Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چین اور پاکستان کی باہمی تعاون پر مبنی تزویراتی شراکت داری ہر آزمائش پر پورا اتری ہے‘ عمران خان

شیئر کریں:

چین اور پاکستان کی باہمی تعاون پر مبنی تزویراتی شراکت داری ہر آزمائش پر پورا اتری ہے‘ عمران خان

بیجنگ(سی ایم لنکس)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان آزمودہ دوست ہیں، پاکستان اور چین کے تعاون پر مبنی تزویراتی شراکت داری ہر آزمائش پر پورا اتری ہے،چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن کا تعاون قابل تحسین ہے،سی پیک سیدونوں ملکوں کے عوام مستفید ہو رہیہیں، سی پیک کے جلد مکمل ہونے والے منصوبوں سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے جمعہ کو دورہ چین کیدوران چین کے قومی ترقی و اصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین ہی لی پنگ سے ورچوئل ملاقات کی۔ ملاقات میں چین کے سیاسی مشاورتی کونسل کے وائس چیئرمین بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سی پیک کے جاری منصوبیاور مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اراکین اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جبکہ ہی لی پنگ کے ہمراہ وائس چیئرمین ننگ جیزی اور تانگ ڈینگ جی، این ڈی آر سی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ چین اور پاکستان آزمودہ دوست ہیں۔پاکستان اور چین کے تعاون پر مبنی تزویراتی شراکت داری ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔

کووڈ۔19 کی وبا کے باوجود دونوں ملکوں کے تعاون کے باعث سی پیک منصوبوں پرکام جاری رہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے قومی ترقی اورا صلاحاتی کمیشن کا تعاون قابل تحسین ہے۔ سی پیک،بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) منصوبے کا ایک اہم جزو ہے۔سی پیک سیدونوں ملکوں کے عوام مستفید ہو رہیہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے جلد مکمل ہونے کے منصوبوں سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سی پیک منصوبوں نے ملک کے پائیدار معاشی ترقی کی ٹھوس بنیاد رکھی ہے اور ان منصوبوں نے پاکستان کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کی تزویراتی اہمیت دونوں ملکوں کے لئے ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے عوام کو فوائد حاصل ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں فریق گوادر کو خطے کا معاشی مرکز بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ایم ایل ون اور دوسرے اہم توانائی منصوبوں کو ترجیح بنیادوں کے طور پر لیا جائے گا۔

اس موقع پر چین کے قومی ترقی و اصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین ہی لی پنگ نے کہا کہ چین سی پیک منصوبوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور چین سی پیک منصوبوں پر تیز رفتار پیشرفت کے لئے پرعزم ہے۔ گزشتہ 7 سالوں میں چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی مجموعی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی رفتار کو برقرار رکھنے کیخواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ این ڈی آر سی اور تمام متعلقہ چینی ادارے سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لئے چینی، سرکاری اور نجی اداروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس سلسلہ میں دونوں اطراف میں نئے گرین، ڈیجیٹل، صحت، تجارت اور صنعتی راہداریوں کا فیصلہ کیا تھا جس سے ان شعبوں میں شعبہ جاتی تعاون میں اضافہ ہو گا۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھرپور حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی آر سی نے صنعت، زرعی جدیدیت، سائنس و ٹیکنالوجی، سماجی و اقتصادی ترقی میں مدد کے لئے چین کی رضا مندی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے سرمایہ کاری بورڈ اور این ڈی آر سی کے درمیان صنعتی تعاون کے فریم ورک کے معاہدے پر دستخط کا خیر مقدم کیا جو کہ چین کی صنعتی اکائیوں کو سی پیک، خصوصی اقتصادی زونز میں منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرے گا اور سرمایہ کاری میں تیزی آئے گی۔دونوں فریقین نے گوادر پر 16 ویں جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس کے منٹس پر دستخط کئے۔ پاکستان کی جانب سے منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات کے وفاقی وزیر اسدعمر اور چین کی جانب سے این ڈی آر سی کے وائس چیئرمین ننگ جینزی نے دستخط کئے


شیئر کریں: