Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرکتی جاتی ہے پاؤں تلے سے ریگ حیات – از قلم : کلثوم رضا

شیئر کریں:

جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے۔خانداں والوں اور رشتہ داروں کی اپنی جگہ ملکی اور غیر ملکی ہر عام و خاص کی تاریخ پیدائش معلوم ہو گئی ہے آئے روز کسی نا کسی کے سٹیٹس پہ لکھا ہوتا ہے “ہیپی برتھ ڈے”بلکہ ایک دو دن پہلے بھی “برتھ ڈے گرل یا برتھ ڈے بوائے کے ساتھ تصویر بھی شئیر کی جاتی ہے۔ اور اب دسمبر کے بالکل آخری ایام ہیں اور نیا سال شروع ہونے والا ہے۔۔


ایسے میں ہر قسم کے پوسٹس سامنے آتی ہیں۔۔کوئی معافی مانگ رہا ہوتا ہے،تو کوئی اگلے سال کے لیے بھی شرارت کے لیے تیار رہنے کو کہتا ہے،کوئی جانے والے سال سے شکوہ شکایت کرتا ہے تو کوئی اس کے پیچھے غمگین ہے۔کوئی نئے آنے والے سال کی پیشگی مبارکباد دیتا ہے ۔۔


بہر حال جب ہماری بھی عقل کچی تھی تو اپنی تاریخ پیدائش کو یاد کر کے خوش ہوتے تھے کہ ہم اتنے سال کے ہو گئے اس بات سے بالکل قطع نظر کہ “ایک اینٹ اور گر گئی دیوار حیات سے”


لیکن جب شعور آگیا تو سمجھ گئے کہ عمر بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہے۔مجھے وہ بات کبھی نہیں بھولتی جب میرے ماموں نے اپنے تیس سال مکمل ہونے پر کہا کہ ” اب چڑھائی ختم اب ہم اترائی میں جانے لگے ہیں”جب اس بات پر غور کیا تو واقعی ایسا ہی ہے ۔۔تیس سال تک جاتے ہوئے لگتا ہے کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے۔بہت سے کام کریں گے ابھی تو سفر شروع ہے مگر تیس سال کے بعد جب اترائی کی طرف جانے لگتے ہیں تو رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب پینتیس،چالیس اور پینتالیس کے ہو گئے۔ہر وہ لمحہ جو مستقبل تھا حال میں بدل کر آن کی آن گزر کر ماضی بنتا جا رہا ہے۔ہاتھ میں بندھی گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک ہمیں خبردار کرتی رہتی ہے کہ تمھارا ایک ایک لمحہ گزر رہا ہے۔تمھاری عمر بڑھ نہیں رہی گھٹ رہی ہے۔تم چڑھائی سے اتر چکی ہو اور تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو۔۔۔مگر ہم ہیں کہ اس بات کو یکسر نظر انداز کیے خود کو دھوکا دئیے جا رہے ہیں کہ ابھی نہیں ،ابھی بہت سے کام باقی ہیں جو کرنے ہیں ۔۔۔انھیں بھی اج کا کل پر کل کا پرسوں پر ٹالے ہوئے ہیں۔

اس بات سے لاپرواہ کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا وہ تو گزرتا جا رہا ہے۔اور جس تیز رفتاری سے گزر رہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے گھڑی میں سکینڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے ہوتا ہے۔حالانکہ ایک سکینڈ بھی وقت کی بڑی مقدار ہے۔ اسی ایک سکینڈ میں روشنی اپنا سفر ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل طے کر لیتی ہے اور خدا کی خدائی میں بہت سی ایسی چیزیں بھی ہو سکتی ہیں جو روشنی سے بھی تیز رفتار ہوں اور انسان کے علم میں نہ آئے ہوں۔تاہم اگر وقت کے گزرنے کی رفتار وہی سمجھ لی جائے جو گھڑی میں سکینڈ کی سوئی چلنے سے نظر آتی ہے اور اس بات پر غور کیا جائے کہ ہم جو برا بھلا فعل کرتے ہیں اور جن کاموں میں مشغول رہتے ہیں سب کچھ اس محدود مدت عمر میں وقوع پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں ہم کو کام کرنے کے لیے دی گئی ہے۔تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ تو یہی وقت ہے جو تیزی سے گزر رہا ہے۔اور ہم لا پرواہی سے ان کاموں میں مصروف ہیں جو ہمارے ذمے نہیں تھے۔ہم اپنے ذمے کا کام کرکے نفع حاصل کرنے کے بجائے بے معنی کاموں میں لگ کر خسارے کو گلے لگا رہے ہیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ سورہ العصر میں دو ٹوک الفاظ میں فرماتے ہیں کہ


قسم ہے زمانے کی کہ انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق بات کی تاکید اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔
آج ہم اپنی گریبان میں جھانک کر اگر دیکھ لیں تو صاف پتہ چل جائے گا کہ کتنے خسارے میں ہیں۔۔کیا ہم نے اس سورۃ کی غرض وغایت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے؟ کیا جس خسران سے رب کائنات نے ہمیں خبردار کیا ہے اس خسارے سے بچنے کی کوشش ہم کر رہے ہیں؟
ایمان کے ساتھ عمل صالح تو پھر بھی کر لیتے ہیں مگر کیا حق بات پر عمل خود بھی کرکے دوسروں کو اس کی تاکید کر رہے ہیں؟اور کیا حق گوئی پر مشکل وقت آنے پر صبر سے کام لیتے اور دوسروں کو اس کی تلقین کر رہیے ہیں؟اگر خدا ناخواستہ ہمارا جواب نہیں میں ہے تو یقیناً ہم خسارے میں ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور خسران سے بچانے والی ان چاروں عوامل پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے سورۃ العصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازاروں میں آواز لگا رہا تھا کہ “رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے”اس کی یہ بات سن کر میں نے والعصر ان الانسان لفی خسرکا مطلب سمجھ گیا۔


عمر کی جو مدت انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی صورت گزر رہی ہے۔اس کو اگر ضائع کیا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے۔
موت کا آنا یقینی ہے اور موت کا وقت غیر یقینی۔۔۔کسی کو نہیں معلوم کہ کونسی صبح آخری صبح ہے اور کونسی شام آخری شام۔۔انسان ہر صبح اس طرح گزارے کہ اگلی صبح شاید نہ آئے اور ہر شام اس طرح کہ اگلی شام شاید نہ آئے۔


اس لیے جو معاملات انسان کے ذمے ہیں جو اسے خسارے سے بچا سکتے ہیں یعنی (ایمان کے ساتھ عمل صالح اور حق بات یعنی اس کے پاس کوئی گواہی ہے تو اُسے صحیح استعمال کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرے اور جو مشکل حالات یا کوئی غم اسے درپیش ہو تو خود بھی صبر کرے اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی اس کی تلقین کرے۔)


یا الٰہی !جو کام ہمارے ذمے ہیں انکو مقررہ وقت سے پہلے کرنے کی توفیق اور طاقت ہمیں عطا کر تاکہ جس وقت بگل بج جائے اور موت کا فرشتہ آکر ہم سے یہ کہے کہ “آخری سفر کا وقت آگیا تو ہمارے پاس ذاد راہ ہو آگے کی سفر کے لیے۔۔۔
وہ وقت کب آئے گا کسی کو نہیں معلوم نہ کل کا اعتبار ہے نہ پرسوں کا ،نہ صبح کا اعتبار ہے نہ شام کا۔۔بس جو گھڑی اس وقت ہاتھ میں ہے اس کا اعتبار ہے اور وہ ٹک ٹک ٹک ٹک ہر گزرتے لمحے سے خبردار کر رہی ہے۔


شیئر کریں: