Chitral Times

Jan 17, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کے مسائل و شکایات معلوم کرکے ان کا فوری ازالہ کرنا ہے۔ چیف سیکریٹری

شیئر کریں:

کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کی سرکاری افسران تک رسائی کو آسان بنانا ہے، افسران عوام کی شکایات و مسائل حل کرنے پر توجہ دیں اور قانون کے مطابق اور میرٹ پر ان کی شکایات کا فوری ازالہ کریں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش نے ایک ضلعی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ضلعی افسران سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کی سرکاری افسران تک رسائی کو آسان بنانا ہے تاکہ ان کے مسائل و شکایات معلوم کرکے ان کا فوری ازالہ کیا جاسکے۔اجلاس میں تمام انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ کیپٹن (ر) عبدالرحمن نے اجلاس کے شرکاء کو کھلی کچہریوں سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ کیپٹن (ر) عبدالرحمن نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے بھر میں دو ماہ کے دوران ضلعی سطح پر 172 کھلی کچہریاں منعقد کی گئی ہیں جس میں 92 کھلی کچہریاں ڈپٹی کمشنرز کی زیر صدارت منعقد ہوئیں۔

شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ28 کھلی کچہریاں آن لائن، 2 خواتین، 3 اقلیتی برادری اور 1 کھلی کچہری کسانوں کے مسائل سے متعلق منعقد کی گئی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزاد بنگش نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی کوشش ہے کہ عوام کے مسائل ان کے گھر کی دہلیز پر حل کئے جائیں۔ انہوں نے سختی سے تاکید کی کہ عوام کے مسائل کے حل میں کسی بھی قسم کی سستی اور کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ افسران عوام کی شکایات و مسائل حل کرنے پر توجہ دیں اور ان کی شکایات کا قانون کی روشنی میں میرٹ پر فوری ازالہ کریں۔ ڈائریکٹر پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ کیپٹن (ر) عبدالرحمن نے صوبے بھر میں ہونے والی ریگولیٹری انسپکشنز کے حوالے سے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ صوبے بھر میں ماہ نومبر میں 68ہزار 995 اور ماہ دسمبر میں 79ہزار 384 یونٹس/کاروباروں کے معائنے کئے گئے اس دوران قانون کی خلاف ورزی کرنے والے یونٹس پر دو ماہ کے دوران 30.2 ملین روپے جرمانے عائد کئے گئے۔

اسی طرح ماہ نومبر اور دسمبر میں 2ہزار 552 یونٹس/کاروباروں کیخلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں۔ اجلاس کو مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر پی ایم آر یو نے کہا کہ دو ماہ کے دوران 196افراد کو قانون کی خلاف ورزی پر جیل بھیج دیا گیاہے جبکہ 5ہزار 498 یونٹس/کاروبار سیل کردئیے گئے ہیں اس کے علاوہ 27ہزار 177 یونٹس کو وارننگز جاری کی گئیں۔ اس موقع پر گڈ گورننس حکمت عملی کے تحت صوبے بھر میں ہونے والی کاروائی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ڈائریکٹر پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ کیپٹن (ر) عبدالرحمن نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ کے دوران تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران 4ہزار 108 کنال اراضی واگزار کی گئی ہے۔ 591 پانی کی ٹینکیوں کی کلورینیشن اور پانی کی کوالٹی کے 662 ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ 701 کرشنگ پلانٹس کیخلاف کاروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ 366 عوامی مقامات اور پلے گراونڈز اور 219 بس اڈوں اور ٹرمینلز میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔ 3ہزار 45 غیرقانونی سپیڈ بریکرز اور 3ہزار 119 غیر قانونی بل بورڈز کو ہٹایا گیا ہے۔ جبکہ مختلف کھیلوں کے 300 پروگرامات بھی منعقد کئے گئے ہیں۔

مزید برآں ایک اور اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزادخان بنگش نے کہا کہ صوبے میں 18ماہ سے پولیو کیس کا رپورٹ نہ ہونا ایک خوش آئند امر ہے جواس بات کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ پولیو مہمات میں تسلسل کی بدولت پولیو کیسز میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ انہوں نے صوبے میں شروع ہونے والی رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کے حوالے سے صوبائی ٹاسک فورس کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوے کہا کہ اس تسلسل کو برقرار رکھا جائے تاکہ جلد از جلد پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ صحت طاہر اورکزئی، سیکرٹری محکمہ داخلہ، سیکرٹری انفارمیشن، سیکرٹری ایجوکیشن، ڈی جی ہیلتھ سروسز، تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخواکے کوآرڈینیٹرعبدالباسط، یونیسیف کے نمائندے اور نیشنل ای-او-سی کے حکام نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے کے 6 اضلاع میں خصوصی انسدادپولیو مہم 17 جنوری سے شروع ہورہی ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے 10لاکھ سے زائد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے مہم کے دوران 5ہزار سے زائد ٹیمیں اپنی خدمات سرانجا م دینگی جس کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں انسدادپولیو مہم بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں چلائی گئیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزادخان بنگش نے کہا کہ گزشتہ سال صوبہ بھر میں انسدادپولیو مہمات موثرانداز میں چلائی گئی ہیں جس کی وجہ سے پولیو کیسز میں کمی آگئی ہے۔

اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، پولیو ورکرز اور پولیس جوانوں نے بھر پور کردار اداکیا۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے امید ظاہر کی کہ اس سال ضلعی انتظامیہ اور پولیو ورکرز کی انتھک محنت سے انکاری والدین کی شرح میں مزید کمی کی کاوشوں کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں خطے میں پولیو وائرس کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ آئندہ نسلوں کو معذوری سے بچانے کے لئے ناگزیر ہے جس میں کوئی غفلت اورکوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صوبے میں شروع ہونے والی پولیو مہم کی نگرانی خود کریں گے ڈاکٹر شہزادخان بنگش نے مزید کہا کہ پولیو ایک قومی مسئلہ ہے اس لئے اس وائرس کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے جس کے لئے انسدادپولیو مہمات ہر صورت میں جاری رکھی جائیں گی تاکہ جلد ازجلد پولیو وائرس سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کا کردار انتہائی اہم ہے۔

اس موقع پر پولیس حکام نے اجلاس کو بتایاکہ پولیو مہمات کی کامیابی کے لئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کو یقینی بنائیں گے اوران مہمات کو کا میاب بنانے کے لئے ہرممکن امداد فراہم کریں گے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ پولیو خاتمہ کے لئے احتساب اورجوابدہی کا ایک موثر نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت فیک فنگرمارکنگ کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو کی راہ میں حائل تمام تر مشکلات اور چیلینجز کے باوجود حکومت خیبر پختونخوا اس کے مکمل خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔

Chief secretary Kp kazim chairing commissioners DCs meeting 10 jan

شیئر کریں: