Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختصرسی جھلک – زندگی کی مہارتیں – فریدہ سلطانہ فّریّ

شیئر کریں:

پہلا حصہ

کہتے ہیں کہ زندگی توزندہ دلی کا نام ہےمردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہےکہ انسان اپنےاندرزندہ دلی کیسےاورکسطرح پیدا کریں اوراِس کے لئے انسان کو کب اورکس طرح کا عمل اختیار کرنا ہوگا۔اس بات سے توکوئی بھی انکارنہیں کرسکتاکہ انسانی زندگی میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ مسائل بھی اتے ہیں اورانہی مسائل و مشکلا ت کے ساتھ خود کوایڈجسٹ کرکے یا خود کومقابلےکا اہل بنا کے زندگی کوڈھنگ سے جی لینےکا نام زندگی دلی ہے۔اورڈھنگ سےجینے کے لئے انسان کے پاس کچھ ایسی مخصوص خصوصیات یا مہارتیں ہونی چاہیےجوایسے مشکل موقعوں میں انسان کی ڈھال بن سکیں۔ خاص کربیٹیاں اللہ پاک کی وہ معصوم مخلوق ہیں جن کی زندگی میں ایک وقت ایسا اتا ہے کہ انہیں ایک دم سے اپنا انگن چھوڑکرمکمل طورپرنئے ماحول میں خود کوڈھالنا ہوتا ہےاورایسے ماحول سے خود کو شناسا کرنےاورزندگی کی درپیش دوسری چیلنجیزکا سینہ تان کرمقابلہ کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ ایسی مخصوص مہارتوں کا ہونا بےحد ضروری ہے جن کا میں باری باری مختلف اقساط میں تذکرہ کروںگی۔

فیصلہ سازی کی مہارت

خود اعتمادی

مسائل کوحل کرنے کی مہارت

تخلیقی سوچ

موثرمواصلات کی مہارت

باہمی تعلقات کی مہارت

خود اگاہی

ہمدردی

تناوسے نمٹنے کی مہارت

جذبات سے مقابلے کی مہارت

یہ تمام وہ مہارتیں ہیں جوبچیوں کوایک کامیا ب اورپرسکون زندگی کی طرف گامزان کرنےمیں ریڑھ کے ہڈی کی حثیت رکھتی ہیں۔

فیصلہ سازی کی مہارت:

اس بات سے توکوئی بھی انکارنہیں کرسکتا کہ زندگی کے ہرحصےاورہرمعاملے میں درست فیصلے کی شدید اہمیت ہے نہ صرف پیشہ وارانہ و تعملیمی معاملات میں بلکہ ہرفرد کوروزمرہ زندگی میں ہرعمراورموقع پرفیصلہ کرنا پڑتا ہے اورایسے موقعوں پردرست فیصلے صرف وہی لوگ ہی کرسکتے ہیں جن کو بچپن سے ہی اپنی زندگی سے متعلق چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کا موقع دیا گیا ہواوروہ فیصلہ سازی کےعادی ہو۔مگر بدقسمتی سے نہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اورنہی والدین گھروں میں اس بات پرتوجہ دیتے ہیں کہ بچوں خصوصآ بچیوں کواپنی سرپرستی میں کم عمری میں ہی ان کی زندگی سے متعلق چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کا عادی بنایا جائے تاکہ والدین کی غیرموجودگی میں اگے جاکران کواپنی زندگی سے متعلق صیح ودرست فیصلے کرنے میں اسانی ہواوروہ کسی کشکمش کا شکار نہ ہوسکیں۔

اج بھی زیادہ تروالدین اپنے بچوں کے تمام تر فیصلے خود ہی کرتے ہیں یہاں تک کہ شادی اورکیریرجیسے اہم معاملات میں بھی بچوں خصوصا بچیوں کی مرضی اورفیصلے کو بلکل ہی اہمیت نہیں دیتے ہیں بعد میں جس کے بہت ہی سنگین نتائج برامد ہوتے ہیں۔ جن بچوں کوبچپن میں چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کے مواقعے نہیں دیے جاتے ہیں وہ بچے یا بچیاں اگے جاکرعملی زندگی میں کسی کام کے اہل نہیں ہوتے ہیں اوران کو اپنی جاب و گھریلو زمہ داریوں کو نبھاتے اور ان کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں بہت سی دوشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہےاوروہ  کسی بھی قسم کا فیصلہ لیتے وقت ہمیشہ ایک کشمکش کا شکار رہتے ہیں اس کے برعکس جن بچوں یا بچیوں کو بچپن سے ہی فیصلہ سازی کا تصوردیکران کواس عمل کا عادی بنایا جاتا ہے تووہ بچے یا بچیاں نہ صرف اگے جاکر اپنی زندگی کے تمام فیصلے پراعتمادی سے کرتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہمیشہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی سے لیکرگھریلو زندگی تک کے تمام مرحلوں میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔۔ (جاری


شیئر کریں: