Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود – استاد جی – شہزادی کوثر

شیئر کریں:

نوائے سُرود – استاد جی – شہزادی کوثر

شمع زندگی کی روشن کوصحیح سمت دے کر زمانے کی چیرہ دستیوں سے مقابلہ کرنے کا ہنر اسے سکھانے ، نا پختہ ذہن کو مظاہر فطرت کے صحیح مفہوم سے باخبر کرنے ، ٹھیکری کو موتی میں بدلنے اور آدم زاد کو انسان بنانے والی عظیم ہستی کا نام استاد ہے۔ اس انمول ہستی کی عظمت کو تولنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے جو گونگے خیالات کو زبان بخشنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،انگلی پکڑ کر ان راستوں سے شناسائی عطا کرتا ہے جس پر چل کر انسان ان دیکھی دنیاوں کو اپنے سامنے حقیقت کی قبا میں ملبوس دیکھتا ہے ، جو اپنی عصا کلیمی سے ہمارے تصورات کو ہانکتے ہوئے حرف ولفظ کے مرغزاروں میں اتارتا ہے جس سے ہماری گویائی شباب کی سرمستیوں میں لہکنے لگتی ہے ،اس ہستی کے بارےمیں لکھنے والا  اخلاص کی روشنائی سے  اپنی محبتوں کی کہانی رقم کرتا ہے۔جاوید حیات صاحب بھی انہی خوش نصیب شاگردوں میں سے ایک ہے جن کی اپنے استاد سے عقیدت کی کہانی ” استاد جی ” کے نام سے میرے سامنے موجود ہے یقینا محبت وعقیدت کی یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہو گی لیکن مصنف نے ان صفحات پہ اپنی چاہت کے رنگ بکھیر کر شاگردی کا حق ادا کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ کتاب کے ہر پیراگراف سے عقیدت کی خوشبو محسوس ہو تی ہے ۔کسی طالب علم کی اپنے استاد سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کتاب میں اس سے بڑھ کر ملا۔ مصنف جب کہتے ہیں ۔۔

” دل چاہتا ہے کہ زندگی ایک بار پھر پلٹ کر وہاں پہنچ جائے جہاں سے              

ہم نے اس کی ابتدا کی تھی ۔۔۔۔ کوئی پو چھے ۔۔۔۔۔ تمھارا نام کیا ہے؟ اور             

میں جواب ہوں ۔۔۔۔۔۔ سر میرا نا م محمد جا وید ہے۔۔۔۔”                       

تو لگتا ہے ان کی زندگی کی ابتدا عالم وجود میں آنے سے شروع نہیں ہوتی بلکی جب وہ استاد جی سے ملاقات کا شرف حاصل کرتے ہیں تو گویا وہ عدم کی آخری سیڑھی سے  وجود کے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہیں ۔ان کی دھڑکنوں کو زبان تب ملتی ہے جب استاد جی کے شفقت بھرے چہرے پر ان کی نظر پڑتی ہے اور وہ ان کی قدآور  شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ اس ملاقات کا لمحہ میرے تخیل میں حقیقت کی طرح انگڑائی لے کر کھڑا ہو گیا گویا کہ مصنف کی زندگی کے گلشن میں نمو پانے والے گلاب کی کلیوں پہ شباب کا نزول ہوا ہو اور وہ اپنی مہک سے ان کی زندگی کو معطر کر رہے ہوں ۔ اس جملے نے مجھے بہت متاثر کیا شاید شاگرد کے دل میں محبت سے بڑھ کرایسا کچھ ہے  جو عشق کی حدود  کو چھونے لگا ہے                          

قسم خدا کی محبت نہیں عقیدت ہے                                          

دیار دل میں بڑا احترام ہے تیرا                                               

یہ صرف استاد اور شاگرد کا رشتہ نہیں بلکہ استاد ،باپ، مربی ،محسن،دوست اور پتہ نہیں کتنے خوب صورت رشتے اس میں موجود ہیں جنھیں کوئی ایک خاص نام دینا میری استطاعت سے باہر ہے۔

سبھی رشتوں کی ساری خوشبویں اس میں بسی تھیں                     

وہ اک رشتہ کہ جس کا نا م تک کوئی نہیں تھا                            

لیکن اس رشتے پہ استاد سے بڑھ کر کوئی نام نہیں جچتا یہ وہ مقدس پیشہ ہے جس کی ابتدا خود خالق ارض وسما سے ہوئی اس کے بعد انبیاؑ اس سے عہدہ برآ ہوتے رہے اور تعلیم وتربیت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے ۔اس کتاب نے استاد جی کی شخصیت کے ان حوالوں کو عمدگی سے پیش کیا ہے جن سے شاید ہر کوئی واقف نہیں تھا کس طرح طالب علموں  کو شفقت و محبت کے ساتھ پڑھانے کے ساتھ ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لئے بھی ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ان طالب علموں کی بھی خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کلاس میں بیٹھنے کا شرف انہیں حاصل ہوا، ڈاکٹر بھی ایسے جو شاگردوں کو ذہنی بالیدگی بخشنے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تشنگی دور کرنے کا بھی سامان فراہم کرتے ہیں معاشی اور معاشرتی طور پر حالات کا مقابلہ کرنے کا ہنر بھی سکھاتے ہیں۔

اپنی بے پناہ قابلیت ،ذہانت ،حاضر جوابی،انکساری اور انسان دوستی سے ہر دل میں گھر کرنا جانتے ہیں۔ایک کالم نگار اور ادیب کی حیثیت سے ان کا کام کسی سے پوشیدہ نہں ۔کھوار زبان وادب کے لئے شب وروز جدو جہد کے عمل سے گزرے ، انجمن ترقی کھوار کے زیر انتظام علاقئی طور پرکانفرنس ۔مجالس اور محافل سجانے کے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اہم کانفرنسوں میں شرکت کی اور دنیا کی توجہ اپنی مادری زبان کی طرف مبذول کی ۔نثر میں ان کی کئی کتابیں اور کتابچے شائع ہو چکے ہیں ،شاعری کے زریعے بھی کھوار کے سرمائے میں بے پناہ اضافہ کیا ۔ بحیثیت شاعر، قلم کار ،ادیب اور بہترین استاد کے ان سے پوری دنیا واقف ہے لیکن ان کی ذات میں چھپی ہوئی  خوبیاں جو انسان کو چمکتے ہوئے چاند کی مانند ضیا پاشی کرنا سکھاتی ہیں وہ اس کتاب کے زریعے آشکار ہوئی ہیں ۔تعلیم تربیت کے اس عمل میں طالب علموں  کے سامنے اگر استاد کی زندگی کا عملی نمونہ موجود ہو توطالب علم خیالات کو عمل میں ڈھالتے ہوئے اپنی منزل کی طرف روا ں ہوتے ہیں  ۔

استاد جی اپنے شاگردوں کے لئے ایک مثالی نمونہ ہے ، زبان وادب کا حوالہ ہو یا درس وتدریس کا ،انجمن سازی ہو یا مختلف تنظیموں کی تشکیل استاد جی ہر کام خندہ پیشانی اور جانفشانی سے کرتے ہیں اور کسی کام  کا کریڈٹ کبھی نہیں لیتے ،آپ کھوار زبان وادب کے لیے کام کرنے والوں کے ہراول دستے کے سالار کے طور پر نمایاں ہیں ۔ مصنف نے استاد جی کی خدمات اور خوبیوں کو بیان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا ۔کتاب پڑھتے ہوئے میرے دل میں طرح طرح کی خواہشات انگڑائیاں لینے لگیں کہ کاش مجھ میں بھی اتنی قابلیت کے ساتھ ساتھ وہ تمام خوبیاں پیدا ہو جائیں جو استاد جی کی شخصیت میں موجود ہیں لیکن دل کو سمجھانا پڑا کہ خبردار۔۔ ایسی خواہش کرنے کی ہماری اوقات نہیں۔۔۔ ان کی علمی ادبی اور پیشہ ورانہ خدمات کے پیش نظر ہم ان کے نقش قدم کو بھی نہیں پا سکتے۔۔ اس کے لئے ہم جیسوں کو کئی بار جنم لینا ہو گا۔۔۔ میں نے اس کتاب کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ محسوس کیا ہے یہاں لفظ لکھے نہیں بولے گئے ہیں اور ہر لفظ اپنی خاموش آواز سے کا نوں میں شہد گھولتا ہے ۔مجھے یہ بھی لگا کہ مصنف استاد جی کے لئے جو جذبہ اپنے دل میں رکھتے ہیں وہ محبت کی سرحدوں سے نکل کر عقیدت کے سبزہ زاروں سے  ہوتا ہوا کسی اور دنیا میں پہنچ جاتا یے اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے کیونکہ الفاظ اس کے اظہار کی قدرت نہیں رکھتے۔۔                                                  


شیئر کریں: