Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی وسائل کا بے دریغ استعمال ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

قومی وسائل کا بے دریغ استعمال ۔ محمد شریف شکیب

پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ سابقہ دور حکومت میں پی آئی اے کی جانب سے 30 خالی آسامیوں کا اشتہار دیاگیا تھا۔ ان اسامیوں پر250 مینجمنٹ ٹرینی افسران بھرتی کئے گئے،کمیٹی نے ایف آئی اے کی جانب سے انکوائری مکمل کرنے میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ایف آئی اے کے افسر کو طلب کرلیا،کمیٹی کے رکن کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا یہ حال ہے تین تو جہاز رہ گئے ہیں۔ جو رہ گئے وہ بھی ناکارہ اور کھٹارہ ہیں جس بورڈنے خالی اسامیوں پر آٹھ گنا زائد بھرتیوں کا فیصلہ کیا اس کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئے۔ایوی ایشن ڈویژن کے2011سے 2018تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ انکوائری آخری مرحلے میں ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ تین سال سے آپ کیس لے کر آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کسی کو اپنا کام وقت پر نمٹنانے کی پرواہ ہی نہیں۔کمیٹی نے کیس ایف آئی اے کے سپرد کر دیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی جانب سے خریدے گئے جہازوں کی اینوینٹری استعمال نہ کرنے کی وجہ سے چار ارب 81کروڑ کا نقصان ہوا،سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن نے بتایا کہ ایک ارب بیس کروڑ روپے مالیت کی انوینٹری ضائع کردی گئی۔قومی اداروں میں حکومتی مداخلت کی یہ ایک معمولی جھلک ہے۔ یہ صرف قومی فضائی کمپنی تک محدود نہیں، ملک کے ہر سرکاری ادارے کا یہی حال ہے۔

گذشتہ پچاس سالوں میں ہر حکومت نے پی آئی اے، پاکستان ریلوے، کسٹمز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، پاک پی ڈبلیو ڈی، کنسٹریکشن اینڈ ورکس، صحت اور تعلیم سمیت تمام اداروں میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو بھرتی کیا۔اور اکثر سرکاری اداروں میں بھاری رشوت لے کر لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دی گئیں۔نااہل اور نالائق لوگوں نے قومی اداروں کا بیڑہ غرق کردیا۔ان اداروں میں کرپشن اور رشوت ستانی در آئی۔ آج کسی بھی سرکاری محکمے میں رشوت دیئے بغیر لوگوں کا جائز کام بھی نہیں ہوتا۔ جب کوئی حکومت ملازمین کے بوجھ تلے دبے ہوئے اداروں میں چھانٹیاں کرنا چاہے تو یہ ملازمین لاٹھیاں اور ڈنڈے اٹھاکر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ عدالتوں میں درخواستیں دائر کی جاتی ہیں جن سے عدلیہ پر بھی غیر ضروری مقدمات کا بوجھ پڑتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے محکمہ تعلیم میں رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے اساتذہ اور دوسرے ملازمین کو انٹری ٹیسٹ پاس کرنے کا پابند بنانے کا اعلان کیاتھا۔ مگر کسی مصلحت کے تحت اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ ادارے عوام کے فائدے اور انہیں بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں جب یہی ادارے عوام کا استحصال کرنے لگیں اور قومی خزانے پر بوجھ بن جائیں تو ان کی تطہیر اور تشکیل نو ضروری ہوتی ہے۔

کرپشن سے پاک نظام کا قیام موجودہ حکومت کا انتخابی منشور تھا مگر ساڑھے تین سالوں میں اس منشور پر دس فیصد بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قومی اداروں کی رگوں میں کرپشن سرایت کرگئی ہے۔ کسی دل جلے نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اداروں کے ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری اداروں میں خوف خدا رکھنے والے لوگ بھی ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جس ادارے میں رشوت کو حق سمجھ کر لیاجاتا ہو۔وہاں ایماندار، دیانت دار اور فرض شناس اہلکار کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور اسے کھڈے لائن لگادیا جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہم میں مرنے اور اللہ کے سامنے جوابدہی کا خوف نہیں رہا۔ جس دن یہ خوف دل میں پیدا ہوجائے، رشوت ستانی، کرپشن اور سفارش کا کلچر اپنی موت آپ مرجائے گا۔ اس سلسلے میں علما اور اساتذہ کرام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔


شیئر کریں: