Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تحصیل موڑکھو چترال کے مسائل ۔ تحریر: ظہیر الدین منیجر

شیئر کریں:

تحصیل موڑکھو چترال کے مسائل ۔ تحریر: ظہیر الدین منیجر

رب کائنات نے چترال کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں دریاؤں کی فراوانی،بلند و بالا پہاڑوں کی وسعت، جنگلات، معدنیات، دلکش سیاحتی مقامات، پُر سکون اور پُرامن ماحول اور دیگر نعمتیں شامل ہیں۔یہ سب کچھ موجود ہونے کے باوجود بھی چترال KP کا پشماندہ ترین ضلع ہے۔پسماندگی کے باوجود بھی چترال کے لوگ خوش باش، اپنے وطن سے محبت کرنے والے، پُرامن اور مہذب قوم ہیں۔اہل چترال کی عظمت کے اعتراف میں سابق صدر پاکستان جناب سید پرویز مشرف صاحب کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ دور جدید کے اس منتشر سماج میں پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع چترال میں پھلنے پھولنے والی تہذیب ہی امید کی وہ آخری کرن ہے جو اگر کھل کر سامنے آئے تو پوری دنیا کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔

کائنات کی آغوش میں یہی ایک خطہ ہے جس کی فضاؤں میں امن اور محبت خوشبو بن کر لہراتی ہے۔ تحصیل موڑکھواپر چترال کا سب سے زیادہ آبادی والا تحصیل ہے۔ جعرافیائی، تاریخی، سیاسی اور سیاحتی لحاظ سے تحصیل موڑکھو کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ موڑکھو تحصیل کا آخری حصہ وادی تیریچ جو کئی چھوٹے بڑے دیہات پر مشتمل کثیر آبادی ہے۔ مذکورہ دیہات کوہ ہندوکُش کے پہاری سلسلے اور تریچ میر کی بلند ترین چوٹی سے جاملتے ہیں۔ وادی تیریچ سے آگے پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور انسانی آبادی ختم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا تحصیل موڑکھو جعرافیائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔
تاریخی لحاظ سے تحصیل موڑکھو قدیم ریاستی حکمرانوں کا مسکن ہے۔ ان کے پرانے قلعے اور دیواریں اب بھی شان ماضی کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ شاہی خاندان کے کچھ افراد اب بھی ان قلعوں میں رہائش پذیر ہیں۔


سیاسی لحاظ سے بھی تحصیل موڑکھو کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔برصغیر میں جب تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو چترال میں سب سے پہلے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والے بھی تحصیل موڑکھو کے غیور عوام تھے۔


سیاحتی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو دنیا کے مشہور پہاڑ کوہ ہندوکش اور بلند ترین چوٹی تیریچ میربھی تحصیل موڑکھو میں واقع ہیں جوکہ ہمیشہ اندرونی اور بیرونی سیاحوں کا مرکز ہے۔ کوہ ہندوکُش کے پہاڑی سلسلے سے نکلنے والا کروڑوں کیوسک پانی جوکہ ایک بڑے دریا کی صورت میں تحصیل موڑکھو کے درمیان سے گزرتا ہے۔ اس طرح ایک بہت بڑا دریا موجود ہونے کے باوجود تحصیل موڑکھو کی 60% آبادی آبپاشی کے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ دریائے موڑکھو کو وادی تیریچ کے گاؤں زوندرانگرام سے بذریعہ ٹنل موڑکھو کی طرف لایا جائے تو پورے چترال میں زرعی انقلاب آسکتا ہے اور تحصیل موڑکھو کی کثیر آبادی بشمول قاقلشٹ کے وسیع و عریض لاکھوں جریب بنجر زمین آباد ہوسکتی ہیں۔ ہزاروں میگاواٹ بجلی کی پیداوار متوقع بلکہ یقینی ہے۔ اگر ٹنل کو کشادہ تعمیر کیا جائے تو وادی تیریچ کی کثیر آبادی کے لیے سڑک بھی تعمیر ہوسکتی ہے اور وادی تیریچ کے عوام 80 کلومیٹر دشوارگزار سڑک پر سفر کرنے کی بجائے صرف 5 کلومیٹر سفر کرکے تحصیل ہیڈکوارٹر پہنچ سکتے ہیں اور 75 کلومیٹر کا فاصلہ کم ہوجاتا ہے۔ اس طرح غریب عوام کو سفری سہولیات میسر آسکتی ہیں اور مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔


حال ہی میں ایک محترم وفاقی وزیر صاحب پیراگلائیڈنگ کے سلسلے میں تحصیل موڑکھو تشریف لائے تھے۔ انھوں نے پیراشوٹ میں اپنے پرواز کے دوران تحصیل موڑکھو کے پانی کی قلت کے شکار علاقوں، قاقلشٹ کے وسیع و عریض بنجر زمینات اور ٹنل کی جگہ کا اپنی مبارک آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔وفاقی وزیر صاحب کے پاس پاکستان کے آبی ذخائر کا قلمدان بھی ہے۔ وفاقی وزیر صاحب وطن عزیز کے عظیم ہیرو سابق صدر پاکستان جناب ایو ب خان صاحب کے چسم و چراغ ہیں۔ ہمارے اُس عظیم قائد نے قوم کے لیے بڑے بڑے ڈیمز تعمیر کیے اور ملک کو اسلام آباد جیسا خوبصورت اور انمول دارالخلافہ بنا کر دیا۔تحصیل موڑکھو کے عوام وفاقی وزیر براے آبی ذخائر جناب عمر ایوب صاحب سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ محترم وزیر صاحب اپنے خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عظیم منصوبے کی طرف توجہ دینگے اور تحصیل موڑکھو کے اس دیرینہ مسلے کو حل کرینگے۔ اور ہماری آواز وزیر آعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب تک بھی پہنچائیں گے۔


کسی بھی ملک یا علاقے کی ترقی کے لیے کشادہ اور پختہ سڑکیں ناگزیر ہیں۔ تحصیل موڑکھو تا حال پختہ اور ٹرک ایبل سڑکوں کی سہولت سے محروم ہے۔وادی تیریچ تک جانے والی ٹوٹی پھوٹی، کچی اور تنگ سڑک جو کہ 1974 میں (تقریباً 48 سال پہلے) بنی ہوئی ہے، ٹریفک کے لیے سخت خطرناک ہے۔ اس سڑک پر سفر کرنا ہر وقت خطرات سے خالی نہیں ہے۔ خاص کر برف باری یا سردیوں کے موسم میں اس راستے پر سفر کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔برف زیادہ پڑنے پر گاڑی تو کیا پیدل سفر کرنا بھی دشوار ہوجاتا ہے اور غریب عوام کو اپنی ضروریات کے حصول کے لیے اپنے علاقوں سے باہر جانا یا اپنے مریضوں کو ہسپتال پہنچانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ان حالات کا اندازہ ارباب اختیار خود لگا سکتے ہیں۔ تحصیل موڑکھو میں سڑکوں کی تعمیر وقت کا اہم تقاضا ہے۔متعلقہ اداروں اور عوامی نمائندوں کو عوام کی محرومیوں کا احساس کرنا اُن کا قومی فریضہ ہے۔


اعلیٰ تعلیم کا حصول ملک کے شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ اعلی تعلیم سے ہی معاشرے میں اتحاد اور عمدہ اخلاق پیدا کئے جا سکتے ہیں۔اعلیٰ تعلیم مسائل کے حل کی کنجی اور معاشرے اور مملکت کی تعمیر میں معاون زریعہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے ہی ایک معاشرہ اپنی بقا کو قائم رکھنے کے قابل ہوسکتا ہے اور اعلیٰ تعلیم زندگی کو خوشگوار بنانے کا ذریعہ ہے۔ تحصیل موڑکھو کے ایک لاکھ سے زائد آبادی تاحال اعلی تعلیم کی سہولت سے محروم ہے۔ تحصیل موڑکھو میں تاحال لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کوئی ڈگری کالجز نہیں ہیں اور نہ ہی یونیورسٹی کیمپس موجود ہے۔ یہاں کے طالب علموں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے لوئرچترال یا پشاور جانا پڑتا ہے۔ اکثر غریب اور قابل طالب علموں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ڈگری کالجز اور یونیورسٹی کیمپس کا قیام ایک لاکھ آبادی کا بنیادی حق ہے اور اس کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسمبلیوں میں اس اہم مسلے کے حل کے لیے آواز اٹھانا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری بلکہ ان کی فرائض منصبی میں شامل ہے۔تحصیل موڑکھو میں ڈگری کالجز اور یونیورسٹی کیمپس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔


صحت کا مسلہ بھی تحصیل موڑکھو کا ایک سنگین مسلہ ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر میں RHC تو موجود ہے لیکن اس کے اندر سہولیات کا فقدان ہے اور نہ کوئی لیڈی ڈاکٹر موجود ہے۔ اکثر مریض 90 کلومیٹر طویل سفر کرکے DHQ چترال جاتے ہیں یا پھر پشاور کے ہسپتالوں تک جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔موجودہ RHC کو THQ کا درجہ دینا، میل اور فیمیل ڈاکٹرز کی تعیناتی، ٹسٹوں کا انتظام اور ادویات کی فراہمی ایک لاکھ آبادی کا بنیادی حق ہے۔ متعلقہ اداروں کا اس سلسلے میں کردار ادا کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
موجودہ قومی حکومت نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کھیلوں کے انعقاد، پلے گراؤنڈز او ر اسٹیڈیم تعمیر کرنے پر زور دیتی ہے۔ تحصیل موڑکھو کے ہیڈکوارٹر کے نوجوان بھی تاحال پلے گراؤنڈ اور اسٹیڈیم کی سہولت سے محروم ہیں۔ یہ انتہائی دکھ اور مایوسی کی بات ہے کہ تحصیل موڑکھو کے نوجوان پرائیویٹ مقام پر معاوضہ ادا کرکے کھیل کود کرنے پر مجبور ہیں۔تحصیل موڑکھو کے ہیڈ کوارٹر میں ایک اسٹیڈیم کی تعمیر عوام کا بنیادی حق ہے۔اس مسلے کو حل کرنا متعلقہ اداروں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔


نادرا آفس کا قیام بھی تحصیل موڑکھو کے عوام کا ایک دیرینہ اور سنگین مسلہ ہے۔ قومی شناختی کارڈ اور فارم(ب) کے حصول کے لیے تحصیل موڑکھو کے لوگوں کو بونی اور لوئر چترال جانا پڑتا ہے۔ اکثر موقعوں پر غریب لوگوں کو گاڑی بکنگ کرکے دفتر جانا پڑتا ہے اور کئی کئی گھنٹوں تک دفتروں کے سامنے شناختی کارڈ اور فارم(ب) کے حصول کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے غریب لوگوں کا مالی اور وقت کا نقصان ہوجاتا ہے۔ تحصیل موڑکھو کی ایک لاکھ آبادی میں شناختی کارڈ دفتر کا قیام قانونی تقاضا ہے۔ متعلقہ اداروں، عوامی نمائندوں اور ارباب اختیار کو ان عوامی مسائل پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

chitraltimes mulkhow upper chitral


شیئر کریں: