Chitral Times

Aug 13, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرکاری اطلاعات اور غذر ایکسپریس وے تحریر : شمس الحق نوازش غذری

شیئر کریں:

سرکاری اطلاعات اور غذر ایکسپریس وے تحریر : شمس الحق نوازش غذری

غذر ایکسپریس وے کے حوالے سے تحصیل گوپس سے جو معلومات میڈیا کو فراہم کی گئی ہیں وہ مِن و عن اپنی اصلی شکل اور روپ میں حسب ذیل ہیں۔


۱۔ گلگت سے شندور کے آخری حدود تک (آخری حدود کا نام اورنشاندہی کا ذکر موجود نہیں) روڈ کی کل لمبائی 216 کلومیٹر ہے۔


۲۔ روڈ کی تعمیر کے لیے زمین کے حصول کا کام باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا ہے اور اب تک موضع داہیمل مکمل کرلیا گیا ہے۔


۳۔ روڈ کی چوڑائی مختلف جگہوں میں مختلف ہے۔ آبادی سے باہر اور پہاڑی علاقوں میں روڑ کی کل چوڑائی 50 میٹر ہے جو کہ فٹ میں 164 فٹ بنتا ہے۔ کل چوڑائی میں 33فٹ موجودہ روڑ بھی شامل ہے۔


۴۔ جب کہ آبادی والے علاقوں میں رو ڈ کی کل چوڑائی 15 میٹر ہے جو کہ فٹ کے حساب سے 50 فٹ بنتا ہے۔ اس 50 فٹ میں بھی موجودہ 33 فٹ روڑ شامل ہوگا۔ یعنی کہ 17 فٹ اضافی زمین کا حصول ہوگا۔


۵۔ رو ڈ کے لیے جانے والی تمام زمینوں اور اس میں موجود اسٹریکچر کا بروقت معاوضہ دیا جائے گا۔


۶۔ زمین کا حصول این ایچ اے کے سروے کے مطابق ہورہا ہے۔


۷۔ عوام کی مزید آگہی (آگاہی) کے لیے گوپس میں ایک آگہی سیشن بھی رکھا جائے گا۔


معزز قارئین! غذر چترال روڑ کے گردونواح میں قدرتی مناظر حسن و جمال میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ یہ گلگت بلتستان میں واحد رو ڈ ہے جس کے آخری سرے میں پہنچ کر سیاح کو واپس مڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ سیاح غذر سے شندور، شندور سے چترال اور چترال سے براستہ دیر پشاور پہنچ سکتا ہے۔ دُنیا کے حالات اِدھر سے اُدھر ہوجائیں غذر سے لیکر لواری ٹنل تک کے آس پاس غاروں میں چھپے درندوں کے جذبات میں بھی غیر ضروری جوش اور ہیجان پیدا نہیں ہوتا۔ دُنیا کی کوئی خاتون اس رو ڈ میں اکیلی سفر کرے تو اس کی عفت و عصمت کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔

دُنیا کی بلند ترین پولوگراؤنڈ شندور غذر چترال ایکسپریس وے کے عین وسط میں واقع ہے۔ قدرتی حسن و جمال کے علاوہ یہاں کے باسی انتہائی صلح جُو اور نرم خُو مزاج کے حامل ہیں۔ یہاں کے مکینوں کی اِن صفاتِ حمیدہ کی بناء پر دُنیا کی دس ہزار سالہ تاریخ میں یہاں کا امن و امان بدنظروں کی چشمِ بد سے محفوظ رہا ہے۔ جی ہاں۔۔! وہی امن و امان۔۔۔جس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر اُس وقت دُعا کی تھی۔ جب آپ حضرت حاجرہ ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کو مکہ کی بے آب و گیاہ اور ویران زمین میں چھوڑ کر واپس جارہے تھے (آپ ؑ نے دُعا کی تھی) اے پروردگار تو اس جگہ کو امن و امان کا شہر بنادے اور اپنے فضل و کرم سے اس شہر میں بسنے والے اُن تمام لوگوں کو ہر قسم کی رزق عطا فرماوے۔ جو تجھ پر اور آخرت پر ایمان لے آئیں۔


آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیمؑ نے دُنیا میں خوشحالی، ترقی اور رزق کی فراوانی کا فارمولا طے کردیا تھا چنانچہ جب تک کسی ملک میں امن امان نہیں ہوتا اس وقت تک وہ ملک خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں ہوسکتا۔ تم امریکہ سے لے کر جاپان اور ملائشیاء سے لے کر دبئی تک دُنیا کے تمام خوشحال ملکوں کا پروفائل نکال کر دیکھ لو تمہیں ان سب مین امن و امان مشترک ملے گا اور تم راوانڈا سے افغانستان اور برازیل سے پاکستان تک کے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک کا مطالعہ کرو تمہیں یہ تمام ممالک لاء اینڈ آرڈر کے مسائل کا شکار ملیں گے ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔

حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کے شہریوں کے لیے جو امن و امان مانگ تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وراثتی جائیداد کی طرح اُسی امن و امان سے ہمیں نوازا ہے۔ دنیا میں ایسے خطے انتہائی قلیل تعداد میں موجود ہیں جہاں انتہا درجے کی قدرتی حُسن و گلوسوز بھی ہے اور بے مثل اَمن و امان بھی۔۔۔۔ یہ دو نعمتیں زمین کے کسی بھی خطے کو اس کے دیگر حصوں سے منفرد بھی بنادیتی ہیں اور ممتاز بھی۔ دُنیا میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں دلکش اور دل آویز مناظر موجود ہیں لیکن وہ امن و امان کی نعمت سے محروم ہیں اور کئی خطے اور علاقے ایسے ہیں جہاں چیونٹی کا قتل جرمِ عظیم ہے لیکن وہاں کا جغرافیہ حسن و دلکشی سے محروم ہے۔ زمین کا جو حصہ ان دو نعمتوں سے مالا مال ہو اُس حصے کی مٹی کو ہیروں کے ساتھ تولا جائے تو بھی اس مٹی کا حق ادا ہیں ہوگا۔ چہ جائے کہ اب اس قسم کی بقعہئ خاکی کو وہاں کے مکینوں کی سادہ لوحی سے غلط فائدہ اُٹھا کر غصب کرنے کی کوششوں اور سازشوں میں لگے رہیں جہاں پہنچ کر ہر سیاح کے زبان سے بے ساختہ یہ جملہ نکلتا ہے۔


اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است


شیئر کریں: