Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن کمیشن نے 150 اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کردی

شیئر کریں:

اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن نے مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر 150 اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی. مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے 150 اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے، جن میں 3 سینیٹرز، 36 اراکین قومی اسمبلی، 69 اراکین پنجاب اسمبلی، 14 اراکین سندھ اسمبلی، 21 خیبرپختونخواہ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے 7 اراکین شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق جن اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں مسلم لیگ ن کے مصدق ملک سمیت 3 سینیٹرز، وفاقی وزراء فواد چوہدری، نور الحق قادری، حماد اظہر، شفقت محمود، وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزراء مملکت فرخ حبیب اور شبیر علی قریشی شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے جن اراکین کی رکنیت معطل کی ان میں سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین، فردوس شمیم نقوی، علی گوہر خان، صداقت عباسی، راجا ریاض، خالد مقبول صدیقی، یار محمد رند، میر سکندر علی، سردار اویس احمد خان لغاری، سمیع اللہ چوہدری، سلمان نعیم اور سبطین خان نیازی بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ رکنیت معطل ہونے والے اراکین اسمبلی کاروائی اور قانون سازی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

تعلیمی اداروں کے بارے میں فیصلہ مختلف اداروں کے مثبت کیسز کے ڈیٹا پر کیا جائے گا ۔این سی او سی کا اجلاس،

اسلام آباد( چترال ٹائمز رپورٹ )این پی آئیز کے نئے سیٹ کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی عمل کے بعد اگلے 48 گھنٹوں میں صوبوں کے ذریعے لاگو کیا جائے گا،تعلیمی اداروں کے بارے میں فیصلہ مختلف اداروں کے مثبت کیسز کے ڈیٹا پر کیا جائے گا۔پیر کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے صبح کے اجلاس میں وبائی مرض کے چارٹ کے اعداد و شمار،کورونا کے خلاف قومی ویکسین کی حکمت عملی اور ملک بھر میں کورونا کے پھیلاؤ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ این سی او سی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر اور نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال نے کی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی شرکت کی۔صوبائی وزرائے صحت اور تعلیم نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور این سی او سی کو این پی آئیز کے نفاذ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے تناظر میں ایس او پیز کے بارے میں بتایا۔اس کے علاوہ اومیکرون وائرس کے عالمی اور علاقائی رجحانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے این پی آئیز کا تازہ سیٹ پیش کیا گیا اور صوبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا اور این پی آئیز کے نئے سیٹ کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی عمل کے بعد اگلے 48 گھنٹوں میں صوبوں کے ذریعے لاگو کیا جائے گا۔تعلیمی اداروں کے بارے میں فیصلہ مختلف اداروں کے مثبت کیسز کے ڈیٹا پر کیا جائے گا جس کے لیے تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے این سی او سی کا اجلاس بے نتیجہ ختم


اسلام آباد(سی ایم لنکس) این سی او سی کے خصوصی اجلاس میں ملک میں کورونا وبا کے بڑھتے ہوئے تناسب کے پیش نظر تعلیمی ادروں کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان تھا تاہم آج کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ سربراہ این سی او سی اور وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت تعلیمی اداروں، عوامی اجتماعات اور شادی ہالز میں این پی آئیز کے حوالے سے این سی او سی کا خصوصی اور مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزرائے تعلیم و صحت نے شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا کی بڑھتی صورتحال اور اضافے کی صورت میں بندشوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق اور تعلیمی ادارے کھلے رکھنے پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملک میں کورونا وبا کے بڑھتے ہوئے تناسب کے پیش نظر تعلیمی ادروں کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان تھا، تاہم آج کا اجلاس بے نتیجہ ہی ختم کردیا گیا۔ اس حوالے سے این سی او سی کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں، تعلیمی سیکٹر کی صورتحال پر بات چیت کے لیے کل تازہ اعداد و شمار کے ساتھ اجلاس دوبارہ ہوگا۔دوسری جانب این سی او سی نے بڑھتی ہوئی بیماری سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کے لیے صوبوں خصوصاً سندھ حکومت کے ساتھ بڑے پیمانے پر رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ آج سے دوران پرواز کھانے کی تقسیم پر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی سنیکس اور کھانا تقسیم کرنے پر پابندی ہوگی۔
این پی آئیز کے نئے سیٹ کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی عمل کے بعد اگلے 48 گھنٹوں میں صوبوں کے ذریعے لاگو کیا جائے گا، این سی او س



شیئر کریں: