Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضمنی مالیاتی بل کے 90 فیصد ٹیکس قابل واپسی ہیں، صرف پرتعیش اشیاء پر ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ حماد

شیئر کریں:

حکومت نے ورثے میں ملنے والی دیوالیہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کردیا ہے
ضمنی مالیاتی بل میں 90 فیصد ٹیکس صارفین تک منتقل نہیں ہوں گے، بعض اپوزیشن ارکان ضمنی مالیاتی بل کے ذریعے معیشت کو دستاویزی بنانے کی حمایت کر رہے ہیں، حماد اظہر


اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور سے ورثے میں ملنے والی دیوالیہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کردیا ہے، ضمنی مالیاتی بل کے 90 فیصد ٹیکس قابل واپسی ہیں، صرف پرتعیش اشیاء پر ٹیکس لگائے گئے ہیں جن کا عوام پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت پاکستان میں متعدد ممالک سے بہت کم ہے، 2019ء کے بعد سے گیس کی قیمت نہیں بڑھائی گئی ہے، دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں ڈی اے پی کی قیمت پانچ گنا کم ہے، عوام تک حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی بات پہنچانا ہمارا مقصد ہے، اپوزیشن جتنا پروپیگنڈہ کرے یا شور مچائے ہم ریڑھی والوں اور ملازمین کے اکاؤنٹس سے پیسہ نکالیں گے کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ضمنی مالیاتی بل پر اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ہم نے تحمل سے قائد حزب اختلاف اور بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر سنیں لیکن جب ہم اس کا جواب دینے کے لئے آئے تو اس طرح بھاگے جس طرح کالا چور چوری کرکے بھاگ جاتا ہے، ان میں حوصلہ، صبر اور ہمت نہیں ہے جو حقائق کا سامنا کر سکیں اور ہمارا جواب سن سکیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ مسلم لیگ ن جو معیشت چھوڑ گئی تھی وہ بیمار نہیں بلکہ دیوالیہ معیشت تھی، ہم واجب الادا قرضے تک ادا نہیں کر سکتے تھے۔ دوست ممالک سے معاونت لے کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا۔ ہمیں حسابات جاریہ کے ریکارڈ خسارے کا سامنا کرنا پڑا، سخت فیصلوں کے ذریعے معیشت کو سنبھالا گیا، کووڈ۔19 کی وبا اور معاشی مشکلات کے باوجود گزشتہ سال جی ڈی پی کی بڑھوتری کی شرح چار فیصد تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کووڈ۔ 19 کی عالمگیر وبا کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے دانشمندانہ فیصلے کئے۔ اپوزیشن کے رہنماؤں نے لاک ڈاؤن کے ذریعے ملک کو بند کرنے کی حمایت کی تھی، اگر ہم ان کی بات مانتے تو مہنگائی پانچ گنا زیادہ ہوتی۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور جرائد نے پاکستان کی پالیسی کی تعریف کی ہے۔ عالمی جریدہ اکانومسٹ نے پاکستان کو ان سرفہرست ممالک میں شامل کیا ہے جہاں کورونا وائرس کی وبا کے بعد زندگی سب سے زیادہ تیزی سے معمول پر آئی ہے۔ حکومت نے ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر کورونا وائرس کے حوالے سے پالیسیاں بنائیں آج ساری دنیا ہماری بات کو تسلیم کر رہی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کے برعکس جی ڈی پی کی شرح سے قرضوں کے تناسب میں پاکستان میں کمی آئی ہے، یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ہماری حکومت نے بجلی کی پیداواری کمپنیوں سے دوبارہ معاہدے کئے جن سے ملک کو کئی سو ارب روپے کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کارکے کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہماری حکومت نے ختم کرایا۔ ایل این جی پر موجودہ حکومت نے اسی کمپنی کے ساتھ سستے معاہدے کئے جن کے ساتھ مسلم لیگ ن نے مہنگے معاہدے کئے تھے۔ ملکی برآمدات میں 25 سے 30 فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے اور اس سال ہماری برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح کو عبور کر جائیں گی۔ماضی کی حکومتوں کی غلطیاں ہم نے درست کی ہیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے۔ فنانشل ٹائمز نے کل اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امیر ترین ممالک میں 25 برسوں میں مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد کے قریب تھی، ہمیں مہنگائی کا احساس ہے اس سے غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔ اگر اس کا صحیح تجزیہ کیا جائے تو کووڈ۔19 کی عالمگیر وبا کی وجہ سے رسد میں جو خلل آیا ہے اس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اگر ہم کارخانے بند کرتے تو مہنگائی کی شرح اس سے زیادہ ہوتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت معاشی طور پر غریب اور پسماندہ طبقات میں 200 ارب روپے تقسیم کئے گئے جس سے کروڑوں خاندانوں نے استفادہ کیا۔ خیبرپختونخوا کے بعد انصاف صحت کارڈ کی سہولت باقی صوبوں میں بھی فراہم کی جارہی ہے۔ انصاف صحت کارڈ کے ذریعے ہر شخص کو دس لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولت فراہم ہو رہی ہے۔ یہ حکومتی پیسے کا بہتر استعمال ہے۔ آج اچھے ہسپتالوں میں بھی غریبوں کا علاج ہو رہا ہے۔ سندھ میں بھی ہم یہ نظام لاگو کرنا چاہتے ہیں لیکن سندھ حکومت اس میں معاونت فراہم نہیں کر رہی۔ میں سندھ حکومت سے ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں۔ حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ سال معیشت کی ترقی کی شرح 4 فیصد اور اس سال 5 فیصد ہوگی۔رواں سال ٹیکس وصولیوں کا حجم 6 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء سے 2018ء تک صنعتی طور پر پاکستان سکڑ رہا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے دور میں درآمدات کا سیلاب آیا جس نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 15 فیصد تک کی بھی بڑھوتری ہوئی ہے۔ پاکستان دوبارہ انڈسٹریلائزیشن کی طرف جارہا ہے۔ مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جو بہترین صنعتی پالیسی کی عکاسی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام فصلوں کی پیداوار میں مسلم لیگ (ن) کے دور کے مقابلے میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال گندم، چاول، چنا اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوگی۔ ماضی میں کسانوں کو ثمر نہیں پہنچتا تھا، موجودہ حکومت نے شوگر کارٹلز کو توڑا ہے۔ گنے کی امدادی قیمت کو 130 روپے سے بڑھا کر 300 روپے تک پہنچایا گیا ہے اسی طرح گندم کی امدادی قیمت 13سو سے بڑھا کر 1800 اور 2000 تک لے کر گئے ہیں۔

کاٹن کی امدادی قیمت میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ہماری حکومت نے کسانوں کو سہارا دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یوریا کی کمی کو ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں یوریا کی پیداوار 2021ء میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال یوریا کی ریکارڈ فروخت بھی سامنے آئی ہے۔ عالمی منڈی میں ڈی اے پی کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس پر پاکستانی کسانوں نے یوریا کا استعمال بڑھا دیا۔ اس سے یوریا کی طلب میں اضافہ ہوا۔ پہلی مرتبہ نومبر میں پاکستان میں فرٹیلائزر کے پلانٹس چلائے جارہے ہیں اور اس وقت 20 سے 25 ہزار ٹن یوریا کی پیداوار ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی بھی یوریا کی قلت کی ایک وجہ ہے۔ سندھ میں چینی اور گندم چوہے کھا جاتے ہیں۔

سندھ میں کرپشن نے ریاست کے نظام کو کمزور کردیا ہے۔ یہ بات میں نہیں بلکہ عدالت عظمیٰ کے محترم جج صاحبان کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے مختلف اشیاء پر ٹیکسوں کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کے دعوے کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ انہیں حقائق کا علم نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ضمنی مالیاتی بل میں 90 فیصد ٹیکس صارفین تک منتقل نہیں ہوں گے بلکہ یہ ری فنڈ یا ایڈجسٹ ہو سکتے ہیں۔ 300 ارب روپے کے ٹیکس میں سے 270 ارب کے ٹیکس ری فنڈ ایبل اور ری ایڈجسٹ ایبل ہیں۔ ضمنی مالیاتی بل کے ذریعے معیشت کو دستاویزی بنایا جارہا ہے، مجھے خوشی ہے کہ اپوزیشن کے بعض اراکین بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ جو ٹیکس لگایا جارہا ہے وہ پرتعیش اشیاء پر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے توانائی پر بھی بات کی ہے، ہمارے لیڈر کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نہیں نکل رہے۔منظور چپڑاسی کے اکاؤنٹ سے چار ارب روپے نکل آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت پاکستان 12 ایل این جی کارگو حاصل کر سکتا ہے۔ ہم نے نومبر میں دس کارگو درآمد کئے ہیں، جو سودے ڈیفالٹ ہوئے وہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے ہیں۔ ہماری ریٹینشن کی شرح 80 فیصد ہے۔ برطانیہ کو پانچ ایل این جی کارگو میں ایک بھی نہیں ملا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سردیوں میں گیس کی قلت آتی ہے اس کا ایل این جی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک ایل این جی کارگو حکومت کو دس ارب روپے میں پڑتا ہے۔ اس کو اگر ہم سسٹم میں ڈالیں تو حکومت کو ایک ارب روپیہ ملتا ہے۔ ہم سالانہ ایک سے دو فیصد تک سے زیادہ ایل این جی کو ڈائیورٹ نہیں کر سکتے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پہلے تین مہنگے پاور پلانٹ لگائے جس کے لئے گیس کی سپلائی کے لئے دو ٹرمینل لگائے گئے، قطر حکومت کے ساتھ ایل این جی کے مہنگے معاہدے کئے گئے جس کا یومیہ کرایہ ڈھائی لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ ڈالر ہے۔

یہ لوگ اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کے آخری سال میں گردشی قرضہ 450 ارب روپے کے قریب تھا۔گزشتہ سال ایک سال کی مدت میں گردشی قرضے میں 130 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو مسلم لیگ ن کے دور کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ جبکہ گردشی قرضے کی مد میں ہماری حکومت سالانہ 850 ارب روپے ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے لالچ کے تحت سودے پے سودے اور معاہدے کئے، فیتے خود کاٹے اور ان کے کرایے موجودہ حکومت کو ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کے تحت ادائیگیوں کی قیمت صارف پر جاتی ہے جب ہم صارف سے کرایہ نہیں لیں گے تو قرضے میں اضافہ ہوگا، یہ لوگوں کے آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔انہوں نے کہا کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تجاویز پر وزیر خزانہ غور کر رہے ہیں۔ اچھی اور قابل عمل تجاویز کو اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جیسے عالمی منڈی میں ضروری اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی تو پاکستان میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت پاکستان میں متعدد ممالک سے بہت کم ہے۔ 2019ء کے بعد سے گیس کی قیمت نہیں بڑھائی گئی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت بھی دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں پانچ گنا کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام تک حقائق کے ذریعے بات پہنچانا ہمارا مقصد ہے، جتنا یہ پروپیگنڈہ کریں یا شور مچائیں ہم ریڑھی والوں اور ملازمین کے اکاؤنٹس سے پیسہ نکالیں گے کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے۔


شیئر کریں: