Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صدارتی نظام کی پیشنگوئیاں ۔(اکبر حسین)

شیئر کریں:

رواں سال کے وسط تک تحریک انصاف کی حکومت اپنی  مدت کا تقریباً 80 فیصد حصہ مکمل کرنے جا رہی ہے۔ اگر کوئی نا دیدہ قوت آڑے نہ آئی ،خود وزیراعظم کسی سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہو جائے یا پھر اپوزیشن کی طرف سے کوئی دبنگ قدم نہ اٹھایا گیا تو قرین قیاس یہی ہے کہ خان صاحب  بطور وزیراعظم اپنی آئینی مدت یعنی پانچ سال پوری کر لے۔یہ ہماری پارلیمانی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے جواب تک ہم عبور کرنے سے قاصر ہیں۔
ملک کے پہلے وزیراعظم  قائدملت لیاقت علی خان ایک غیر ملکی شدت پسند کے ہاتھوں جب شہید ہوئے تو اس وقت  عہدے کا چارج سنبھال کر آپ کے چار سال اور تیرسٹھ دن ہو گئے تھے۔


جنرل ضیا الحق نے جب فوجی طاقت کے بل بوتے پر ملک کی منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کیا تو اس وقت بھٹو صاحب  کو “ادھر” والی پاکستان کے  وزیراعظم کی کرسی سھنبالے  تین سال اور  325دن ہو چکے تھے۔ اس کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے اپنی ایک ہی مدت صدارت میں جنرل ضیاء کی اختراع، آرٹیکل 58(2b) کو بروئے کار لاتے ہوئے بالترتیب محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومتوں کو آئینی مدت پوری ہونے سے  دو یا تین سال پہلے ہی چلتا کر دیا۔ بےنظیر بھٹو کو دوسری مرتبہ صدر فاروق لغاری نے غلام اسحاق خان کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اسمبلی و کابینہ سمیت گھر کا راستہ دکھایا تو اس وقت اس کی مدت کے بمشکل تین سال اور سترہ دن گزر گئے تھے۔ 1997 کی عام انتخابات میں میاں نواز شریف بھاری مینڈیٹ سے دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن دو سالوں کے اندر ہی سپہ سالار وقت سے اس کا نہ بن پایا۔ اکتوبر 1999 کو فوجی طالع آزما جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور ساتھ ہی آئین کو بھی متروک کر دیا۔

جنرل مشرف اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ کسی حد تک خود کو ایک نابغہ روزگار سیاستدان کے طور پر منوانے کی کوشش بھی کی۔ اپنی پالیسی بیان میں ہی انہوں نے جمہوریت کے قریب تر نظام کا عندیہ دیا تھا۔ اقتدار چھین لینے کے تین سال بعد ہی انہوں نے ملک میں عام انتخابات کروایا جس میں اس کی منظور نظر جماعت مسلم لیگ ( ق) کو وفاق میں حکومت بنانے کا موقع ملا ۔ مشرف نہ صرف پارلیمنٹ سے ووٹ کے ذریعے خود کو صدر چنوا لیا بلکہ آئین میں سترھویں ترمیم کے ذریعے سے اسمبلی اور کابینہ کو برطرف کرنے کا استحقاق بحال کر لیا لیکن ایسے فیصلے کو پندرہ دنوں کے اندر عدالت عظمیٰ ریفر کرنے اور تیس دنوں میں حتمی فیصلہ دینے سے مشروط کر دیا گیا۔ گو کہ مشرف ایک فوجی آمر تھا لیکن یہ انہی کا دور تھا جب تاریخ میں پہلی بار قومی وصوبائی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کر لیں۔ اپنی نیم جمہوری روش اور سیاسی جماعتوں کی دباؤ سے مشرف ملک میں عام انتخابات کروانے پر مجبور تھے۔ لہذا ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مرکز میں اکثریت حاصل کی اور سید یوسف رضا گیلانی صاحب وزیراعظم منتخب ہوئے۔ دریں اثنا پرویز مشرف کو بھی مواخذے سے بچنے کے لیے صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ گیلانی صاحب کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر چار سال اور تین مہینے ہونے کو ہی تھے کہ توہین عدالت کیس میں اسے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔


میثاقِ جمہوریت کے نام سے ملک کے دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی طرف سے ملک میں جمہوریت بحال کر نے اور اقتدار تک دوبارہ رسائی کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پاگیا تھا۔ اس کی رو سے تیسری بار وزیراعظم بننے کی آئینی قدغن کو پیپلز پارٹی کے دور میں آٹھارویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ چنانچہ 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کی کامیابی سے میاں محمد نواز شریف تیسری بار وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے۔منتخب وزیراعظم کو عہدے پر فائز ہوئے چار سال اور لگ بھگ دو مہینے ہوئے تھے کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پانامہ کیس میں سزا سناتے ہوئے کسی بھی پبلک آفس کے لیے تا حیات نا اہل قرار دے دیا۔


2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی ملی تو ابھرتے ہوئے سیاسی جماعت کے سربراہ جناب عمران خان صاحب وزیراعظم منتخب ہوئے۔ خان صاحب ملک میں کرپشن اور حسب حال کی سیاست کو مات دینے کا مصمم ارادہ لے کر آئے تھے لیکن تاحال اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔  یہ بھی ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ اپنی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے لئے عام انتخابات میں زیادہ تر روایتی قابل انتخاب سیاستدانوں پر ہی خان صاحب کو انحصار کرنا پڑا۔ پارلیمانی نظام کی مجبوری یہ ہے کہ اس میں وزیراعظم کو اپنی کابینہ بناتے ہوئے منتخب افراد کو چننا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خان صاحب کو ٹیم تشکیل دیتے وقت کافی دقت اور پس وپیش سے کام لینا پڑا اور بلا چون وچرا ماضی میں آزمائے ہوئے چہروں کو ہی کابینہ کا حصہ بنا دیا گیا۔
حال ہی میں میڈیا میں صدارتی نظام متعارف کرانے کی چی میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ چونکہ خان صاحب موجودہ نظام سے ہی مطمئن نہیں ہیں جہاں پر وہ ٹھیک طرح سے ڈیلیور نہیں کر پا رہے ہیں۔ لہذا مقتدر حلقوں کی طرف سے پس پردہ کہیں صدارتی طرز حکومت رائج کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے ایسے کسی منصوبے سے لا علمی کا بار بار اظہار کیا جا رہا ہے۔


میڈیا میں بھی یہ موضوع آج کل زیر بحث ہے۔ سیاسی دانشور ، صحافی، تجزیہ کار حتیٰ کہ عام آدمی بھی پارلیمانی اور صدارتی نظام کا موازنہ کر رہے ہیں۔ بعض لوگ صدارتی نظام کو ملک کے لیے بہتر قرار دیتے ہیں اور بعض اس پارلیمانی نظام کو ہی اصلاحات کے ساتھ مضبوط خطوط پر استوار کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ پارلیمانی نظام کی بھی  اپنی خوبیوں کے ساتھ خامیاں اور کچھ قباحتیں ہیں۔ ایسا ہی صدارتی نظام بھی مثبت پہلوؤں کے ساتھ کچھ کمزوریاں  رکھتا ہے۔  ہماری جمہوری روایات زیادہ تر علاقائیت اور لسانیت کے گرد ہی گھومتی ہیں چنانچہ صدارتی نظام حکومت میں فائدہ تو بڑی وفاقی اکائیوں اور لسانی گروہوں کو ہی ہو سکتی ہے۔


مملکت خدا داد کی تاریخ تو ویسے بھی مختلف قسم کے سیاسی تجربات سے بھرپور ہے تو کیوں نہ اس تجربے کا خطرہ بھی مول کر ایک بار دیکھا جائے؟ صدارتی نظام کے مخالف یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ صدارتی نظام دو تین بار پہلے بھی آزمایا گیا ہے۔ سیاسیات اور تاریخ کی ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھےان سے اس نکتے پر تھوڑا اختلاف ہے۔ چونکہ جنرل ایوب والا صدارتی نظام اس لیے خالص نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ ایک فوجی آمر کے ذہن کی پیداوار تھی۔ جنرل ضیاء اور مشرف ایڈمنسٹریشن کے لیے تو نیم صدارتی اصطلاح ہی موزوں ہے۔ ہر چند کہ دونوں کے پاس اختیارات کی کوئی کمی نہیں تھی۔


نظام پارلیمانی ہو یا صدارتی اس کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف جمہوریت کے اصولوں پر من و عن عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔ افراد میں جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے، لوگوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے، اداروں کے اندر جمہوری روایات کا احترام اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری بنیادوں کو مضبوط کرنے سے ہی ایک خالص جمہوری نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک جمہوریت کی درجہ بندی کا تعلق ہے تو اس کے عموماً چار اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں خالص جمہوریت، ناقص جمہوریت،ہائبرڈ جمہوریت اور استبدادی جمہوری نظام شامل ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تیسرے درجے کی جمہوریت رائج ہے۔
تو بات ہو رہی تھی صدارتی نظام متعارف کرانے کی۔ اگر موجودہ حالات میں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی طرح سے ایک پر اثر سیاسی مفاہمت پیدا کی جائے تو آئینی طریقے سے کوئی “پیرےڈائم” شفٹ ممکن ہو سکتا ہے۔
اگر ایک خالص صدارتی نظام جس میں حکومت و ریاست کے سربراہ کو اگر لوگ براہ راست حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے منتخب کر لیں تو ایسے نظام پرلوگوں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔


ان قیاس آرائیوں کے بیچ حالیہ کچھ قانونی و سیاسی نوعیت کے واقعات بھی دلچسپی اور اہمیت کے حامل ہیں۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب احسن بھون صاحب نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کے تا حیات نا اہلی کے مسئلے کو عدالت لے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں اٹارنی جنرل صاحب کا یہ بیان کہ “اس مسئلے کو پارلیمان میں ہی لے جایا جا سکتا ہے” کسی بڑی سیاسی مفاہمت کا اشارہ دے رہا ہے۔ فی الحال تو یہ سب چی میگوئیاں ہیں لیکن آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کو نسی کروٹ بیٹھتا ہے؟


شیئر کریں: