Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گیس ہیٹر یا کوئلہ لوگوں کی جان کیسے لیتی ہے۔ از: ذوالفقارعلی‎‎

شیئر کریں:

سردیوں کے موسم میں آئے روز یہ خبر سننے کو ملتی رہتی ہے کہ دم گھٹنے یا گیس ہیٹر کی وجہ سے فلان کی موت واقع ہو گئ ۔ گزشتہ دن چترال اور آج مری مین سیاحوں کی سردی کی وجہ سے موت خبروں کی سرخیوں میں ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ انسان کی موت سردی سے کب تک ہو سکتی ہے اور سردیوں میں گیس ہیٹر یا کوئلے سے موت کس طرح واقع ہوتی ہے ۔ انسانی بدن میں ٹمپریچر کو کنٹرول کرنے کا ایک جامع نظام موجود ہوتا ہے جو کہ انسانی بدن کے درجہ حرارت کو 37 ڈگری سنٹی گریڈ پہ قاہم رکھتا ہے ۔ گرمی کی صورت میں پسینہ ، خون کے شریانوں کا پھیلاؤ اور اندرونی میٹابولسم کو سست کرکے جسم اپ کے درجہ حرارت کو نیچے رکھتا ہے تو سردی کی صورت مین خون کے نالیوں کے سکڑاؤ میٹابولزم کی تیزی اور کپکپاہٹ ہمین گرم رکھتا ہے ۔

مری میں جس درجہ حرارت پہ سیاحوں کی موت ہوئی ہے اسکی وجہ سردی نہیں بلکہ کاربن مونو آکسائیڈ ہے ۔ جسم مین آمد و رفت کا زریعہ خون ہے ۔  خون خوراک کو اپنے اندر حل کرکے سر سے لیکر پاؤں تک سارے خلیوں مین پہنچاتا ہے ۔ اس خوراک کو توڑ کر اس سے حرارت اور توانائی مین تبدیل کرنے کے لیے  آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہم سانس کے ذریعے ماحول سے لے لیتے ہیں ۔ اس آکسیجن کو بھی پھیپڑوں سے اٹھا کر ہر خلیے تک پہنچانا خون ہی کے ذمے ہے ۔

خون کے اندر ایک مخصوص پروٹین ہوتا ہے جسے ہیموگلوبین کہتے ہین آپ اس کو کنڈی کے ساتھ تشبیح دے سکتے ہین کیونکہ یہ خون میں ہیموگلوبین ہی ہوتی ہے جو پھیپڑوں سے آکسیجن کو اٹھا لیتی ہے ۔ ہیموگلوبین کی ایک خاص مقدار صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے اکثر ڈاکٹر خون میں اس کی مقدار چیک کرتے ہین اور اس کی مقدار کم ہو تو اکثر لوگ اسے خون کی کمی کہتے ہین دراصل وہ خون کی نہین اس مین موجود ہیموگلوبین کی کمی ہوتی ہے ۔ عام حالات مین  جلنے  والے ہر شے سے کاربن ڈائی آکسائڈ خارج ہوتی ہے ۔ مگر ایسے ماحول جہان آکسیجن کی کمی ہو تو وہان جلنے والی ہر چیز سے کاربن ڈائی آکسائڈ کی جگہ کاربن مونو آکسائیڈ خارج ہوگی ۔ خون مین موجود ہیموگلوبین جو آکسیجن کو خون مین شامل کرتا ہے وہ کاربن مونو آکسائیڈ کو 300 گنا زیادہ تیزی سے خون مین شامل کرتا ہے آکسیجن کے مقابلے میں ۔

اگر اپ نے کمرے کو بند کیا ہوا اور گیس کی ہیٹر بھی جل رہی ہو تو باہر سے بہت کم آکسیجن کمرے مین داخل ہو رہی ہے اور کمرے مین موجود آکسیجن وہان موجود لوگ اور جلنے والی آگ استعمال کر رہی ہوتی ہے ایسے حالت مین کمرے مین آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ۔ کم آکسیجن کی وجہ سے کمرے مین جلنے والی آگ سے کاربن ڈائی آکسائڈ کی جگہ کاربن مونو آکسائیڈ خارج ہونا شروع ہوتی ہے ۔ خون مین موجود ہیموگلوبین کاربن مونو آکسائیڈ کو آکسیجن کے مقابلے مین 300 گنا زیادہ تیزی سے کھینچتا ہے جس کی بدولت خون مین موجود سارے ہیموگلوبین مالیکیولز پر کاربن مونو آکسائیڈ کا قبضہ ہوتا ہے جس سے آکسیجن کو جڑنے کی جگہ نہیں ملتی ۔

جب یہ زہریلی گیس ہمارے خون مین شامل ہوتا ہے تو اپ کو  سکون نیند اتی ہے جس کے بعد موت واقع ہوتی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ایسے کمرے مین موجود ہوں   اور دروازے کے ساتھ ہی بیٹھے ہوں کمرہ بھی  بند نہ ہو تب اپ کو پتہ لگنے کے باوجود اپ دروازہ نہیں کھول پاہیں گے ۔ آپ ہوش میں تو ہونگے مگر پلکیں بھی جھپکنے کے قابل نہیں ہونگے ۔ مری کے سیاح اگر گاڑیوں کے شیشے کھولتے تو بہت ممکن تھا کہ  وہ موت سے بچتے کیونکے انسان کافی حد تک سردی برداشت کر سکتا ہے مگر کاربن مونو آکسائیڈ کو نہیں ۔


شیئر کریں: