Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسکردو؛ دنیا کی بلند ترین ایئرپورٹ سے برف ہٹاکر پروازوں کیلئے مکمل فعال ہوگیا

شیئر کریں:

اسکردو ( چترال ٹائمز رپورٹ ) اسکردو میں دنیا کا بلند ترین ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا‘ ایئرپورٹ پر6 انچ برف پڑنے سے رن وے اور اپرن ایریاز مکمل بند تھے‘ ہنگا می بنیاد پر8 گھنٹوں میں رن وے اور اپرین ایریاز کو کلیئر کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسکردو ایئرپورٹ کا رن وے برف باری کے باعث بند تھا جسے اب صاف کردیا گیا ہے اور دنیا کے بلند ترین اسکردو ایئرپورٹ کے رن وے کو کلیئر کردیا گیا ہے۔اس ضمن میں ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر 6 انچ برف پڑنے سے رن وے اور اپرن ایریاز مکمل بند تھے تاہم ہنگا می بنیادوں پر8 گھنٹوں میں رن وے اور اپرین ایریاز کو کلیئر کیا گیا، جس کے بعد ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا ہے، ایئرلائن کی جانب سے موسم کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فلائٹ آ پریٹ کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب معروف بین الاقوامی ایئر لائن فلائی دبئی نے اسکردو کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی درخواست دے دی، فلائی دبئی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اسکردو میں فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، اس سلسلے میں سول ایوی ایشن کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فلائی دبئی پاکستان سول ایوی ایشن اور دبئی سول ایوی ایشن سے منظوری کے بعد اسکردو کے لیے باقاعدہ آپریشنز شروع کر سکے گی، بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز کا آغاز ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔خیال رہے کہ ملک کے بین الاقوامی شہرت کے حامل سیاحتی شہر اسکردو کے ائیرپورٹ کو بین الاقوامی ائیرپورٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے اسکردو ایئرپورٹ کو بین الاقوامی معیار کے ہوائی اڈے کا درجہ دینے کا اعلان کیا، کیوں کہ اسکردو ائیرپورٹ کو اپ گریڈ کیے جانے کے بعد بیرون ممالک سے پروازوں کی براہ راست اسکردو آمد ممکن ہو گئی ہے، ائیرپورٹ کی اپ گریڈیشن سے اسکردو پاکستان میں عالمی پروازوں کے روٹس سے جڑ جائے گا، اس اقدام کی بدولت عالمی پروازوں کی آمد سے سیاحت کو فروغ اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے تحت اسکردو ایئرپورٹ معاہدوں کے تحت نامزد غیر ملکی ائیرلائنز کے لیے دستیاب ہوسکتا ہے۔

skardu airport snowfall


حکومت پنجاب کا سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے مالی امداد کا اعلان


لاہور(سی ایم لنکس)حکومت پنجاب نے سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کو 8،8 لاکھ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اہم اجلاس میں ہوا، جس میں صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت، ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور، چیف سیکرٹری پنجاب، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، کمشنر راولپنڈی اور آئی جی پنجاب نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سانحہ مری میں جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے 17 کروڑ 60 لاکھ روپے منظور کیے گئے جس کے تحت سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام 22 افراد کو فی کس 8 لاکھ روپے دیئے جائیں گے جب کہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے فوری مالی معاونت 1 کروڑ 76 لاکھ روپے کا اعلان کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کی بارشوں میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کیلئے بھی مجموعی طور پر 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں سانحہ کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا، اور فیصلہ کیا گیا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سربراہی میں اعلی سطحی انکوائری کمیٹی بنائی جائے گی، کمیٹی 7 دنوں میں غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کرے گی اور 7 دنوں میں ہی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں مری کا انتظامی ڈھانچہ فی لفور اپ گریڈ کرنے اور مری کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ مری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو فوری تعینات کرنے اور ٹریفک جام کی وجوہات بننے والی سڑکوں کے چھوٹے لنکس فی لفور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 21


شیئر کریں: