Chitral Times

Jan 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نےچترال کے دوسڑکیں سمیت متعدد منصوبوں کی منظوری دیدی

شیئر کریں:

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نےچترال کے دوسڑکیں سمیت 49866 ملین روپے کے منصوبوں کی منظوری دیدی

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے صوبے کی ترقی کے لئے 49866 ملین روپے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے ان منصوبوں کی منظوری ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ ترقی و منصوبہ سازی خیبرپختونخوا کی زیر صدارت جمعرات کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں دی جس میں متعلقہ محکموں کے سینئر افسران کے علاؤہ پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین بھی موجود تھے، اس موقع پر صوبے کی ترقی کے لیے مجموعی طور پر 33 سکیموں بشمول بلدیات و دیہی ترقی، ہاؤسنگ، کھیل و سیاحت، توانائی و برقیات اور زراعت کے شعبوں کی سکیموں کی منظوریاں دی گئیں جبکہ اجلاس میں ”خیبرپختونخوا میں انٹیگریٹڈ پیکج” کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی جس سے آبپاشی، زراعت، جنگلات، لائیو سٹاک اور صنعت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی۔

پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں منظور کردہ منصوبوں میں برکس ڈیم کی تعمیر، علاقائی جی ڈی پی/ اکنامک انڈیکیٹرز کی ترقی،، ورسک روڈ پشاور پر 5 کنال 11 مرلہ اراضی پر کثیر المنزلہ کمرشل/رہائشی عمارت کی تعمیر، ایمرجنسی ریسکیو سروسز 1122 کی تحصیل سطح تک توسیع اور خیبر پختونخوا میں سب سٹیشنز کا قیام، نئے ضم ہونے والے اضلاع کے بڑے قصبوں میں میونسپل سروسز/شہری سہولیات کی فراہمی،ضلع جنوبی وزیرستان میں سولر ٹیوب ویلز، بس ٹرمینلز کی تعمیر، شہری علاقوں میں بیوٹیفیکیشن وغیرہ، ضلع اورکزئی میں پھل اور سبزی مارکیٹ، مویشی میلہ منڈی،ذبح خانوں کی تعمیر، خیبر پختونخوا میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو مضبوط بنانا، میونسپل سروسز ڈیلیوری پروجیکٹ، کنڈل ڈیم ضلع صوابی کے سپل وے، ایگزٹ چینل اور آبپاشی کے نظام/متعلقہ اجزاء کی بہتری، برواسہ ڈیم ضلع ہری پور کی تعمیر، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے قیام کے لیے ضم شدہ علاقوں کے دینی مدارس کے طلباء کے لیے چھوٹے گرانٹس کی فراہمی، خیبرپختونخوا کے دینی مدارس میں کمپیوٹر لیبز کا قیام, ضم شدہ اضلاع میں مفت نصابی کتب کی فراہمی، کوہ سلیمانی درازندہ تک 40.0 کلومیٹر سڑک، 43 کلومیٹر شیشیکوہ مدقلشات روڈ کی اپ گریڈیشن، کمراٹ سے کالام 40.0 کلومیٹر سڑک کی تعمیر،، اضلاع ڈی آئی خان اور سوات میں پروسیسنگ یونٹس کے قیام کے ذریعے سبزیاں کھجور اور پھلوں کی پیداوار اور آمدنی کی صلاحیت کو بروئے کار لانا، ضم شدہ علاقوں میں زراعت، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ علاقوں میں مویشیوں کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے بیماریوں پر قابو پانے کا پروگرام،۔ زرعی تبدیلی کے منصوبے کے تحت نئے ضم شدہ علاقوں میں زرعی توسیعی خدمات کی بہتری، ضلع چترال میں کیلاش ویلی سڑکوں کی بحالی اور توسیع، انضمام شدہ اضلاع میں اناج کے گودام، ذیلی سکیم: ضلع کرم میں غذائی اجناس کے گوداموں کی تعمیر، تحصیل مٹہ ضلع سوات میں بی ایچ یو درمئی کو آر ایچ سی کی سطح پر اپ گریڈ کرنا، تحصیل مٹہ سوات میں بی ایچ یو صخرہ فضل بیگ گھڑی اور بی ایچ یو آغل برتانہ کا قیام، نئے 132 KV گرڈ اسٹیشنز سرہ روغہ جنوبی وزیرستان، تیراہ میدان، ماموند باجوڑ، باڑہ خیبر کوہاٹ کی تعمیر، سالانہ ڈیزائن انرجی ٹارگٹ کی بحالی کے لیے مالاکنڈ III میں ترمیم اور 132 KV تعمیر شاہ کس شامل ہیں۔


شیئر کریں: