Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خلتی جھیل، خاطرخواہ پذیرائی نہ ملنے کا ذمہ دار کون؟ ۔جان نظاری گلگت

شیئر کریں:

خلتی جھیل، خاطرخواہ پذیرائی نہ ملنے کا ذمہ دار کون؟ ۔جان نظاری گلگت

حالیہ دنوں گلگت کی ایک مقامی اخبار پڑھنے کا موقع ملا، عین فرنٹ پیج پے جب میری نظر پڑی تو، خلتی جھیل کے حوالے سے تحصیل گوپس کے عوام کا تاثرات کسی نے قلم بند کرایا تھا۔ سب سے پہلے وہ پڑھنے کو ضروری سمجھا۔ عوامی تاثرات کچھ یوں تھے۔ حکومت کی نااہلی کیوجہ سے اس سونے کی کان جیسی جھیل کو وجود میں آئیں اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی دنیا میں کوئی خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی۔ یقیناً قارئین یہ تاثرات پڑھ کے ایک دفعہ ضرور سوچ چکے ہوں گے، مقامی افراد خود کو کتنی چالاکی سے بَرِی الذِّمَّہ سمجھ کے سارا ملبہ حکومت پے ڈال رہیں ہیں۔ اس ردعمل کو سمجھانے کے لئے یہاں پے امریکہ کے اپنے دور کا مشہور صدر مسٹر جون کینیڈی کے اس تاریخی تقریر کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، جو وہ صدارت کا حلف لینے کے فَوراً بعد عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا۔ ان کے وہ تاریخی جملے کچھ یوں تھے۔


"Ask not what your country can do for you, ask what you can do for your country." It was a very clear & transparent call to action for the public to do what is right for the greater good of the state.


اور اپنے دیس میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں پے عوام کا ماننا ہے، وہ اپنے جگہوں سے ہلے تک نہیں اور سرکار چل کے گھر آئیں اور ان کا مسائل گھر کے دہلیز پے حل کر کے چلی جائے۔ یہ خواب کی حد تک تو ٹھیک ہے، اس کا حقیقت سے دور دور تک کا تعلق نہیں۔ یہاں پے ایک نظر خلتی جھیل کی تاریخ اور اس کے چند چیدہ چیدہ خصوصیات کی طرف دوڑاتے ہیں۔ 26 جولائی 1980 کو ایک موسلا دھار بارش ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں جنڈروٹ نالے سے پانی کا بہاو سیلاب کا شکل اختیار کر جاتا ہے اور یوں یہ سیلاب دریا غذر جو خلتی اور گمیس کے درمیان سے ہوکے نیچے بہتا تھا، کا آخری حصہ مکمل بند کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ بہتا دریا جھیل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ اس دن سے یہ جھیل اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد اور نایاب ہونے کے باوجود بھی بین الاقوامی یا ملکی سطح پے تو کیا علاقائی سطح پے بھی کوئی خاطر خواہ پذیرائی حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ اس جھیل کی حدود عنقریب 90 ایکڑ کے لگ بھگ ہیں۔ گہرائی لگ بھگ 35 میٹر کے قریب ہیں۔ لمبائی 2500 اور چوڑائی 500 میٹر کے آس پاس ہیں۔ اس جھیل کی وجہ شہرت مذکورہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے، یہ پورے گلگت بلتستان میں وہ واحد جھیل ہے، جہاں پے دنیا کی نایاب ترین مچھلی کی نسل یعنی ٹروٹ فش وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم عطا آباد جھیل کو دیکھے تو یہ ان تمام خصوصیات سے قاصر شاید آج سے کوئی محض گیارہ سال قبل وجود میں آئی ہے اور اس کی پذیرائی کا اندازہ اس جھیل میں ہونے والے سرگرمیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس سطح پے اس جھیل کو پذیرائی ملی ہے، یہ صرف اور صرف ایک باشعور اور بصیرت والی قوم ہی کے لئے ممکن ہے. ورنہ یہ بھی تحصیل گوپس کے عوامی حلقے کیطرح گورنمنٹ یا آسمانی مدد کے انتظار میں رہتے تو شاید وہاں پے بھی دور جدید کی کشتیاں تو کیا دیسی ساختہ جالا بھی میسر نہ ہوتی۔ یہ سب ان کی ایک زندہ، باشعور اور محنت کش قوم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


اللہ تعالٰی نے بھی قرآن مجید میں بڑی واضح انداز میں فرماتے ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ: (الرعد: 11)


ترجمہ: یقینا اللہ کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا، جب تک کہ وہ خود نہیں بدل دیتے اُس (کیفیت) کو جو اُن کے دلوں میں ہے۔
اس آیت سے ہمیں واضح سبق ملتا ہے۔ جب تک ہم اپنی باطنی کیفیت کو بدلیں گے نہیں، اس کے لیے محنت نہیں کریں گے، تو اللہ کی طرف سے بھی ہمارے حالات بدلنے میں غیبی مدد میسر نہیں آئیں گی اور ہم انفرادی و اجتماعی طور پہ ترقی نہیں کر پائیں گے، زندگی کے معاملات میں آگے نہیں بڑھ پائیں گے اور یوں مشکلات آسانی کی شکل اختیار نہیں کر سکیں گے۔ مولانا ظفر علی خان نے بھی اس آیت کی ترجمانی اپنے اس خوبصورت شعر کے ذریعے کچھ اسطرح سے کی ہے۔
“خدا نے آج  تک  اُس  قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا”


قرآن مجید کے اس جامع آیت اور مولانا ظفر علی خان کے اس انتہائی خوبصورت شاعری کو پڑھنے اور جاننے کے بعد بھی اگر ہم خود کو بدلنے پے غور نہیں کر پاتے ہیں، تو غلامی اور ناکامی کو ہمارا مقدر بننے سے دنیا کی کوئی بھی طاقت نہیں روک سکتی۔ دنیا کی تاریخ ایسے مثالوں سے بھری پڑی ہے، جسمیں سرفہرست پاکستانی قوم ہی ہمارے سامنے ایک ناقابل تردید مثال کی شکل میں موجود ہے۔ اگر آج ہم چائنہ اور پاکستان کے آزادی کی تاریخ اور ترقی کا موازنہ کریں تو اس آیت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ حالیہ دنوں خلتی جھیل میں ونٹر سپورٹس فیسٹیول کا انعقاد ہونا تھا، یہ پچھلے سال وزیراعلٰی گلگت بلتستان جناب خالد خورشید کے موجودگی میں ان کے کہنے پے صوبائی سطح پے کلینڈر ایونٹ اعلان ہوا تھا۔ اس سال کچھ عوامل کیوجہ سے، جس میں عوام اور لوکل ایڈمنسٹریشن کی ناکامی سرفہرست ہے، اس ایونٹ کا انعقاد نہیں ہو پایا۔ ایونٹ کے منتظمین اور نوجوان طبقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پچھلے 48 دنوں سے تیاری کرنے کے باوجود ایونٹ منسوخ ہوا اور اس فیسٹیول سے متعلقہ تیاریاں رائیگاں چلی گئی۔ جس میں انتظامی تیاریوں سمیت مالی نقصان شامل ہیں۔ جب تک ہم مذہب، فرقہ پرستی، سیاسی وابستگی، علاقہ پرستی، قومیت اور ذاتی اختلافات سے مکمل بالاتر ہوکے ایک خاندان کے مانند معاشرتی ناانصافی اور علاقائی بہبودی کے لئے اجتماعی طور پے ہم آواز ہو کے اپنا اپنا مثبت کردار ادا نہیں کرتے ہیں، اس تسلسل کو روکنا مشکل تو کیا ناممکن ہے۔ اس حوالے سے امریکی ایڈمرل ویلیم ایچ میکراوین کا ایک مشہور قول ہے۔


If you want to change the world, start off by making your bed.
یہ اب وقت کی اشد ضرورت ہے، ہمیں سرکار یا دوسرے متوقع اتھارٹی کو قصوروار ٹھہرانے یا اپنے مسائل کی حل کے لئے ان کیطرف دیکھنے کے بجائے اپنے مسائل کی ذمہ داری خود قبول کریں اور ان کے مناسب حل خود سے تلاش کرنے کی عادت اپنائیں۔ جس دن ہم اس پالیسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے، ہماری ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں خود سے راہ فرار اختیار کریں گے۔ ہم تب جاکے اپنے مسائل حل کرنے میں کامیابی حاصل کر سکیں گے اور متعلقہ اداروں کو بھی باور کراسکے گے کہ وہ ہماری مدد کے لئے آگے بڑھے۔ اس لئے میرا اپنے عوامی حلقوں سے گزارش ہے، تبدیلی کی شروعات اپنے گھر کے دہلیز سے کریں نہ کہ اس کار خیر کے لئے سرکار کے انتظار میں وقت ضائع کریں۔ اگر خلتی جھیل بیش بَہا خصوصیات کو اپنی آغوش میں سمیٹنے کے باوجود بھی دنیا کی نظر سے آج بھی اوجھل ہے، تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں وہاں کے باسی ہیں۔ جب تک ہم اپنے مسائل کا حل اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے نہیں ڈھونڈتے، جب تک اس مقصد کی حصول کے لئے ہم وقت کی قربانی نہیں دیتے، کوئی بھی فرد واحد یا سرکار ہماری مدد کے لئے آگے نہیں آئیں گی۔ اب بھی وقت ہے ہمیں پچھلے غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے، اس جھیل کو اس ریجن میں چاروں موسموں کے لئے سیاحت کا مرکز بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ خلتی جھیل پورے گلگت بلتستان میں سرمائی کھیلوں کے لئے محض موزوں ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ مجھے امید ہے اگلے سال عوامی حلقہ سمیت مقامی انتظامیہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کنجوسی نہیں کرے گی۔


شیئر کریں: