Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فوری اور سستے انصاف کا حصول ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

فوری اور سستے انصاف کا حصول ہر شہری کا بنیادی قانونی اورآئینی حق ہے۔ انصاف کی فراہمی کے لئے ہی ادارے قائم کئے جاتے ہیں۔ ان اداروں کے اہلکاروں کو دوران ملازمت سرکاری خزانے سے پرکشش تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں۔اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ قومی خزانے سے تاحیات استفادہ کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا صرف عدلیہ کی ذمہ داری گردانا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ کا بنیادی کام ظلم کو روکنا اور مظلوم کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ عدلیہ پر اتنا بوجھ ڈالا گیا کہ اس کے لئے سستا انصاف فراہم کرنا اور ظلم و زیادتی کو روکنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

عدالتوں پر دیوانی اور فوجداری مقدمات سے زیادہ سیاسی مقدمات کا بوجھ لادا گیا ہے اور حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ عدالتیں سیاسی مقدمات پہلی فرصت میں نمٹائیں۔عدالتوں میں ججوں کی کمی ہر دور حکومت میں عدلیہ کا مسئلہ رہا ہے۔ جو عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھتے رہنے کی بڑی وجہ ہے۔ اعلیٰ عدلیہ مقدمات جلد سے جلد نمٹانے اور عوام کو سستا اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے اقدامات بھی کر رہی ہے۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے 2016میں عوام کوسستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے خیبر پختونخوا کے اکثر اضلاع میں کیمپ کورٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

چیف جسٹس کے حکم پر ملک کے دور افتادہ ضلع چترال میں بھی عدالت عالیہ کا کیمپ کورٹ قائم کیاگیا۔ طے پایاتھا کہ ہرتین یا چھ ماہ بعد عدالت عالیہ کا ایک جج کیمپ کورٹ جاکر مقدمات نمٹائے گا۔مگر مرکزی عدالت اور سرکٹ بنچوں میں مقدمات کے انبار کی وجہ سے کیمپ کورٹس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاسکی جس کی وجہ سے وہاں مقدمات کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی گئی۔ اب چترال کیمپ کورٹ میں ساڑھے سات سو مقدمات زیرالتواء ہیں سائلین کا کہنا ہے کہ مقدمات کی سماعت کے لئے ایک جج مہینے دو مہینوں کے اندر کیمپ کورٹ میں چند دنوں کے لئے آتا ہے مگر ان کے لئے اتنے سارے مقدمات کی سماعت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے کیمپ کورٹ میں مقدمات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

سائلیں چترال کے طول و عرض سے اپنے مقدمات کی سماعت کی امید لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر آتے ہیں مگر ان کی باری نہیں آتی۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ اگر ججوں کی مصروفیات کی وجہ سے کیمپ کورٹ میں سماعت ممکن نہیں تو یہ مقدمات دارالقضاء سوات یا پشاور ہائی کورٹ ریفر کئے جائیں کیونکہ چترال میں سماعت کی آس پر بیٹھے رہنے سے ان کے لئے پشاور اور سوات جانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

چترال کیمپ کورٹ میں دائر مقدمات میں سے نوے فیصد سے زیادہ دیوانی اور فوجداری نوعیت کے ہیں۔ اور یہ مقدمات کئی برسوں تک ذیلی عدالتوں میں بھی چلتے رہے ہیں اور سائلین کو انصاف کے لئے پہلے ہی کئی عشروں تک انتظار کرنا پڑا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے انصاف کی فراہمی کا عمل تیز کرنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے مگر سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ جس کی بنیادی وجہ انصاف کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں ہیں اور یہ کام عدالتی فیصلے سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے انجام پاسکتا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔اور جو لوگ ان مشکلات سے گذرتے ہیں انہیں ایوان اقتدار تک پہنچنے کا راستہ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے 75سال گذرنے کے باوجود ہم اب تک انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین اور نظام کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست مدینہ کا نظام متعارف کرنے کی دعویدار حکومت سب سے پہلے نظام انصاف میں اصلاحات لانے کے لئے عملی اقدامات کرے۔


شیئر کریں: