Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نئی مردم شماری کا فیصلہ ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

نئی مردم شماری کا فیصلہ ۔ محمد شریف شکیب

مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں عام انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کرانے کی منظوری دے دی۔قیام پاکستان کے بعد ملک میں یہ ساتویں مردم شماری ہوگی۔مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری کی نگرانی کے لئے مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی۔ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کی سربراہی میں کمیٹی چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادراور دیگر افسروں پر مشتمل ہوگی۔ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مردم شماری سے قبل ملک بھر میں خانہ شماری کرائی جائے گی۔ملک میں مردم شماری کا ادارہ قیام پاکستان کے تین سال بعد 1950میں قائم ہوا تھا۔ ہر دس سال بعدمردم شماری کرانا آئینی تقاضا ہے۔

پہلی مردم شماری 1951، دوسری 1961، تیسری 1972اور چوتھی1981میں ہوئی۔ پانچویں مردم شماری1991میں ہونی تھی مگرسات سال تک التواء کاشکار رہنے کے بعد 1998میں کرائی گئی۔ اس کے بعد 19سال طویل کے وقفے کے بعد2017میں چھٹی مردم شماری کرائی گئی۔گذشتہ مردم شماری پر سندھ سمیت مختلف صوبوں کی طرف سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔مردم شماری میں ملک کی مجموعی آبادی 21کروڑ32لاکھ22ہزار917ظاہر کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کی آبادی تین کروڑ پانچ لاکھ آٹھ ہزار 920، ضم اضلاع کی 49لاکھ 93ہزار، پنجاب کی سات کروڑ36لاکھ،21ہزار، سندھ تین کروڑ چار لاکھ 39ہزار، بلوچستان 65لاکھ65ہزار،آزاد کشمیر 29لاکھ 72ہزار اور گلگت بلتستان کی آبادی 8لاکھ 84ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ ان اعدادوشمار کو اصل تعداد سے بہت کم خیال کیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کی آبادی کو ایک کروڑ، آزاد کشمیر کی آبادی کو پچاس لاکھ اور گلگت بلتستان کی آبادی کو بیس لاکھ سے زیادہ بتایاجاتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کے دوسرے بڑے ضلع چترال کی آبادی کو ساڑھے چارلاکھ ظاہر کیاگیا ہے۔

ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلی ہوئی وادی چترال کی آبادی سات لاکھ سے زیادہ ہے۔آبادی کے فرق کی وجہ سے چترال کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ختم کرکے صرف ایک نشست رکھی گئی۔اپر اور لوئر چترال کے دو اضلاع میں انتظامی لحاظ سے تقسیم کے بعد دونوں اضلاع کو صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست دینا لازمی ہے۔قومی اور صوبائی اسمبلی کے کسی امیدوار کے لئے ارندو سے لے کر بروغل، لاسپور، ریچ، شاہ سلیم تک کے وسیع و عریض علاقے کو کور کرنا انتہائی مشکل ہے۔ضلع کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں تین دن لگتے ہیں۔ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر کو ترقیاتی فنڈ کی مد میں جتنے پیسے ملتے ہیں انہیں پورے ضلع کے ہر گاؤں پر تقسیم کیاجائے تو ہرگاؤں کو چند ہزار روپے ملتے ہیں۔ ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی اس کی آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر ہی فیصلے کئے جاسکتے ہیں کہ کسی علاقے میں کتنے سکول، کالج، ڈسپنسری، بی ایچ یوز، آر ایچ سیز اور دیگر طبی مراکز درکار ہیں۔مردم شماری کی بنیاد پر ہی شرح خواندگی، فی کس آمدنی، مردوں، عورتوں اور بچوں کی تعداد، معذور افراد، عمر رسیدہ لوگوں اورمعاشی ترقی کا درست اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔مردم شماری کی بنیاد پر ہی قومی و صوبائی اسمبلی، ضلع، تحصیل، ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی حلقہ بندیاں ہوتی ہیں۔گذشتہ مردم شماری میں شہری علاقوں میں روزگاراور تعلیم کے سلسلے میں عارضی طور پر منتقل ہونے والی دیہی آبادی کو شمار نہیں کیاگیا۔ ان میں سے اکثریت کو شہری آبادی میں بھی شمار نہیں کیاگیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے علاقوں کی حق تلفی ہوئی ہے۔ آئندہ مردم شماری میں گذشتہ غلطیوں اور کوتاہیوں کو درست کرنا ہوگا۔


شیئر کریں: