Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جہنم – تحریر- میر سیما امان

شیئر کریں:

Utopia # 5 ۔۔

جہنم – تحریر- میر سیما امان


کبھی کبھار میں سوچتی ہوں کہ بچپن میں ہماری ماؤں نے جہنم کی اگ سے ہمیں ڈرانے کے بجائے ”پچھتاؤں کی اگ سے ہمیں ڈرایا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے،کس قدر عجیب بات ہے کہ اُس اگ سے تو ہمیں با رہا خوفزدہ کیا جاتا رہا جس سے رہائی ممکن ہے کیونکہ اللہ ربٔ العزت ” معافی ” دینے والا ذات ہے۔لیکن افسوس کہ ہماری تربیت کے دنوں اس اگ کا ہمیں ہلکاسا اِشارہ بھی نہیں دیا جاتا جس میں ادمی ایک بار مُبتلا ہونے پر راکھ بنے بغیر رہائی نہیں پاتا۔۔ ہاں اگر پچھتاؤں کی اگ سے ہمیں بچنے کی ترغیب ملی ہوتی تو دنیا میں کوئی شخص خطاوار نہ ہوتا۔نہ ہی ماضی کی خطاوں پر پیشمان ہوتا۔۔

دُنیا انسانوں کی بنائی ہوئی جہنم نہ بنتی۔۔ اور آدمی آخرت کے جہنم کا ” ایندھن ” نہ بنتا۔۔۔۔۔ انسانی زندگی کا بد ترین المیہ ہی یہ ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں پر رب سے تو معافی مل جاتی ہے مگر انسانوں سے نہیں۔۔اللہ کہتا ہے تم پہاڑ برابر بھی گناہ کرلو لیکن پھر ایک بار آ کر مجھ سے معافی مانگ لو میں معاف کروںگا چاہے تمھارے گناہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں یا اونچے پہاڑوں کے برابر بس ایک بار معافی مانگ لو اللہ نے معافی کا اعلان کر رکھا ہے۔۔لیکن انسان نہیں کرتا کر ہی نہیں سکتا۔۔اپ کسی کے ساتھ کتنا ہی اچھا ہو جاو۔کتنے ہی نیک ہوجاو۔لوگ آپکو آپکی غلطیاں بھولنے نہیں دیتے ۔۔

ہمارے معاشرے میں چور ڈاکو اور بد ذات بن کر رہنا بہت آسان ہے کیونکہ معاشر ہ اسکی اجازت دیتا ہے ۔ادمی برا بننا چاہے معاشرہ اسکو راستے دے دیتا ہے لیکن اچھائی کا راستہ نہیں ملتا ۔۔ادمی برائی سے نکل کر اچھائی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو اس پر راستے تنگ کردیے جاتے ہیں اسے واپس اند ھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔۔ آدمی جینا چاہتا ہے معاشرہ اسے اسکی ماضی کی قبر میں دفناتا رہتا ہے ۔ ۔کبھی کبھار مجھے یہ سوچ کر بھی حیرت ہوتی ہے کہ فرعون کو عبرت کا نشان کیوں بنایا گیا۔۔کیونکہ وہ خدا بننے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔وہ اس دور کا واحد ایک شخص تھا جو لوگوں کے لیے خدا بن بیٹھا تھا اور اللہ نے اسے قیامت تک کے لیے عبرت کا نشان بنادیا۔اج ہر شخص اپنی ذات میں فرعون ہے دوسروں کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے والا ۔دوسروں کی غلطیوں پر سزا دینے والا دوسروں کی ہر ہر حرکت پر بکواس کرنے والا فرعون ۔۔

دوسروں کی گناہوں کی لسٹ یاد رکھنے والے اس معاشرے کو اللہ نے چھوٹ دے رکھی ہے ۔۔جانتے ہیں کیوں ۔۔کیونکہ ہم بد بختوں کو دنیا کی اس سب سے سفاک قوم کو رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہونے کے شرف نے اللہ کے قہر سے بچا رکھا ہے ورنہ مصر کے عجائب گھر میں عبرت کا نشان بننے والا فرعون تو صرف ایک ہے ہمارے عجائب گھر بھی ہماری عبرتناک مورتیوں کو سجانے کے لیے کم پڑ جاتے ۔۔۔۔


مورخہ ۱۶اکتوبر ۲۰۱۷


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
57650