Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تنازعات کے حل کا نیافارمولہ ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

پارٹیوں کے درمیان سیاسی معاملات، قوموں کے تنازعات اور افراد کے مابین لڑائی جھگڑوں کے بعد حتمی فیصلہ مذاکرات کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور یہ دستور روز اول سے چل رہا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ تنازعات حل کرنے کے متبادل طریقے تلاش کئے جارہے ہیں۔ شنید ہے کہ حال ہی میں برازیل کے دوسیاستدان کے درمیان سیاسی تنازعہ باکسنگ رنگ تک پہنچ گیا۔برازیل کے مرکزی شہربوربا میں واٹرپارک قائم رکھنے یا ختم کرنے کا تنازعہ حل کرنے کے لئے شہر کے مئیراوران کے حریف سابق کونسلرکے درمیان بیانات کی جنگ ہوتی رہی۔ تنازعہ حل کرنے کے لئے مذاکرات اورثالثی کا راستہ بھی اختیار کیاگیا۔ مگر مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ ب

الاخر دونوں میں طے پایا کہ فیصلہ باکسنگ رنگ میں ہوگا۔ جو بھی فائٹ جیتا۔ واٹر پارک کے حوالے سے اسی کے موقف کی جیت فریقین قبول کریں گے۔مقامی اسکول کے جمنازیم میں ہونے والی فائٹ کودیکھنے کے لئے 100ڈالر کا ٹکٹ مقرر کیاگیا تھا۔ سیاست دانوں کے درمیان مقابلہ دیکھنے کے لئے ہزاروں تماشائی جمنازیم پہنچ گئے۔ 39سالہ مئیر اور اس کے سیاسی حریف کے درمیان مقابلہ شروع ہوا اور نوجوان میئر نے تیسرے راونڈ میں اپنے حریف سینئرسیاستدان کوچاروں شانے چت کرکے مقابلہ جیت لیا۔ مکسڈ مارشل آرٹس کامقابلہ مقامی ٹی وی پر بھی دکھایا گیا۔ باکسنگ کے مشہور امپائرز مقابلے کو سپروائز کر رہے تھے۔فائٹ ختم ہونے کے بعد دونوں نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اس طرح ایک مثبت سرگرمی کے ساتھ تنازع بھی حل ہوگیا۔

ہمارے زیادہ تر مسائل ناک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے لوگ بڑے بڑے معرکوں میں کود پڑتے ہیں جان کی بازیاں لگاتے ہیں۔ایک بار ناک ٹوٹ جائے تو ساری مستی کافور ہوجاتی ہے۔ اوربندہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔ ناک توڑنے کے لئے باکسنگ سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔ دنیا میں روز نئی تبدیلیاں آتی ہیں پرانی کہاوتیں اور ضرب الامثال بھی وقت گذرنے کے ساتھ متروک ہوجاتی ہیں کہاجاتا تھا کہ دنیا میں سارے لڑائی جھگڑے، جنگیں، محاذآرائیاں اور تنازعات مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔ برازیل والوں نے اس کہاوت کو غلط ثابت کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ممکن ہے کہ بوربا شہر کا میئر ماضی میں باکسر رہا ہو۔ اس لئے انہوں نے اس کھیل کو سیاسی تنازعے کے حل کا ذریعہ بنادیا۔

تنازعات حل کرنے کے لئے سیاست دانوں کے درمیان کرکٹ، ہاکی، جوڈوکراٹے،برفیلی پہاڑ پر چڑھنے، گہرے پانیوں میں غوطہ لگانے، گھڑ سواری اورتیراندازی کے مقابلے بھی کرائے جاسکتے ہیں۔لیکن کھیل اور سیاست سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں سپورٹس مین سپرٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے لوگوں کے مزاج میں ایک خرابی یہ ہے کہ ہارنے کے باوجود وہ شکست قبول نہیں کرتے۔ امپائر خواہ غیر جانبدار ہی کیوں نہ ہوں اس کا فیصلہ تسلیم نہیں کیاجاتا۔اس لئے برازیل والوں کے آزمودہ طریقے کو یہاں اختیار کرنے سے پہلے امپائر کا فیصلہ قبول کرنے اور اپنی شکست کو صدق دل سے تسلیم کرنے کی روایت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس کام میں صدیوں بھی لگ سکتے ہیں۔

اپنے لوگوں میں ایک بنیادی خامی یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی بری عادتوں کو توفوری طور پر اپنالیتے ہیں لیکن اچھی عادتوں کو اپنانا اپنی شان اور اناکے خلاف سمجھتے ہیں۔حالانکہ کوئی کام قومی مفاد میں ہو۔تو انفرادی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اسے اختیار کرنا چاہئے۔مگر یہاں بھی ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ قومی مفاد کا فیصلہ کون کرے گا۔ ہمارے یہاں تو قومی مفاد کی آڑ میں ہی ذاتی مفاد کی آبیاری کی جاتی ہے۔ اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو اپنے مفادات کے ترازو میں تولتے ہیں۔اس کی ایک بڑی مثال جمہوری نظام ہے۔ جن لوگوں نے یہ نظام وضع کیاتھا۔وہ اب تک جمہوریت کے بنیادی تصور کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ہم نے اپنے ہاں جس نظام کو جمہوریت کا نام دیا ہے۔ وہ حقیقی جمہوریت سے میل نہیں کھاتا۔لیکن یہ ہمارے مزاج سے ہم آہنگ ہے اس لئے اسے ترک کرنے کی ہمت نہیں ہورہی۔


شیئر کریں: