Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نسوار نامہ – تحریر: ظہیرالدین

شیئر کریں:

            جب سےمشرقی وسطیٰ کے عرب ممالک نے گزشتہ دنوں نسوار کو منشیات کی فہرست میں شامل کردیا تو مجھے رہ رہ کر پختون بیلٹ کے اپنے بزرگوں اور بھائیوں پر ترس آتا ہے جو اس کے بغیر ماہی بے آب بن جاتے ہیں۔ یہ خبر ان پر بجلی بن کر گر گئی ہوگی مگر  قہر درویش،برجان درویش۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ حیرت انگیز حد تک اس کی کڑیاں ایک کٹر پشتون قوم پرست رہنما کے اس بیان کے ساتھ ملائی جاسکتی ہے جو انہوں نے اپنے شباب اقتدار کے دوران نسوار کے خلاف دی تھی۔ اگر حافظہ ذیادہ کمزور نہیں تو یاد آئے گا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت (2008ءتا2013ء) کے ترجمان اور وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے اس( نسوار) نے خلاف کسی حدتک بھی جانے کا اعلان کیا تھا۔

نسوار سے اظہار نفرت کی ترنگ میں آکر انہوں نے تمباکو، چونا اور پانی کے اس امیزے (نسوار)کو پختون  کلچر کا دشمن اور انگریزنوآبادیاتی دور کا منحوس یادگار اور غلامی کی نشانی قرارد یا تھا۔ میاں صاحب کے لب و لہجے کو دیکھ کر ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اپریل 1930ءمیں انگریز سامراج نے قصہ خوانی میں نہتے پختونوں پر گولیاں برساکر اتنا نقصان نہیں پہنچا یا تھا جتنا یہ نسوار کلچر کو یہاں متعارف کرکے آنے والی پختون نسلوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی ہے۔ ہمارے سابق آ قا (انگریز) کے بارے میں یہ تو معلوم ہے کہ وہ شراب کا نشہ کرتے تھے لیکن کسی جارج ویلیم، کسی چیمسفورڈ یا روس کیپل یا مائکل کے نسوار کا نشہ کرنے کے بارے میں بالکل معلوم نہیں تھا اسلئے یہ کس طرح انگریز دور کی نشانی ہے، کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔سوویت فوج کے سربراہ نے آخری سپاہی کے سالانگ ٹنل سے واپسی کے موقع پر کہا تھا کہ ہم تو آج جارہے ہیں لیکن ہمارے بوئے ہوئے گولہ بارود کم آزکم دس سال تک افغانوں سے لڑتے رہیں گے.

۔ 1947ء میں اگرچہ انگریز نے اپنا بورے بستر یہاں سے گول کر کے سات سمندر پار چلے گئے لیکن ان کا نسوار تو اب تک پختون سرزمین کو داغدار کرنے اور بقول میاں صاحب پختون کلچر کے حسن کو گہنا دینے میں ان کے دولت کے ضیاع میں مصروف ہے۔ مائنز ڈیٹکٹر  mines detector))  کے ذریعے تو سوویت یونین کے بچھائے گئے بموں کا صفایا چند ہی سالوں میں ممکن ہوا لیکن انگریز کی چھوڑی ہوئی نسوار کی پختون معاشرے میں نفوذ پذیری کا اندازہ تمباکو کی سالانہ تجارت کے حجم سے لگایا جاسکتا ہے جو کہ پاکستان تمباکو بورڈے6ارب روپے سے تجاوز کرجاتی ہے۔


             میاں صاحب کا خد ا بھلا کرے کہ ہمارے ذہنوں سے ایک غلط فہمی کو دور کردیا تھا ورنہ ہم اس غلط فہمی کے ساتھ عمر گزار دیتے کہ نسوار پختون کلچر کا جز و لاینفک ہے۔ ہم بچپن سے نسوار سے متعلق بے شمار کہانیاں اور حکایات سنتے آئے ہیں اور لوک کہانیوں میں بھی نسوار کا ذکر جابجا ملتا ہے اور نغوذ باللہ ہم تو یہاں تک سوچ رکھا تھا کہ نسوار کے بغیر پختون کلچر ایسا ہے  جیسے نمک کے بغیر چپلی کباب۔ پختو کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ “چہ نسوار نہ لری تو یا ر نہ لری”۔ کتاب کو ایک خاموش اور بہترین دوست قرار دی گئی ہے مگر پختو کہاوت اور محاوروں میں نسوار کو ایک دانا اور رازدان دوست کا مقام دیا گیا ہے۔ ایک کہاوت میں تو بے وفا دوست پر ایک چٹکی بھر نسوار کو فوقیت دی گئی ہے۔ نسوار کی ابتداء کے بارے میں  تو تاریخ کے اوراق خاموش ہیں البتہ ا سکی بادشاہت کا دائرہ ڈیورنڈ لائن کے آرپار پختون بیلٹ سے بہت دور سنٹرل ایشیائی ممالک، ایران، انڈیا  تک ہے۔

پختون آبادی کے تقریباً     70فیصد نسوار سے مستفید بتایا جاتا ہے جبکہ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے کیونکہ دس سال سے لے کر سو سال کے جوان تک اس کے سحر میں گرفتار پائے جاتے ہیں گویا ایک دفعہ اس کا ذائقہ چکھنے والے عمر بھر اس کے اسیر ہوکر رہ گئے۔ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے پڑھ کر واپس آنے والے پشاور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر بتارہے تھے کہ پاکستان سے جاتے ہوئے تو وہ نسوار کی عدم دستیابی کے خوف کا شکار تھے لیکن اُ ن کے بقول ‘خد ا کے فضل سے’لندن شہر کے کسی نواحی قصبے میں نسوار فروش نکل آیا جس سے وہ ہفتہ بھر کا راشن لایا کرتے تھے۔

نسوار کسی بھی رنگ میں ہو(کالی یا ہری)جگر، پھیپھڑے اور منہ کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ میاں افتخار صاحب کی نسوار کی خلاف صلیبی جنگ کی کامیابی کے آثار خال خال نظر آتے ہیں کیونکہ مردان، صوابی، تخت بھائی، چارسدہ کے علاقوں میں تمباکو کی بمپر فصل کا نعم البدل کیا ہوسکتا ہے اور بنوں اور ڈی۔آئی۔ خان کی نسوار انڈسٹری کی جگہ اور کیا لے سکتی ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں بتا یا گیا۔ کراچی سمیت پنجاب کو ان دو شہرو ں سے نسوار کی سپلائی ہوتی ہے۔ اعصابی طور پر کمزور واقع ہونے کے ناطے مجھے یہ خوف دامن گیر ہے کہ شیوخ کے اس ظالمانہ فیصلے کے نتیجے میں آ ئند ہ چند ماہ کے اندر ہمارے ملک کو آنے والی قیمتی زرمبادلہ کے ذخائر میں خوفناک حد تک کمی ہوگی کیونکہ انہیں کماکر یہاں بھیجنے والے جان تو فدا کرسکتے ہیں لیکن نسوار سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ سال پشاور کی بی آر ٹی انتظامیہ کے نسوار دشمنی پر مبنی قدم کو فراموش نہیں کیا تھا کہ ایک اور افتاد ان پر آ پڑی۔ چار سال تک مشکل اور مصائب جھیلنے اور صبر شکن انتظار کے بعد انہیں اس وقت مایوسی ہوئی جب بی آرٹی میں اس پر پابندی عائد کی گئی اور شروع شروع میں تو تلاشی لے لے کر نسوار کی پڑیا ضبط کیا جاتا تھا۔ مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں نسوار پر بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔


شیئر کریں: