Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترا ل میں گزشتہ سال خودکشی کے 30 واقعات رونما ہوئے۔ جن میں اپر چترال کے 21واقعات شامل ہیں

شیئر کریں:

چترا ل میں گزشتہ سال خودکشی کے 30 واقعات رونما ہوئے۔ جن میں اپر چترال کے 21واقعات شامل ہیں

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں خودکشیوں کا نہ روکنے والا سلسلہ جاری ہے ۔ چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کے بعد زیادہ ترخودکشیاں اپر چترال کے حصے میں آئیں، گزشتہ سال 2021میں اپر چترال میں 21خودکشی کے واقعات رونما ہوئے، جن میں پندرہ خواتین اورباقی مرد تھے۔ اورخودکشیوں کا تناسب موڑکہو تورکہوتحصیل میں زیادہ ہے ۔
اسی طرح لوئر چترال میں گزشتہ 9 خودکشیوں کے واقعات ہوئے۔ جن میں اکثریت خواتین کی تھیں۔


خودکشی کرنے والی خواتین کی عمریں 17 سے 35 سال کے درمیان ہے ۔ اور اکثر پڑھی لکھی بچیوں نے خودکشی کرکے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا ہے ۔ اوران خواتین کی اکثریت نے دریا ئے چترال میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہیں۔

بی بی سی کی حالیہ جامع رپورٹ کے مطابق چترال میں گزشتہ دس برسوں کے دوران مبینہ خودکشی کے لگ بھگ 175 واقعات درج کیے گئے جن میں 106 خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے ہر واقعہ میں پولیس نے بظاہر جامع تحقیقات نہیں کیں۔ زیادہ تر واقعات میں یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ مرنے والے نے خودکشی کیوں کی۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق حال ہی میں ختم ہونے والے سال سنہ 2021 میں اپر چترال میں جن 21 افراد نے خودکشی کی، ان میں سے دس واقعات میں وجہ ‘نامعلوم’ تھی۔ ان میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں۔ باقی واقعات میں جو وجوہات بتائی گئیں ان میں دماغی بیماری کا شکار ہونا، مرگی، سکول نہ جانے کی ضد، امتحانات میں نمبر کم آنا یا گھریلو ناچاقی اور لڑائی جھگڑے شامل تھے۔

اب تک جتنے بھی خودکشی کے واقعات ہوئے ان کے پیچھے مرحکات کو سامنے لانے میں مقامی پولیس کامیاب نہ ہوسکی ہے۔ اس کی وجہ متاثرہ خاندان کی طرف سے عدم تعاون ہے ۔ اکثر والدین خودکشی کے مرتکب بچیوں کو ذہنی مریضہ قرار دیکر فائل کو داخل دفتر کرانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

چترال میں خودکشیوں کے سدبات کیلئے ابھی تک کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ، تاہم بعض غیر سرکاری ادارے اس حوالے سے سیمینار اور ورکشاپ کرکے صرف پیسے بٹوررہے ہیں۔ جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔


شیئر کریں: