Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کسانوں کے ساتھ کھاد مافیا کا ظلم – تحریر: محمد نفیس دانش

شیئر کریں:

کسانوں کے ساتھ کھاد مافیا کا ظلم – تحریر: محمد نفیس دانش

کا ایک بڑا حصہ زراعت اور اس سے چلنے والی صنعتوں پر منحصر ہے۔ تقریبا پاکستان کی کل آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت کے شعبے سے وابسطہ ہے زراعت کے شعبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی افرادی قوت کی اکثریت زراعت سے منسلک ہے اور پاکستان کی پہچان بھی زرعی ملک کے طور پر ہی ہوتی ہے۔ لیکن ملک میں کسان ماحولیاتی تبدیلیوں، “ناقص” حکومتی پالیسیوں اور مہنگائی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں۔کوئی ایسا محکمہ نہیں ہے جو کسان کی فصلوں کی قیمت کا تعین کرے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ فصل پر لگائی گئی رقم تک وصول نہیں ہوتی۔

کھاد، کیڑے مار اسپرے اور دواؤں کی قیمتیں بہت مہنگی ہیں اور ان کے معیار کے تعین کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔”کھاد پر کھاد مافیا کا کنٹرول ہے، بیج پر بیج مافیا قابض ہے، کیڑے مار دواؤں پر متعلقہ انڈسٹری کا کنٹرول ہے۔ وہ جب چاہیں، جتنا مرضی چاہیں، قیمتیں بڑھا دیتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔”زراعت کی گرتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر نوجوان نسل اس میں دلچسپی نہیں لے رہی اور وہ زیادہ تر شہروں کا رخ کر رہے۔

اگر حکومت نے اپنی زرعی پالیسی کسان دوست نہ کیں تو پاکستان جلد ہی معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہو گا۔ اس وجہ سے کاشتکاروں کے مسائل اور ان کے دکھ کے ازالہ کیلئے ہر ممکن کوشش کے ساتھ ساتھ کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے کیونکہ ہمارے ملک کا زیادہ انحصار زراعت پر ہے ۔صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں شیخوپورہ، سرگودھا، خوشاب اور بہاولنگر کے کسانوں کو کھاد  کی قلت کے باعث پریشانی کا سامنا ہے اور کھاد کی عدم دستیابی کے باعث گندم کی فصل کی بوائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یوریا کھاد کی سرکاری قیمت 1770 ہے جبکہ مارکیٹ میں 3000 سے لے کر 3500سو روپے تک فی تھیلا بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے اسی طرح ڈی اے پی کھاد کی سرکاری قیمت 8100 روپے ہے لیکن مارکیٹ میں9500 روپے سے لے کر دس ہزار روپے تک فی تھیلا بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر کسانوں کو ریلیف دینے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے یوریا کھاد کے گوداموں اور سیل پوائنٹس کی چیکنگ کا آغاز کردیا تھا۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ میاں جمیل نے ہمارے علاقہ غلہ منڈی جھبراں میں چھاپہ مارکر 15 ہزار بوری کھاد برآمد کر لی اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مقدمہ بھی درج کیا اور پکڑی جانے والی کھاد ضلعی انتظامیہ نے کسانوں کو حکومت کے ریٹ پر فروخت کردی جس پر علاقوں کے کسانوں نے ڈپٹی کمشنر رانا شکیل اسلم اور اسسٹنٹ کمشنر میاں جمیل کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ لیکن چند دنوں کے بعد دکانداروں نے پھر اسی ریٹ پر کاشتکاروں کو کھاد کا ریٹ لگانا شروع کر دیا ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے کھاد کی سپلائی و سٹاک کی مانیٹرنگ کیلئے آن لائن پورٹل بھی فعال کردیا گیا ہے جبکہ کسانوں کی آگاہی کیلئے بینرز اور اعلانات کے ذریعے بھرپور مہم کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔

کھاد مافیا کے خلاف فوری کاروائی کرکے ہماری تکلیفوں کو کم کیا جائے۔ اور دکانوں پر کھاد کی قیمتوں کو بینرز کی صورت میں نمایاں طور پر آویزاں کرایا جائے۔ یوریا کھاد وافر مقدار میں موجود ہے، ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے، منافع خوروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، کسی کو کسانوں کا استحصال کرنے کی اجازت نہ دی جائے بلکہ حکومت کسان کو ایسے وسائل کے حصول میں مدد دے ،جن کی بدولت ہمارے کسان ملک کی غذائی اجناس میں خود کفیل ہو سکیں۔


شیئر کریں: