Chitral Times

Aug 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کچھ باتیں ان کہی رہنے دیں ۔ میر سیما آ مان

شیئر کریں:

کچھ باتیں ان کہی رہنے دیں ۔ میر سیما آ مان

پہلے زمانے میں ڈائری لکھنے کا رواج تھا تو اکثر حضرات اپنی روزمرہ کے معاملات یا احساسات ڈائریوں پر درج کرکے دل کا بوجھ ہلکا کیا کرتے تھے۔سکول کی لڑکیاں اپنی ڈائری شعر و شاعری یا اقوال ذریں سے سجاتے تھے۔۔یہ ڈائری اکثر سرہانے تلے پائی جاتی اور جو رازداری کے معاملات میں ذرا حساس ہوتے انکی ڈائریاں بھی الماری میں تالوں میں مقید ہوتے ۔ پھر رفتہ رفتہ دور بدل گیا انداز بدل گئے اب ان پرسنل ڈائریوں کی جگہ فیس بک ٹوئٹر انسٹا یا واٹس ایپ نے لے لیے ہیں ۔

اب دن بھر کے حالات ہو یا گلے شکوے ،احساسات ہوں یا طعنے بازیاں سب ایک اسٹیٹس اپڈیٹ کی صورت میں چند سیکنڈز کے اندر پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے ۔۔لیکن وہ جو کہتے ہیں نہ کہ فلاں کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا بلکل صحیح بات ہے ۔پرانے زمانے کی چند اوراق کا وہ مجموعہ نہ صرف آپکی دل کا بوجھ ہلکا کرنے میں معاون تھا بلکہ آپکے احساسات اور عزت کا بھی امین ہوا کرتا تھا ۔۔

وہ ایک چھوٹی سی کتاب جس میں آپ اپنا اصل عکس چھپایا دیا کرتے تھے ۔آپکے گلے شکوے حتی کہ دوسروں کے لیے آپکی نفرت جیسی منفی جذبات دفن ہوا کرتے تھے ۔۔کیونکہ ہر ایک کی رسائی آپکے سرہانے تلے چھپے اس رازداں تک نہیں ہوتی تھی تو معاشرے میں خاندان میں دوسروں میں آپکا بھرم رہ جاتا تھا۔۔

کیا ہی افسوس کی بات ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور نے تو ہر شخص کو بلکل ہی ننگا کر ڈالا ہے۔ نہ کسی کی نفرت چھپ پاتی ہے نہ حسد نہ کینہ نہ کمینہ پن ۔۔۔کیا یہ ہے وہ ترقی یافتہ دور جسکا ہم خواب دیکھا کرتے تھے۔۔۔؟؟

حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے کہ جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔۔
سمجھ نہیں آتا کہ جس دور سے ہم گز رہے ہیں یہاں کوئی مسلمان باقی بچ بھی سکتا ہے ۔۔کیونکہ اسٹیٹس اپڈیٹ کی اس تیز ترین دور میں ہر کوئی اس قدر زبانی لن ترانیوں پر اترے ہوئے ہیں کہ نہ چھوٹوں کی کوئی تمیز باقی رہی ہے نہ بڑوں کی۔۔۔۔کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی بھی معاملے میں بات کرنے کی کوئی تمیز ہوا کرتی ہے لیکن اگر آپ میں بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے تو بونگیاں مارنے سے بہتر ہے بندہ چپ رہے کم از کم آپکی خاموشی آپکے اندر کی کینہ کی ہی پردہ بنے گی ۔لوگوں میں آپکا بھرم تو رہے گا۔۔

اس دور کے سب سے مضحکہ خیز لوگ وہ ہیں جو خود کو حق گو سمجھنے کی شدید ترین غلط فہمی کا شکار ہیں ۔ یہ دوسروں کے مطعلق سفاکیت کے حد تک الفاظ استعمال کرتے ہیں لیکن اپنے متعلق ایک لفظ برداشت کرنا تو دور کی بات سننے کا بھی ظرف نہیں رکھتے ۔۔ایک بڑا اچھا پوسٹ اکثر نظروں میں آتا ہے کہ موجودہ وقت کے بد زبان خود کو حق گو کہتے ہیں ۔ انہیں کوئی بتانے والا نہیں کہ رسول پاکؐ سے بڑھ کر کوئی حق گو نہیں اور رسول پاکؐ سے بڑھ کر شرین زبان کے کوئی نہیں ۔ محض دوسروں کے متعلق ذہر اگلنے والی زبانیں کیسے خود کو حق گوئی کے دھوکے میں رکھ سکتے ہیں ۔۔

میں نے ایک بار پہلے بھی لکھا تھا اب دوبارہ لکھ رہی ہوں کہ ہر چیز کا ایک کرائٹیر یا ہوتا ہے یہ جو آپکے ہاتھ میں ٹچ موبائیل موجود ہے اسکا بھی اسکے استعمال کا بھی ایک کرائٹیریا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ آ پ سمیت کروڑوں اور لوگوں کے پاس بھی موجود ہے بلکل اسی طرح بولنا بھی سب کو آتا ہے سنانا بھی۔۔

فرق صرف اتنا ہے کہ زبان کیطرح اس بے جان ٹیکنالوجی کو بھی ہر کوئی اپنے بڑوں کی تربیت اور اپنے ظرف کے مطابق استعمال میں لاتا ہے۔ کوشش کریں کہ باپ دادا کی تربیت کی لاج نہ سہی صرف اپنے اکیلے جان کی ہی کچھ لاج رکھ لیں کہ ان پبلک ڈائریز اور پبلک پوسٹ پر درج آپکے الفاظ صرف آ پکی اپنی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ لہذا کچھ باتیں ان کہی رہنے دیں ۔۔کچھ باتیں ان سنی رہنے دیں۔۔ سب باتیں اگرچہ کہہ ڈالیں تو باقی کیا رہ جائے گا ۔۔۔

اکیسویں صدی کا ایک اور نیا سورج پھر سے طلوع ہو چکا ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں ایک بار پھر نیا سال دیکھنے کی مہلت نصیب ہوئی۔بڑی بڑی کو تاہیؤں کے باوجود اللہ نے ہمیں بڑی آسائشوں میں رکھا ہے بڑی آزمائشوں سے نکالا ہے۔ بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ہم اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔۔اللہ مثبت سوچ کیساتھ زندگی گزارنا نصیب فرمائے ۔۔دوسروں کے لیے ہمیں آزار کا باعث بننے کے بجائے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے ۔ہمیں معاف کرنے والا بنائے۔۔امین۔


شیئر کریں: