Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلیک مارکیٹنگ کے نگینے – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:

مغربی فلسفۂ زندگی نے ’جنگ و محبت میں سب کچھ جائز‘ قرار دے رکھا ہے، اس میں مقصد پیشِ نظر جنگ جیتنا ہوتا ہے، ان ذرائع کے جائز و ناجائز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو اس مقصد کے حصول میں استعمال کیے جاتے ہیں، اسی طرح بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کا مہیب چلن ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھاتا جاتا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کا عام نقشہ یہ ہوتا جارہا ہے کہ جنگ و محبت میں سب جائز کو ہی مقصود بنالیا گیا ہے۔ اس نگاہ فریب سے آئین اور اخلاق کی مسلمہ دیواریں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جارہی ہیں اور انسانی معاشرہ، ازمنہ مظلمہ کی طرف لوٹ رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی اب یہ حالت کہ ہر جگہ ’بلیک مارکیٹنگ‘ کا دور دورہ ہے۔ کیا تجارت، کیا زراعت،کیا صنعت و حرفت اور کیا سیاست، کیا لین دین اور کیا کاروبار، کیا کارخانے اور کیا دفاتر، کیا گھر اور کیا اس کے باہر، کیا ملت اور کیا اس کے لیڈر، گویا ہر طبقہ دوسرے کی جیب کاٹنے کی فکر میں سرگرداں دکھائی دے گا۔


بلیک مارکیٹنگ کا نتیجہ اب ہمارے سامنے یہ آرہا ہے کہ کسی ایک کو کسی دوسرے پر اعتماد نہیں، فون پر بات کرتے ہوئے ادھر اُدھر تاکنا، تو کسی کی کسی بھی بات کا یقین نہ کرنا، صنعت کار ہو یا کاشت کار، سفید پوش ہو کہ کمزور طبقہ، عمومی طور پر کسی نہ کسی طرح بلیک مارکیٹنگ کا شکار نظر آئے گا، اگر آپ چین کی نیند سوتے ہیں تو اس کو راوی کی جانب سے ’’سکون ہی سکون‘‘ لکھا جائے گا، لیکن بلیک مارکیٹنگ سے کون سا طبقہ یا فرد متاثر نہیں، اس کی تفصیل دینے کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ قریباً ہر فرد کسی نہ کسی حوالے سے بلیک مارکیٹ کا ڈسا ہوا ہے۔ بلیک مارکیٹ ہماری بساطِ زندگی کے ہر گوشے پر چھارہی ہے، محبت، عقیدت، اخلاص، مروت، اخوت، غرض کہ شرف انسانیت کی تمام سوتیں خشک ہوچکی ہیں اور ان کی جگہ خودغرضی اور فریب دہی، مطلب پرستی، بددیانتی، منافقت اور بے ایمانی کے کثیف اور پُرعفونت گندے نالے بہہ رہے ہیں، معاشرے کی حالت وہاں تک پہنچ چکی کہ اگر کچھ عرصہ اور یہی لیل و نہار رہے تو عجب نہیں کہ ہم اس عہدِ تاریکی میں جاپہنچیں، جہاں انسان علم و تہذیب اور آئین و ضوابط کے دور سے پہلے تھا اور ہماری زندگی، انسانی سطح سےنیچے گر کر حیوانیت کی درندگی کی سطح پر۔


کسی کو قشریرہ سے عفونت کا جو دھیان آیاتو آخر سونگھنے کو بول کا شیشہ منگایا ہےبلیک مارکیٹنگ کرنے والے کو ہی نہیں بلکہ آہنی گرفت رکھنے والوں کو بھی احساس نہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے قانون کی حکمرانی بری طرح بانجھ ہوچکی ہو، ہر طبقہ فکر اور معاشرے کو بچانے کے لئے ان کے سرخیلوں کے خلاف ایسی مضبوط گرفت ہی نہیں کہ وہ اس ریلے کو دھکیل کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکیں۔ کبھی کبھار نہ جانے کیوں ایسا بھی لگتا ہے کہ جیسے قوم بھی سنجیدہ فکر سے عاری ہوتی جارہی ہو، ان کے سامنے سب کچھ ہورہا ہے، لیکن عدم یقین کی منزل پر چلنے والوں نے بولنے، سننے اور کہنے پر جیسے فالج گرایا ہو، ملت کے ارباب نظم و نسق نے بھی ایسے نامساعد حالات پیدا کردئیے ہیں کہ ملک بھر میں بلیک مارکیٹ کا راج چل رہا ہے۔ جب ان کا دل چاہتا ہے کسی بھی شے پر کالی لکیر کھینچ کرعوام سے دور کردیتے ہیں، حالیہ دنوں کھاد کی کمی اور غذائی بلیک مارکیٹنگ کا نظارہ دیکھا تو دل دہل گیا کہ سامانِ خورونوش کو اپنی لالچ کا ہما بنانے والوں نے، کتنی دوررس منصوبہ بندی کی ہوئی ہے کہ ان اقدامات سے انہیں کس قدر کالا دھن کتنا اور کیسے کیسے ملے گا۔


قوم کی خاموشی اور بلیک مارکیٹ والوں کو برداشت کرنے والوںکی ہمت پر بھی حیرانی ہوتی ہے کہ ایسی مجبوری کو اگر وہ اپنی عملی زندگی کے ہر شعبے میں بصورت برداشت لے آئیں تو کیا ہی اچھا ہو، عدم برداشت اور تشدد کی جانب قریباً ہر طبقے کی گامزن روش نے تو ان کے ضبط کےبندھن کبھی اس قدر مضبوط نہیں دیکھے، لیکن بلیک مارکیٹنگ پر ان کی برداشت اور سرتسلیم خم کرنے کے وتیرہ نے یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ قوموں کی زندگی نفس شماری سے نہیں، نفس گدازی سے مانی جاتی ہے۔ قوموں کی بربادی و تباہی صرف یہی نہیں کہ ان کی نسل سے صفحۂ ارض پر کوئی متنفس باقی نہ رہے، بلکہ مقصود نظر یہ ہے کہ ان کا تصور حیات ہی نہ رہے۔ تصور ِ حیات اور آئین، زندگی کے تحفظ کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ مقصود بالذات ۔ اگر یہ تصور حیات ہی باقی نہیں تو پھر اجسام کی حفاظت ایسی ہی ہے جیسے کسی بنام بے شمشیر کی حفاظت، اصل قیمت گوہر کی ہے نہ کہ صدف کی، حفاظت گلاب کی مقصود ہے نہ کہ بوتل کی۔ بلاتصورِ حیات، زندگی ایک جسد ِ روح ہے، جس کی اگر حفاظت بھی کی جائے تو سوائے اس کے کہ ہم غلام ہیں۔


درحقیقت محکومی اور آزادی میں فرق یہی ہوتا ہے کہ آزادی میں ہم ہر فیصلے خود کرسکتے ہیں جب کہ محکومی میں ہم اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت و فیصلے اپنے تصورات کے مطابق نہیں کرتے۔ بلیک مارکیٹ والے اپنی اپنی دکان کھولے بیٹھے ہیں، جس کو جو جی چاہے وہ مانگتا نہیں بلکہ چھین لیتا ہے، اس سے زیادہ اور کیا کہا جائے کہ بلیک مارکیٹ کو روکنا حکومت کا کام ہے، اشیاء خورونوش سے لے کر ہر اَمر کی ذمے داری حکومت ہی کے سر عائد ہوتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس باب میں اولین فریضہ حکومت کا ہی ہے، لیکن اربابِ اختیار کی طرف سے کچھ انتظام نہیں ہوگا تو یہ کہنے سے آپ چھوٹ نہیں سکتے کہ بلیک مارکیٹنگ کے خاتمے کی ذمے داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے، کیا قوم کے اربابِ ثروت پر اس کی کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی؟ قوم میں ایسے درد مند لوگ کہاں غائب ہوگئے، جو وقت کی اہم ضرورت کا احساس کریں اور اس کو پورا کرنے کے لئے مُردہ ضمیروں اور مجبور عوام کے جسد میں احساس کی روح پھونکیں۔ یاد رکھیں کہ بلیک مارکیٹ والے اب صرف اپنے خزانے نہیں بھررہے، بلکہ نسل کو زندہ درگور و بے کفن دفن بھی نہیں کرنا چاہتے۔


شیئر کریں: