Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا – چترال میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں – عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا – چترال میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں – عبدالباقی چترالی

 لوئر اور اپر چترال میں سیاسی جماعتیں آنے والےبلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ موجودہ بلدیاتی نظام کے تحت تحصیل کونسل کا عہدہ سب سے اہم ہوتا ہے۔ تحصیل چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کے لئے دوڑدھوپ کر رہے ہیں۔ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں مذہبی جماعتوں نے اتحاد کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت بھی مذہبی جماعتوں کے بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لیے اتحادوقت کی اہم ضرورت ہے جو کہ فی الحال ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔اس وقت یہ مذہبی جماعتوں کے قیادت پر انحصار کرتا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی حالات کو مدنظر رکھتےہوئے اپنے چھوٹے موٹے اختلافات کو پس پشت ڈال کر دوبارہ اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟ اگر مذہبی جماعتیں اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دوسری جماعتوں کے لئے مذہبی جماعتوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد نہ ہونے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کرنا مذہبی جماعتوں کے لیے مشکل ثابت ہوگا۔ اس وقت چترال کے دونوں عوامی نمائندے مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں عوامی نمائندوں کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے اس وقت مذہبی جماعتوں کا سیاسی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہا ہے.  ایم این اے صاحب وعدے اور دعوے تو بہت کر رہے ہیں مگر حقیقت میں چترالی عوام کے مسائل حل کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوئے۔ایم پی اے صاحب کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مستقبل میں ان کی پارٹی کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان موجود ہے۔اس کی سیاسی ناتجربہ کاری اور اقربا پروری کی وجہ سے پارٹی بھی بد نام ہو رہی ہے۔ نہ وہ اپنی پارٹی منشور کا خیال رکھتا ہے ہے اور نہ ہی وہ ضلعی امیر کے مشوروں پر عمل کرتا ہے۔

موجودہ نمائندوں کے مایوس کن کارکردگی کے اثرات آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ضرور  اثر انداز ہوں گے۔ایم این اے صاحب اور ایم پی اے صاحب کی ناقص کارکردگی کا خمیازہ مذہبی جماعتوں کو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔ ایم پی اے صاحب کی ناقص کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تین سالوں کے دوران اپنے حلقے موڑکھو میں ایک ندی کے اوپر لکڑی کا ایک عارضی پل تعمیر کرنے میں کامیاب ہوا ۔اہالیان موڑکھو یہ شاندار کارنامہ انجام دینے پر ایم پی اے صاحب اور ان کی پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایم پی اے صاحب آئندہ بھی ایسی ہی شاندار اور تاریخی کارنامے انجام دیتے رہیں گے۔

تمہارے یہ شاندار کارنامے تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جائیں گے اور موڑکھو کی آنے والی نسلیں تمہارے اس شاندار کارنامے کو یاد رکھیں گے اور مستقبل میں تمہاری پارٹی کا نام بھی روشن ہوگا اور ملکوں کے عوام آپ کے اس کو شاندار قومی خدمت کو مدنظر رکھتے ہوئےآئیندہ بھی نمہیں نمائندہ منتخب کریں گے۔ چترال کے عوام جے یو آئی کی اعلیٰ قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ آئندہ پارٹی قیادت ٹکٹ دیتے وقت جمہوری اصولوں اور قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے امیدوار کو ٹکٹ دیں گے کہ جنہوں نے قلیل مدت میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور قابلیت کی وجہ سے چترالی عوام کے مشکل مسائل حل کر دیے اور پارٹی کا نام روشن کردیا۔

چترال کے عوام جے یو آئی کی اعلی قیادت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی اپنی سیاسی بصیرت اور تجربہ کی بنیاد پر پر ایسے ہی قابل لوگوں کو ٹکٹ دے دیں گے۔  کے پی کے بعض اضلاع میں حال ہی میں ہوئے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اس کے آٹھ سالہ ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ اگر موجودہ بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخ کو منعقد ہوئے تو کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور بیڈ گورننس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے لیے عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوجائے گا اور چترال میں بھی پشاور جیسا حشر ہونے کا امکان موجود ہے۔ پی ٹی آئی کے 8 سالہ دور حکومت میں چترال میں کوئی بڑی ترقیاتی کام نہیں ہوئے بلکہ سابقہ دور حکومت میں چترال کے لیے منظور شدہ منصوبوں کو بھی پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے دفن کرکے سرد خانوں میں  ڈال دیا۔

اپر چترال کوالگ ضلع کا درجہ دے کر اس کے لیے کوئی ترقیاتی فنڈ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔  ا پر چترال اب کا غذی ضلع بنا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت کی تعلیم کے مسائل اپر چترال کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔اس کا واضح ثبوت وزیر اعلی کے پی کے کا اپرچترال کا دورہ نہ کرنا ہے۔ اس کے اثرات آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار ضرور محسوس کریں گے۔ کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا مشکل ہوہوچکا ہے۔اس وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پشاور کے عوام کی طرح چترالی عوام کا بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کا امکان موجود ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے لیے پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتوں کے ناراض ووٹروں کو اپی جانب راغب کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ کی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اگر ان پارٹیوں کے ضلعی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھاکر تحصیل چئیرمین کےلیے اچھی شہرت کے حامل امیدوار لانے کامیاب ہوئے تو اُنکے الیکشن جیتنے کے امکانات موجود ہیں۔ چترال کے لیے سب سے زیادہ خدمات اے این پی نے اپے سابقہ دور حکومت میں انجام دے ہیں۔ اس کے باوجود اے این پی چترال میں ایک غیر فعال پارٹی تصور کی جاتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ برائے نام ضلعی قیادت ، عدم فعالیت اور عوامی امور میں عدم دلچسپی اور بےتوجہی ہے۔ اگراے این پی چترال میں تھوڑی بہت فعالیت کا مظاہرہ کرے تو اس مستقبل بھی چترال میں تابناک ہے۔ چترال کے لوگ محب وطن اور احسان شناس قوم ہیں جس سے ہر ایک پاکستانی واقف ہے۔

اے این پی کی طرح مسلم لیگ نون کوبھی چترال میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرنے کے باوجود ایک غیر فعال اور بے سہارا پارٹی سمجھا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت کی دورُخی سیاست چترالی عوام خوب واقف ہیں کیونکہ وہ موقع کی مناسبت سے پارٹی تبدیل کرنے کے ماہر اور دوسرے سیاسی بارات میں جانے کا شوقین لیڈر سمجھے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم لیگ ن کے نظریاتی کارکن ہر وقت مایوس، نالاں اور شرمندہ دکھائی دیتے ہیں اور الیکشن کے موقع پر کوئی بھی گرمجوشی دکھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ ان محرکات کا اثر مسلم لیگ ن پر پڑنا یقینی بات ہے۔ اگرمسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت اپنی دورُخی سیاست ختم کرکے نظریاتی کارکنوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوجائے تو چترال میں مسلم لیگ ن کا مستقبل بھی تابناک ہونے قوی امکانات موجود ہیں۔


شیئر کریں: