Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وفاقی کابینہ نے پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی

شیئر کریں:

وفاقی کابینہ نے پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی

اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ) وفاقی کابینہ نے پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی۔ نیشنل سیکیورٹی پالیسی قومی سلامتی ڈویڑن کی جانب سے پیش کی گئی۔وزیر اعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ قومی سلامتی پالیسی 2022 تا 2026 کیلئے ہے۔ قومی سلامتی پالیسی کے تحت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دیدی، قومی سلامتی کی پالیسی نہایت جامع ہے، قومی سلامتی کیساتھ فوڈ سکیورٹی وابستہ ہے، پہلی بار قومی سلامتی کو معاشی صورتحال سے جوڑا گیا ہے، قومی سلامتی کی پالیسی کاسب سے اہم نقطہ عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنا ہے، پالیسی کے ذریعے عام آدمی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، عام آدمی کے تحفظ تک ملکی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوگا۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے، کپاس، گندم، چاول اور گنے کی تاریخ کی سب سے بڑی پیداوار حاصل ہوئی، اچھی پیداوار سے کاشتکاروں کو 1100 ارب اضافی آمدن ہوئی، ٹریکٹر اور زرعی آلات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، کابینہ کو یوریا کی پیداوار پر بریفنگ دی گئی، ان یوریا پلانٹس کو گیس فراہم کی گئی جنہیں عام طور پر ان دنوں میں گیس نہیں دی جاتی، عالمی مارکیٹ میں یوریا کی قیمت 10 ہزار روپے جبکہ پاکستان میں 1700 سے 1900 میں بک رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے پاس یوریا کا اسٹاک موجود ہے، یوریا کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے باعث مصنوعی قلت کا سامنا رہا، آئندہ 48 گھنٹے میں یوریا کی فراہمی میں نمایاں فرق پڑے گا۔ کھاد کا بحران پیدا ہوا ہے، ڈی اے پی ہم درآمد کرتے ہیں۔مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے، واضح وڑن کے ذریعے ہی آئندہ کی حکمت عملی اور پالیسی مرتب دی جاسکتی ہے، سیکیورٹی کا مقصد ملک کے عام شہری کو تحفظ فراہم کرنا ہے، قومی سلامتی پالیسی پر 2014 سے کام شروع ہوا اور 7 سال اس پر لگے، قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی پر سب سے زیادہ فوکس کیا گیا۔

نواز شریف نے خود واپس نہیں آنا، انہیں ہم واپس لائیں گے، مولانا فضل الرحمان تین سال سے تاریخیں دے رہے ہیں، حکومت گرانا ان کے بس کی بات نہیں، اس کیلئے لیڈر شپ کی ضرورت ہوتی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کی میڈیا کو بریفنگ


اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف نے خود واپس نہیں آنا، انہیں ہم واپس لائیں گے، اپوزیشن میں دیہاڑی دار سیاستدان اپنی دیہاڑی لگاتے ہیں، مولانا فضل الرحمان تین سال سے تاریخیں دے رہے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے سال ہی مولانا فضل الرحمان کاٹھ کباڑ لے کر اسلام آباد آ گئے تھے، حکومت گرانا ان کے بس کی بات نہیں، اس کے لئے لیڈر شپ کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے پاس نہیں، رانا شمیم کے بیان حلفی کے بعد معلوم ہوا کہ نواز شریف اینڈ کمپنی کتنا بڑا سیسیلین مافیا ہے، یہ عدالتوں پر دباؤ ڈال کر کیسز کو اپنے حق میں کروانا چاہتے ہیں، وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پہلی مرتبہ ہم نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے، نیشنل سیکورٹی پالیسی کے ساتھ انٹرنل پالیسی اور فوڈ سیکورٹی پالیسی سمیت دیگر وزارتوں کی پالیسیاں بھی منسلک ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلی مرتبہ قومی سلامتی کی پالیسی میں جیو اسٹریٹجک پالیسی کے ساتھ اکنامک اسٹریٹجی کو بھی منسلک کیا گیا ہے، اگر معیشت طاقتور نہیں تو سلامتی کی گارنٹی نہیں ہو سکتی، جب تک عام آدمی معاشی، سماجی اور قانونی طور پر مطمئن نہیں ہوگا، ملک کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی میں عام آدمی پر فوکس کیا گیا ہے، 2014ء میں اس پالیسی پر کام شروع ہوا تھا، 2021ء میں اس پالیسی کی منظوری ہوئی، پالیسی کی منظوری میں تقریباً 9 سال لگے، 18 مختلف وزارتوں کا ان پٹ اس میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں نیشنل سیکورٹی پالیسی کے نکتہ نظر پر اتفاق نہیں تھا، پہلی مرتبہ ایک ایسی حکومت برسراقتدار ہے جو تمام نکتہ ہائے نظر کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پہلی مرتبہ ہم نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے، نیشنل سیکورٹی پالیسی کے ساتھ انٹرنل پالیسی اور فوڈ سیکورٹی پالیسی سمیت دیگر وزارتوں کی پالیسیاں بھی منسلک ہیں۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ کو یوریا کی پیداوار پر بھی بریفنگ دی گئی،

اس وقت پاکستان میں زرعی شعبہ حکومت کی اہم ترجیح ہے، گزشتہ دو سالوں میں زرعی پیداوار میں بے پناہ کامیابیاں ملی ہیں، ہماری کپاس، گنے، چاول، گندم اور مکئی کی فصلوں کی پیداوار میں بہتری آئی ہے، گندم، چاول اور گنے کی تاریخی پیداوار ہوئی ہے، 1100 ارب روپے اضافی زرعی شعبہ میں گئے، رورل سیکٹر میں ٹریکٹروں، موٹر سائیکلوں، زرعی ادویات کی خریداری میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں ڈی اے پی کی قیمت تقریباً 12 ہزار روپے ہو گئی ہے، ڈی اے پی پاکستان نہیں بناتا، 70 فیصد ڈی اے پی درآمد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کے بحران کے باوجود ہم نے یوریا پلانٹس کو گیس فراہم کی، اس سال پاکستان میں یوریا کی تاریخی پیداوار ہوئی، عالمی منڈی میں یوریا کی قیمت 10500 روپے کے لگ بھگ ہے، پاکستان میں یوریا کی قیمت 1700 روپے سے 1900 روپے کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پاکستان میں یوریا کی قلت کئی جگہوں پر محسوس ہوئی، ہمارے پاس یوریا کا وافر ذخیرہ موجود ہے، قیمتیں بھی مستحکم ہیں، پیداوار بھی ٹھیک ہے لیکن کچھ جگہوں پر ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک ٹرک یوریا سمگل ہو تو تقریباً 80 لاکھ روپے تک کمائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ یوریا کی ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ پر بھرپور کارروائی کرے، یوریا کی مصنوعی قلت پر قابو پا لیا جائے گا، 48 گھنٹوں میں واضح بہتری آ جائے گی۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی 2019ء کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے کا حکم دیا ہے، پاکستان میں صرف سیاستدان ہی ہیں جن کے ٹیکسز عوام کے سامنے آتے ہیں، باقی کسی شعبہ میں اتنی اکاؤنٹیبلٹی نہیں جتنی سیاستدانوں کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایک ایسی حکومت قائم کی جس کی بنیاد شفافیت پر مبنی ہے۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سیاستدانوں اور ان کے خاندانوں کے اثاثے ہمارے سامنے ہیں، نئی ڈائریکٹری کے نتیجے میں ٹیکس کی ادائیگیاں بھی سامنے آ جائیں گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزارت خزانہ کی سفارش پر ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری دی گئی ہے، شہزاد نقوی، فائزہ کپاڈیہ، یاسمین لاری، عدنان علی اور عمران احد ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے موجودہ چیئرمین مسعود نقوی کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے محمود مانڈوی والا کو بطور ممبر بورڈ اور چیئرمین تعینات کرنے کی منظوری دی۔ وزارت خزانہ کی سفارش پر کابینہ نے مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ پر نامور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اعجاز نبی کو نامزد کرنے کی منظوری دی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں تمام تعلیمی بورڈز کی زیرنگرانی امتحانات کے معیار کو یکساں بنانے، تعلیمی دستاویزات کی تصدیق اور بورڈ کے مابین رابطہ اور تعاون کو بڑھانے کے لئے کابینہ نے انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن ایکٹ 2021ء کے مسودہ کی اصولی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وزارت اطلاعات و نشریات کی سفارش پر محمد عاصم کو بطور ایگزیکٹو ممبر پیمرا تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر ناظم جوکھیو کے قتل کی تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کی منظوری دی۔ ناظم جوکھیو کو میمن گوٹھ کراچی میں قتل کیا گیا تھا۔ اس ٹیم میں پولیس انٹیلی جنس ایجنسیز اور سول و عسکری فورسز کے نمائندے شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے سٹیزن کلب بلڈنگ ایف نائن پارک اسلام آباد کو گندھارا ہیریٹیج اینڈ کلچرل سینٹر میں قائم کرنے کے لئے مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی۔کمیٹی کی نگرانی وزیراعظم کریں گے اور مینجمنٹ کمیٹی میں وفاقی وزیر تعلیم، سیکریٹری وزارت داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور شعبہ ثقافت سے منسلک تین نامور شخصیات شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے مسماۃ نازیہ شاہین اور شبر عباس کے خلاف ایکسٹریڈیشن کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی۔ دونوں ملزمان کی تحویل کے لئے حکومت اٹلی نے مطالبہ کیا تھا تاکہ ان کے خلاف مقدمہ قتل کی کارروائی کی جا سکے۔اسی طرح کابینہ نے محمد عثمان کے خلاف ایکسٹریڈیشن کی کارروائی شروع کرنے کی بھی منظوری دی۔ محمد عثمان کی تحویل کے لئے متحدہ عرب امارات نے مطالبہ کیا تھا تاکہ ان کے خلاف مقدمہ قتل کی کارروائی کی جا سکے۔ کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ کی سفارش پر بینکنگ کورٹ نمبر 1 کو ملتان سے ڈیرہ غازی خان منتقل کرنے کی منظوری دی تاکہ ڈیرہ غازی خان ڈویڑن میں بینکاری سے متعلق زیر التواء کیسز جلد نمٹائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے گوادر میں 1.2 ملین گیلن یومیہ ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کے لئے معاہدے کی ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ سی پیک کے تحت 2.2 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، اس منصوبے سے گوادر کے رہائشیوں کے لئے صاف پانی کی سہولیات مہیا ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں حالیہ احتجاج کے موقع پر ہمارے وفاقی وزراء اسد عمر اور زبیدہ جلال نے صاف پانی کا منصوبہ دینے کا وعدہ کیا تھا، اب یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے ڈاکٹر شائستہ ذیشان کو چار سال کی مدت کے لئے بطور ایگزیکٹو ممبر نیشنل میڈیکل اتھارٹی پاکستان میڈیکل کمیشں تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔کابینہ نے ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارش پر تین ادویات کی فارمولیشن میں تبدیلی کرنے کی اجازت دی تاہم ان ادویات کی قیمت فروخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے این ڈی ایم اے کی سفارش پر کیوبا کے لئے کورونا وباء کے پیش نظر 23.3 ملین روپے مالیت کی امدادی اشیاء بھجوانے کی منظوری دی ہے جن میں 10 ہزار این 95 ماسک، 50 ہزار فیس ماسک، 10 ہزار حفاظتی سوٹ، 10 ہزار حفاظتی گاؤن شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں کووڈ کا پہلا کیس آیا تو اس وقت ہم یہ تمام چیزیں درآمد کر رہے تھے، آج مجھے خوشی ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں جو منصوبے شروع کئے، ان کی بدولت آج پاکستان دنیا میں کووڈ مٹیریل فراہم کرنے والا بڑا برآمد کنندہ ملک بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے وزارت منصوبہ بندی کی سفارش پر پاکستان پلاننگ اینڈ مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ بل 2021ء کا مسودہ کمیٹی برائے قانون کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی، اس قانون سے پی پی ایم آئی کو خودمختار حیثیت حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے مورخہ یکم دسمبر 2021ء کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ وزارتوں کو حق دیا گیا ہے کہ وہ خالی اسامیوں پر چھ ماہ کے لئے عارضی طور پر بھرتیاں کر سکیں گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے کمیٹی برائے قانون کے مورخہ 16 اور 17 دسمبر 2021ء کو منعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی جن میں قائداعظم فاؤنڈیشن ایکٹ 2021ء کا مسودہ، پاکستان سپورٹس بورڈ 2021ء کی تشکیل، سیکورٹیز اینڈ فیوچرز مارکیٹ بل 2021ء کی منظوری، پاسپورٹ رولز 2021ء کا مسودہ، ٹرانسفر آف ریزیڈوئل (Residual) آئل ریگولیٹری فنکشنز ٹو اوگرا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021ء شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر حکومت پاکستان اور حکومت برطانیہ کے مابین ریٹرنز اینڈ ری ایڈمیشن دوطرفہ معاہدہ دستخط کرنے کی منظوری موخر کر دی ہے۔

معاہدے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لئے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر انسانی حقوق، معاون خصوصی برائے احتساب پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تین سال سے تاریخیں دے رہے ہیں، پی ٹی آئی نے جب اقتدار سنبھالا تو پہلے سال ہی مولانا فضل الرحمان کاٹھ کباڑ لے کر اسلام آباد آ گئے تھے، ان کا خیال تھا کہ ہم حکومت پلٹ دیں گے، ہر تین ماہ بعد یہ نئی تاریخ دیتے آئے ہیں، میڈیا کو ان کے تین سالوں کے بیانات سامنے لانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گرانا ان کے بس کی بات نہیں، اس کے لئے لیڈر شپ کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے پاس نہیں، یہ اپنے کارکنوں کو صرف چورن بیچ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن میں رہ کر عمران خان نے انہیں ناکوں چنے چبوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں دیہاڑی دار سیاستدان ہیں، یہ اپنی دیہاڑی لگاتے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ رانا شمیم کے بیان حلفی کے بعد معلوم ہوا کہ نواز شریف اینڈ کمپنی کتنا بڑا سیسیلین مافیا ہے، یہ عدالتوں پر دباؤ ڈال کر کیسز کو اپنے حق میں کروانا چاہتے ہیں۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ نواز شریف نے خود واپس نہیں آنا، انہیں ہم واپس لائیں گے، برطانیہ کے ساتھ اس حوالے سے کافی حد تک معاملات طے ہو چکے ہیں، نواز شریف کی واپسی کے بارے میں ایاز صادق کے بیان سے جاتی امراء والوں کا دل ہی بیٹھ گیا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منی بجٹ نہیں ہماری ایڈجسٹمنٹس کے حوالے سے بل پیش کیا جا رہا ہے، یہ بل اسی سیشن میں پاس ہو جائے گا، کابینہ میں اس پر ابتدائی بحث ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور زرداری جو کچھ پاکستان کے ساتھ کر گئے ہیں، اس کے نتیجے میں آج ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اپوزیشن اس پر باتیں کرنے کی بجائے اس کا متبادل سامنے لے آئے۔


شیئر کریں: