Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخی ء دوران ۔ تحریر ۔صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

کہتے ہیں کہ ماں  کے پاوں کے نیچے اولاد کی جنت ہوتی ہے۔ جنت ہو یا نہ ہو یہ الگ بحث ہے۔ اج کل لوگ خاص کرکے لیبر  نوجوان مذہبی دلائل سے زیادہ  ایسے دلائل چاہتے ہیں جو سائنسی مشاہدات و تجربات سے ثابت ہو سکے۔  ان میں میرے چند فیس بک فرینڈز اور گروپ ممبرز بھی شامل ہیں۔ اب انہیں اسلام،قرآن اورجنت کا حوالہ دے کر سمجھانے کی کوشش کرنا اس مقدسات کی توہین کے مترادف ہیں ۔


 سائینس وٹیکنالوجی انسان کو جو جدید دور بخشا ہے وہ ناقابل تسخیر بن چکا ہے۔ہم اسی جدید تریں دور سے گزر رہے ہیں ۔ انسان کو ہر قسم کے سہولیات و آسائش میسر ہیں ۔دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ولج بن چکا۔ نظام مواصلات اتنی تیز ہے کہ لاکھوں کلومیٹر کے مسافت سیکنڈ میں طے کی جاتی ہے ۔ دنیا، سیارے اور ستاروں کے سارے معلومات انگلیوں کے پور میں سما گئے ۔ انسان برق رفتار سے سفر کرتا ہے ۔ کمپیوٹر،  لائبیری اور گلوبل میپ  ہر شخض اپنے ساتھ لیکر گھومتا ہے۔ کہوار زبان میں ایک مثل مشہور ہے کہ “دنیا ٹونجو غیری شیر” دنیا پیالی میں سما چکی ہے۔ ہر طرف دوڑ دھوپ ہورہی ہے۔ سب کچھ کی کوشش  میں انسان کچھ بھی کرنے کیلئے  تیار رہتا ہے ۔


 ایک طرف دنیا غروج کی طرف گامزن ہے تو دوسری طرف انسانی خصلت اور فطری اوصاف میں بھی آئے روز  تبدیلیاں ہورہی ہیں ۔ جتنا انسان مصنوعی خوبصورتی کی طرف جارہی ہے اتنا ہی قدرتی حسن سے دور ہوتا جارہا ہے۔ قدرتی مناظر اور فطری حسن کی فقدان بڑھتی جارہی ہیں ۔ رشتے ناطے،رحم کرم، جزبات و حساسات مدہم ہوتے جارہے ہیں ۔ نیکی اور گناہ میں فرق ختم ہوتی جارہی ہے۔ جائز ناجائز  میزان پر یکساں قامد کے ساتھ  کھڑے ہوتے ہیں۔ شرم وحیا مٹکر زینت میں منتقل ہو چکی ہیں۔ادب و احترام اور شرافت انسانی کمزوری تصور کیجاتی۔ ہر طرف افراتفری کی عالم ہے۔


ایک روز ایک معزز دوست سے ماں باپ کے اولاد پر  احسانات کے موضوع پر بات ہوئی تو صاحب موصوف نے کہا ترقی پسند اور کشادہ خیالات والے ایسے نہیں سوچتے ۔ ماں باپ انسان ہیں اور اولاد بھی انسان ہیں ۔ انسان ہونے کے ناطے انکے برابر کے حقوق ہیں کسی کو کسی  پر تقویت  نہیں دی جاسکتی  اور نہ ایک دوسرے پر کسی صورت  بوجھ بننا چاہیے۔ یہ قانون فطرت ہے کہ اولاد ماں باپ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اولاد کو دنیا میں لانے کے ماں باپ اسباب ہیں اور اس میں بھی انکے اپس کی محبت،حوس اور مجبوری شامل ہیں ۔ وہ اولاد پر کوئی احساس نہیں کرتے اور نہ کوئی حق  بنتا ہے کہ وہ اولاد پر اسلئے بوجھ بنے رہے کہ انہوں نے اولاد کو جنم دیے ہیں ۔والدین ایک ذریعہ ہیں  انسانوں  کے تسلسل برقرار رکھنے کا اور  وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہیں،  بس اور کچھ نہیں۔ البتہ ان کا حق سرکار پر ہے کہ وہ ریاست کو  ٹیکس دیتے ہیں اور ملک کی ترقی میں انکے کردار ہیں ۔تکلیف اور بڑھاپے میں انکاخیال رکھنا سرکار کا کام ہے۔ اسلئے ترقی یافتہ ممالک میں سرکار انکے لئے اولڈ ایج ہوم بناتے ہیں اور وہاں انکے ہر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اسی طرح حسب روایت اولاد اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہیں، ملک کے ترقی کیلئے کام کرتے ہیں اور انکے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ انہیں سنبھالنے میں صرف کرے ۔ یہ تھے میرے دوست کے الفاظ ۔


یہ سب باتیں سن کر ایک کہانی یاد اگیا۔ اس کہانی میں  جب لوگ ضعیف العمر ہو جاتے تھے انکے اولاد  انہیں پہاڑ سے گرا کر  مار دیتے تھے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اب انکے یہاں  ضرورت نہیں اور وہ اپنے حصے کے وقت گزار چکے ہیں۔ جدید دور میں والدین کے بارے میں خیالات تقریبا وہی ہے البتہ جدید دور میں ہر کام تہذیب کے ساتھ کیا جاتا ہے کسی کو مارنے کیلئے گلے کاٹنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ انجیکشن دیا جاتا ہے اور خاموشی کے ساتھ گزر جاتے ہیں ۔ خود سے دور کرنے کیلئے مارنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ اولڈ ایج ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ وہ وہاں کھوٹ کھوٹ کر اپنے اولاد کیلئے تڑپتے مرجائے۔ اولاد کی  ترقی پسند مزاج میں کوئی  تبدیل نہ ہو  اور نہ تیمارداری کرتے ہوئے وقت ضائع ہو۔ اسلئے انہیں ادارہ و ٹرسٹ کے رحم وکرم پر چھوڑتے ہیں اور جب وہ مرجائے تو تدفین کرکے  قبر مبارک کو سنگمرمر سے سجاکر منسلک تختی پر سنہری حروف میں نام اور کارنامے درج کرکے واپس ہوجاتے ہیں۔ 


بقول میرے عزیز دوست والدین تو صرف اپنے کردار ادا کررہے تھے۔ تو پھر اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر انسو بہاکر رونے کی کیا ضرورت تھی۔ جو آنسو ہمارے آنکھوں میں  کھبی ایک دفعہ نہیں ٹپکتے وہ آنسو  ماں باپ کے آنکھوں میں کہاں سے آتے ہیں ۔ کھانا پکانا تو انکے ڈیوٹی میں شامل تھے تو نوالا بنا بنا کر کھلانے کے پیچھے کیا مجبوریاں تھیں ۔سفر سے واپسی اور  رحصت کرتے ہوئے آنکھیں چوم کر اشک بہانا کونسا انکے ذمہ داری اور ڈیوٹی میں شامل تھی۔  اولاد لوریاں سونے کی عادی کیوں بناتے ہیں ۔ سکول سے واپسی پر بار بار پوچھنے کے پیچھے کیا لوجک کہ کہ بیٹا  سکول میں بھوک تو نہیں لگتا ہے۔جب اولاد  سفر پر نکلتے ہو تو ماں باپ آنکھوں میں  انسو بہا کر دعائیں دینا کیوں ضروری سمجھتے  ہیں ۔ 


 دنیا میں جنم لینا اولاد کیوں معمولی سمجھتے ہیں۔ جنم لینا کوئ معمولی اعزاز کی بات نہیں بلکہ اولاد کیلئے اللہ تعالی اور پھر والدین کی طرف سے عزیم تخفہ  ہے۔ ہر کسی کو اشرالمخلوقات کے صف میں کھڑا ہونے کی شرف حاصل نہیں ہوتی ہے۔ جس کو  زندگی جیسی نعمت کی اہمیت کا اندازہ نہیں انکے زبان سے ایسے الفاظ گونجتی ہے۔ جو محبت کو والدین کی مجبوری سمجھتے ہیں شاید انہیں معلوم نہیں کہ محبت کے ایسے ہزاروں لاکھوں  نشانیاں دور جدید میں  گندے نالوں میں اور کہاں کہاں بہ کر مٹ جاتے ہیں۔  ان کی محبت ہی تو ہے جو آج ہم انسان کی صورت میں ہوا،مٹی اور سمندر پر راج کررہے ہیں۔ ایسے شاید احساس کی حس سے محروم ہیں تب وہ ماں کے آنکھوں سے چمکتے شفقت نہیں دیکھتے۔ اولاد کے خاطر تڑپتے دل کی آواز سنائ نہیں دیتی ہے۔ 


اسلام نے والدین کو بہت اونچا مقام دیا ہے۔ اولاد کی جنت والدین کے قدموں میں رکھا ہے۔ ضعیف العمری میں انکے سامنے اف تک نہ کہنے کا حکم دیا۔ یہ مقام اسلام احساسات کی روشنی میں مرتب کی ہے ۔یہ اسلام کی خوبصورتی ہے کہ ہر کسی کا مقام و حقوق واضح ہیں۔ جس طرح اولاد بچپن میں والدین پر بوجھ نہیں  ہوتے اسی طرح والدین بھی اولاد پر کوئی بوجھ نہیں ۔ انکے احترام اور خدمات سے اولاد کی نجات ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے اور دعائیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔


شیئر کریں: