلائی گئی، بھارت اپنی انتہا پسند ہندو توا کی وجہ سے دن بدن شدت پسندی کا خطرناک گڑھ بنتا جارہا ہے تو ان حالات میں آر ایس ایس کے مسلم کشی کے مخصوص نظریہ کے تحت کرونا کے پھیلاؤ میں مسلمانوں کے خلاف ایسی کاروائی کیں گئی جس میں مودی سرکار اور انتہا پسند ہندوؤں کا کھلا کردار سامنے آیا۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ محکہ خارجہ۔ بیورو آف ڈیموکریسی، ہیومین رائٹس، اینڈ لیبر بین االقوامی مذہبی آزای(2007 تا2020) کی ہر سالانہ رپورٹ میں بتا چکے کہ بھارتی حکام گائے کے حوالے سے ہونے والے تشدد کرنے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کرتے۔

ایسا تشدد زیادہ تر مسلمان افراد کے خلاف کیا  جاتا ہے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ انہوں نے گائے کو زبح کیا یا گائیوں کو غیر قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچایا پھر گائے کا گوشت فروخت کیا یا کھایا۔موجودہ حکومت کے تحت مذہبی اقلیتی گروپوں کو قوم پرست ہندوؤں سے زیادہ خطرات لاحق جو غیر ہندو افراد اور عبادت گاہوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ مذہبی اقلیتی برادریوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ قومی حکومت نے بعض اوقات تشدد کے واقعات کے خلاف بات کی، مقامی سیاسی لیڈروں ُ نے اکثر اوقات ایسا نہیں کیا ا نہوں نے کھل عام ایسے بیان دئیے جن سے تشددمیں اضافہ ہوا‘۔ مسلم کشی کے واقعات کی حمایت بھی کھلے عام کی جاتی ہے جس میں انتہا پسند ہندو تنظیم ہوں یا حکومتی وزرا ء یا اراکین۔ مذہبی وجوہ پر ہونے والے تشدد اور ہنگاموں سے متعلقہ طویل عرصے سے جاری قانونی مقدمات میں پیش رفت مسلسل سست روی کا شکار رہتی۔جادب پور یونیورسٹی، کلکتہ یونیورسٹی، سینٹ زیویئرس کالج اورمغربی بنگال کے دیگر مایہ نازتعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم، اساتذہ کرام، صحافیوں اور صاحبان عقل و دانش پر مشتمل اس ادارہ نے ’بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ‘ کا آغاز کیا اور یہ تجویز رکھی کہ”اگر امتیازو تعصب اور مخالفت و منافرت کی یہ فضا ختم کرنی ہے توہمیں محاذآرائی نہیں بلکہ مکالمہ آرائی کی راہ اپنانی ہوگی۔ پرامن بقائے باہمی کا


ہدف حاصل کرنے کیلئے نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے مابین گفتگو اور مکالمہ ہی واحد حل ہے“۔ دنیا میں مسلمانوں کیخلاف تعصب بڑھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق یورپ اور ایشیا میں اسلام مخالف جذبات بڑھ گئے ہیں۔ توہین مذاہب کو ذاتی دشمنی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہبی آزادی پیدائشی حق ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق اس سلسلے میں امریکہ کا اپنا ریکارڈ بھی مثالی نہیں۔  امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ2021میں برما، چین، اریٹیریا  بھارت، ایران، نائیجیریا،شمالی کوریا، پاکستان، روس، سعودی عرب، شام، تاجکستان، ترکمانستان،  ویتنام پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور خاص  ممالک کی نگراں فہرست  میں افغانستان،  الجزائر، آذربائیجان، کیوبا، مصر، انڈونیشیا، عراق، قازقستان، ملائیشیا، نکاراگوا، ترکی، ازبکستان کو شامل کرتے ہوئے بھارت کو فہرست سے خارج کردیا۔ محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں امریکہ میں نسل کشی کے کے ساتھ مذہبی منافرت کے بھی متعدد واقعات جب کہ برطانیہ اور یورپی ممالک میں مذہبی آزادی مخالف رویہ اور اسلام فوبیا کی وجہ سے ہونے والے واقعات پر گریز کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کو غیر جانب دارانہ نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اس میں زیادہ تر مسلم اورامریکہ مخالف ممالک پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے برعکس خود امریکی کانگریسی رکن لہان عمر نے ایک بل پیش کیا، جس کا نام  ‘بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ’ ہے۔ بل کو کانگریس سمیت وائٹ ہاؤس نے بھی منظور کیا۔  جس کا مقصد ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے تحت ایک خصوصی نمائندے کا تعین کیا جائے جو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات کو رپورٹ کر کے امریکی محکمہ خارجہ کے علم میں لائے۔ واضح رہے کہ ایسا ہی ایک نمائندہ پہلے ہی امریکی محکمہ خارجہ میں موجود ہے جس کا کام عالمی سطح پر یہود مخالف واقعات کو رپورٹ کرنا ہے۔ویسے تو یہ بل گذشتہ کئی مہینوں سے ایوانِ نمائندگان کی اُمورِ خارجہ کمیٹی میں موجود تھا مگر  تواتر سے پیش آنے والے واقعات نے اس بل  کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا اور اسے منظور کر لیا گیا۔لہان عمر نے کہا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس بل کی منظوری دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے اور ایک مضبوط اشارہ ہے کہ اسلاموفوبیا کو کہیں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’نفرت کے خلاف کھڑے ہونے سے آپ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں مگر ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ مضبوطی سے کھڑے رہیں۔ بر ما،برطانیہ، یورپ بالخصوص فرانس جرمنی، امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک میں نسل پرستی کے عفریت کے ساتھ مسلم دشمنی کے واقعات کے اقوام متحدہ کے سامنے بھی یہ سوال رکھا کہ اسلام فوبیا کے خلاف وہ کیا کردار ادا کرسکتا ہے تاکہ عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ مل سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام فوبیا کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ سے عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا ہوا ہے، لیکن اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی تاہم پہلی مرتبہ روس نے اسلام فوبیا کے خلاف اعلیٰ سطح پر حمایت کرکے پہل کی اور اسے اظہار رائے کی آزادی کے برخلاف قرار دیا۔ روسی صدر کا کہناکہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی لوگوں کو ناراض کرنے اور اشتعال دلانے کا باعث بنتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی آزادی اظہار رائے نہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے اور روسی صدر کے بعد کینیڈا کے وزیراعظم کی جانب سے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر  کئے جانا اسلامو فوبیا کا مقابلہ اب کینیڈین حکومت کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ جب کہ  امریکی بل ”بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ“ امریکی کانگریس نے منظور کیا۔دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے ایک متفقہ قابل قبول لائحہ عمل ضروری ہے۔ پاکستان میں مختلف عقائد سے وابستہ افراد کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ دسمبر2020میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی جانب سے بین المذاہب اور بین الثقافتی مذاکرات کے فروغ سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظورکیاگیا تھا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق فلپائن کے اشتراک سے پیش کی گئی قرارداد بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری، ایک دوسرے کے مذاہب اور اقدار کے لیے احترام اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔قرارداد میں پاکستان کی طرف سے کرتارپور اقدام کا خیر مقدم کیا گیا اور اسے امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی تعاون کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا گیا۔

دین اسلام نے نظام حیات اور بنی نوع انسان کے لئے قرآن کریم کی صورت میں ایک ایسا استدالی اور مدلل ضابطہ ئ حیات نازل اورتاقیامت محفوظ کیا، جوبلا امتیاز رنگ و نسل یکساں کو مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ دین اسلام نے بین المذاہب میں بقائے باہم کے لئے درخشاں اصول دیئے، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ زبردستی نہیں ہے دین کے معاملہ میں بے شک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے اب جب کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لائے اللہ پر تو اس نے پکڑلیا حلقہ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ جانتا اور سنتا ہے۔(سورہ البقرۃ ۲۵۶)کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پرکہ ہوجائیں با ایمان۔ (یونس ۹۹).اور تم لوگ برا نہ کہو ان کو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا بس وہ برا کہنے لگیں گے بربنائے دشمنی بغیر جانے۔دین اسلام میں اللہ تعالی اور نبی آخری الزماں حضرت محمد ﷺ کی سنت اسوہ حسنہ تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں، اسلام نے حدود و اصول متعین کردیئے ہیں کہ کسی کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی خواہشات کے نام پر، ایسے اقدامات کرے، جس سے دین اسلام کا تشخص متاثر ہو۔ دین اسلام، قرآن ے توسط سے حق و باطل کے امتیاز کو واضح کرتا ہے،

ضلالت و گمراہی اور نجات و فلاح کے راستے سے لوگوں کو روشناس کراتا ہے، دین و مذہب کی ترویج و اشاعت کے لئے دعوت و تبلغ ارشاد و تلقین کا راستہ اختیار کرنے اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ کسی مذہب کے پیروکاروں کو جبر و کراہ کے ذریعے اسلام کے فلسفے کی نفی کرنے والوں کو سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اسلام کبھی بھی بزور شمشیر نہیں پھیلا۔اسلام نے اپنی خوبی او ر محاسن سے تمام طبقات میں امن و سلامتی کا پیغام دیا، تاریخ اسلام میں اس کی ان گنت مثالیں ہیں۔ایک فعہ حضرت عمرو بن عاص ولی مصر کے بیٹے نے ایک غیرمسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفہ وقت امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو انھوں نے سرعام گورنرمصر کے بیٹے کو اس غیرمسلم مصری سے سزادلوائی اور ساتھ ہی فرمایا تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیت المقدس کے کلیسا کے ایک گوشے میں نماز پڑھی پھر خیال آیا کہ کہیں مسلمان میری نماز کو حجت قرار دے کر عیسائیوں کو نکال نہ دیں اس لئے ایک خاص عہد نامہ لکھواکر بطریق (پادری) کو دیا۔ جس کی رو سے کلیسا کو عیسائیوں کیلئے مخصوص کردیاگیا اور یہ پابندی لگادی گئی کہ ایک ہی مسلمان کلیسا میں داخل ہوسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ (اسلامی ریاست، امین احسن اصلاحی،ص:۲۹)۔ اقوام متحدہ نے تو صرف چند برسوں سے عالمی بین المذاہب ہم آہنگی منانے کا اعلان کیا لیکن دین اسلام سینکڑوں برسوں سے اس کا درس دیتا آرہا ہے۔ کسی شخص یا خود ساختہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی وجہ سے اسلام کی زریں تعلیمات کا فیصلہ نہیں کرنا چاہے کہ جس سے اسلام فوبیا کو بڑھاوا ملے۔ اسلام نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ اسلام کے اس پہلو کو دیکھنا چاہے جو اللہ تعالی نے قرآن کریم او ر سنت رسول ﷺ کی صورت میں دنیا کو دیا۔  عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے دین اسلام اور قرآم کریم کی حقیقی تعلیمات کو اپنانے سے ہی دنیا کو درپیش مسائل کا حل نکل سکتا ہے اور منافرت، عصبیت، نسل پرستی، بنیادپرستی، شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔


شیئر کریں: