Chitral Times

Aug 8, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستان کو کن اہم مسائل کاسامنا ہے؟ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں اہم انکشافات

شیئر کریں:

پاکستان کو کن اہم مسائل کاسامنا ہے؟ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں اہم انکشافات


اسلام آباد( سی ایم لنکس )پاکستان کو کن اہم مسائل کاسامنا ہے؟ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں اہم انکشافات۔۔گلوبل رسکس رپورٹ 2022 کے مطابق پاکستان کو5اہم خطرات کاسامنا ہے جن میں بڑھتے قرضوں کا بحران سب سے بڑا خطرہ ہے،موسمیا تی تبدیلی، اشیا کی قیمتوں میں عدم استحکام، سائبر سیکیورٹی اور شہریوں کی جانب سے پیدا کیے گئے ماحولیاتی مسائل شامل۔ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے مئی اور ستمبر 2021 تک سروے کرایا گیا جس میں 124 ممالک کی معیشت کو درپیش مسائل کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے جس میں پانچ خطرات اہم ہیں۔رپورٹ کے مطابق اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے قرضے اہم مسئلہ ہیں۔ 2021 کے آخر تک کورونا وبا نے معیشت کی مستقل بحالی شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کو بہت زیادہ متاثر کیا کورونا وبا سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل بدستور برقرار ہیں کیونکہ کورونا کے باعث 2024 تک عالمی معیشت کی گروتھ 2.3 فیصد کم ہونے کی توقع ہے۔

کورونا کی 3سالہ صورتحال میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی طویل مدتی خطرات کا زیادہ تر تعلق آب و ہوا سے ہے۔ معاشی مشکلات کے نتیجے میں بڑھتے عدم تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات اور سیاسی عدم استحکام لاکھوں لوگوں کو بیرون ملک بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر ر ہاہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پیش آنیوالے عالمی تنازعات کے باعث 2020 میں تقریباً 34 ملین سیزائدافراد اپنا گھر بار چھوڑنیپر مجبور ہوئے جو کہ یہ ایک تاریخی اضافہ ہے۔کورونا وباکی صورتحال میں ڈیجیٹل سسٹمز پر انحصار میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 18 ماہ میں صنعتوں میں تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن اور ورکرز کی گھر سے بیٹھ کر کام کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔

اس عالمی وبائی صورتحال میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں وہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی کافی حدتک اضافہ ہوا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سائبر سائبر سیکیورٹی کیخطرات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے بڑھ رہے ہیں – 2020 میں سائبر حملو ں کی شرح میں 358 فیصد سے اور435فیصد تک کا اضافہ ہواہے، ان سائبر حملوں کی روک تھام، سائبر سیکیورٹی کے پیشہ ور افراد کی کمی اور ای گورننس میکانزم کے خطرے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔صحت،معاشی اور سماجی مسائل پرنظردراڑیں تو ایک تناؤ پیدا ہوتانظر آتا ہے۔ ان تمام مسائل پر عالمی برادری کے تعاون سے ہی قابو پایاجاسکتاہے ڈبلیو ای ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سعدیہ زاہدی کا کہنا تھا کہ عالمی رہنماؤں کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور آئندہ آنے والے بحرانوں سے نمٹنے کیلئے ملکر ایک مربوط لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: