Chitral Times

Aug 12, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ناروے کی ٹیلی نار 4G سے مٹہ سوات کے ٹیلی نار نسوار تک ۔ فکرو خیال ۔ فرہاد خان

شیئر کریں:

ناروے کی ٹیلی نار 4G سے مٹہ سوات کے ٹیلی نار نسوار تک ۔ فکرو خیال ۔ فرہاد خان

پچھلے ہفتے کسی اخبار میں ٹیلی نار کمپنی کی بابت ایک خبر زیر گردش تھی جس کے مطابق ناروے سے تعلق رکھنے والی ٹیلی کمیونکیشن کمپنی ٹیلی نار اپنے بوریا بستر سمیٹ کر پاکستان سے واپسی کا سوچ رہا ہے ۔اس کے ایک ہفتے بعد چترال کے مختلف علاقون میں ٹیلی نار سروس معطل ہونے کی خبرین انے لگیں ۔چترال کے کچھ علاقون میں اس معاملے پر احتجاجی جلسے جلوس بھی ہوئے۔معاملے کو پرنٹ و سوشل میڈیا پر بھی اٌٹھایا گیا اور کمپنی سے اس معاملے پر عوام الناس کو باخبر کرنے اور سگنلز کی جلد بحالی کے مطالبات بھی ہوئے لیکن کمپنی نے تاحال اس بارے صارفین کو اگاہ نہیں کیا ۔

ہم میں سے اکثر یہ سمجھ بیٹھے کہ شاید ٹیلی نار سروس بند ہوگی مگر چند علاقوں میں یہ سروس سٹیلایٹ سے منسلک ہونے کی وجہ سے بلاتعطل دسیتاب ہیں۔ سگنلز کی معطلی بارے سنی سنائی باتوں کے مطابق کہیں جنریٹر خراب ہونے کی باتیں ہوئیں تو کہیں تیل کی عدم دستیابی کو وجہ بتایا گیا لیکن گزشتہ ایک ہفتے سے سگنلز معطل ہونے کی اصل وجہ سامنے نہ آسکا۔

باخبر زرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک میں ٹیلی نار کمپنی کی جڑین اتنی مظبوط ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا میں آپ اس بارے شکایت درج بھی کرائیں تو اسے نشر کرنے سے روک دیا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ ٹیلی نار کی ناقص سروس بارے چترال ٹائمز کے ایڈیٹر جناب سیف الرحمان عزیز صاحب نے آواز اُٹھائی تو ان کے خلاف متعلقہ کمپنی نے دارلالقضا سوات میں کیس کیا ہوا ہے اور یہ کیس اب تک عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چترال کے دورافتادہ علاقون میں ٹیلی کمیونکیشن متعارف کرانے میں ٹیلی نار نے اہم کردار ادا کیا ہے جس سے دوافتادہ علاقے کے لوگون کی کمیونکیشن کے مسائل کافی حد تک حل ہوگئے ہیں ۔یہی نہیں ٹیلی نار 2G 4G میں اپ گریڈ بھی ہوچکا ہے مگر فور جی متعارف ہونے کے بعد موبائل سگنلز پہلے سے کمزور ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔

ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی جدید وقت کی ضروریات کے پیش نظر اپنے اپ کو اپڈیت کرتا رہے اور اپنے مواصلاتی نظام کو بہتر سے بہتر کرتا رہے اور ہوسکے تو موجودہ سسٹم کو سٹیلائٹ سے منسلک کرے مگر حالیہ دنوں کی انتہائی خراب سروس اور سگنلز کی عدم دستیابی سے ظاہر ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کو وقت کی جدید ضروریات کے مطابق سروس فراہم کرنے سے قاصر ہے اور اس کا ثبوت گذشتہ ایک ہفتے کی کارکرگی ہے ۔

کل کسی دوست کے واٹس اپ سٹیٹس پر ٹیلی نار نسوار کے نام سے اشتھار نظر سے گزرا .مٹہ سوات میں ٹیلی نار نسوار کے نام سے نسوار متعارف کرایا گیا ہے ٹیلی نار کو چاہئیے کہ یا تو ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی پر اس نسوار والوں کے خلاف بھی عدالت جائے،اپنا سسٹم درست کرلے یا اگر اسی طرح کا سروس دینا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اپنا بوریا بستر سمیٹ لے اپنے ٹاورز اکھاڑ کر کباڑے کو بیچ دے اور ٹیلی کمیونکیشن کا کاروبار بند کرکے نسوار کا کاروبار ہی شروغ کرے۔

چونکہ نسوار کی قیمت میں سو گنا اضافہ ہوچکا ہے اور پاکستان میں نسوار کی صنعت کا مستقبل روشن ہے اس لئے کمپنی کو اس صنعت میں قدم رکھنے،نسوار کے مختلف پکیجز کے زریعے زیادہ سے زیادہ کسٹمرز بنانے اور اس صنعت میں اجارہ داری حاصل کرنے کا بہترین موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئیے تاکہ موبائل صارفین حکومت وقت سے درخواست کرکے یو فون یا کسی دوسرے موبائل نیٹ ورک کا انتظام کرین ۔ اور اس انتہائی ناقص سروس سے جان چھڑائیں ۔


شیئر کریں: