Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلدیاتی انتخابات اور جمعیت علمائے اسلام کی برتری – تحریر :محمد نفیس دانش

شیئر کریں:

ہر طرف خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن کے چرچے ہیں , پاکستان میں آج تک کا ریکارڈ ہم نے یہی دیکھا ہے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کرواتی ہے اور صوبائی حکومت ہی بلدیاتی انتخابات میں جیت جاتی ہے , 2005 میں سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی صرف دو اضلاع میں ضلعی ناظم بنانے میں کامیاب ہوئی تھی ایک ضلع جامشورو اور دوسرا ضلع نوابشاہ , باقی سندھ بھر میں مشرف کی ق لیگ نے جھاڑو پھیر دی تھی , یعنی صوبائی گورنمنٹ بلدیاتی انتخابات جیت جاتی ہے یہی روایت رہی تھی , لیکن گذشتہ دنوں خیبرپختونخوا میں تاریخ بدل گئی , 64 تحصیلوں اور سٹی کے پہلے مرحلے میں انتخابات ہوئے , 55 کے نتائج آگئے , 9 کے نتائج 24 دسمبر تک آئیں گے , لیکن 2018 میں خیبر پختونخوا میں کلین سوئیپ کرنے والی تحریک انصاف اب تک 64 میں سے صرف 13 تحصیل یا سٹی جیت سکی ہے ,

یہ حقیقت میں شرمناک رزلٹ ہے , جس کے بعد یقیناً فیصلہ ساز بھی 2023 کے عام انتخابات کے حوالے سے ضرور سوچیں گے , میں نے گذشتہ کالموں میں ذکر کیا تھا کہ 2023 میں ن لیگ آئے گی , اب یہ رائے مزید مضبوط ہوگئی ہے کیونکہ ن لیگ کی سینئر قیادت نے بطور وزیراعظم میاں شہباز شریف کا نام لینا شروع کر دیا ہے , مریم نواز کے نام کی ضد سے نقصان ہو سکتا تھا اور سیاست اسی چیز کا نام ہے کہ کبھی دو قدم پیچھے ہٹ کر بھی راستے بنائے جاتے ہیں , ن لیگ اور بالخصوص میاں شہباز شریف راستے بنانے کے ماہر ہیں , اس لئے ایک بار نہیں کئی بار وہ اپنی پارٹی کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب رہے ہیں , خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں جمعیت کی شاندار کامیابی یقننا اس اعتبار سے خوش آیند ہے کہ تمام تر حربوں اور پروپیگنڈوں کے باوجود دینی ووٹ بینک آج بھی موجود ہے , اس کے ساتھ جمعیت کے کارکنان کا امیر کی اطاعت کا جذبہ بھی ان کی 20 سیٹوں پر کامیابی کا سبب بنا کیونکہ جمعیت کے کارکنان مولانا فضل الرحمن صاحب کے ہر درست اور غلط فیصلے کو من و عن قبول کرتے ہیں.

دراصل جمعیت علمائے اسلام اسی جمعیت علمائے ہند کی وارث ہے دارالعلوم دیوبند سے اٹھنے والی تحریک احیا نے اپنی سرگرمیوں کو تین دائروں میں منظم کر دیا تھا:1:علمی سرمائے کے تحفظ کے لئے مدارس. 2:دعوت و تبلیغ کے لیے تبلیغی جماعت. 3:اور سیاست کے لیے جمعیت علمائے ہند. مولانا فضل الرحمن صاحب جس جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ہیں وہ اسی روایت کے امین ہیں. تحریک انصاف کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان میں ماننے والا مادہ نہیں چنانچہ تحریک انصاف کے ایک صوبائی وزیر کہہ رپے تھے کہ ہماری پارٹی میں امیر کی اطاعت کا کلچر نہیں ہے , کارکنان کو جو بات اچھی نہ لگے وہ کسی کی بھی نہیں مانتے , بالخصوص نچلی سطح پر تو تحریک انصاف کے کارکنان ایک دوسرے کی عیب جوئی میں ہی لگے رہتے ہیں , جس کی وجہ سے حکومت میں ہونے کے باوجود تحریک انصاف ایک منظم جماعت نہیں بن پائی ہے , تحریک انصاف میں جس کے ساتھ 10 بندے ہیں وہ الگ سے لیڈر ہے ,

یہی وجہ بنی کہ ہر خودساختہ لیڈر پارٹی ڈسپلین کو توڑ کر خود امیدوار بن گیا , اپنی ہی پارٹی کے مقابل الیکشن لڑا , تصویر عمران خان کی لگائی , سو نتیجہ بھی سب نے دیکھ لیا , یاد رکھیں پارٹی ڈسپلین یعنی نظم و ضبط پر کبھی کمپرومائز نہ کریں , پارٹی کے مقابل الیکشن لڑنا یا پارٹی کے مقابلے میں آکر جلسے کرنا یہ جماعت کی بنیادیں ہلانے والی باتیں ہیں , ایسے لوگ جتنی مرضی مخلصی کے دعوے کریں حقیقت میں وہ جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں , خیبر پختونخوا کا بلدیاتی الیکشن تحریک انصاف کے لئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے اس کے بعد ممکنہ طور پر تحریک انصاف کے خلاف ہوائیں چلیں گی اور لوگ اب اس کشتی سے اترنا شروع ہوں گے , خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات جماعت اسلامی کے لئے بھی دھچکا ثابت ہوئے ہیں ,

جماعت اسلامی نے گذشتہ 3 سالوں میں جو عجیب و غریب سیاست کی اور دو ٹوک فیصلوں سے دور رہی اس کا نقصان جماعت اسلامی نے اٹھایا اور صرف دو سیٹوں پر ہی کامیاب ہو سکی , اس سے پہلے جماعت اسلامی کے احباب تحریک انصاف کی اتنی تعریف کرتے تھے کہ جماعت اسلامی کا اکثریتی ووٹر تحریک انصاف میں منتقل ہو گیا.اس صورتحال میں مسلم لیگ ن نے بھی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ترجمان مسلم لیگ ن عظمی بخاری نے بیان دیا ہے کہ ’جس طرح کے پی کے میں جے یو آئی نے پی ٹی آئی کو شکست دی اسی طرح پنجاب میں مسلم لیگ ن انہیں ہرانے کی تیاری کر چکی ہے۔ تبدیلی جس طرح آئی تھی اسی طرح روانہ ہوجائے گی۔‘واضح رہے کہ سابقہ دور حکومت میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور لاہور سمیت بیشتر شہروں میں ن لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔اور ابھی بھی صورتحال کچھ یہی نظر آ رہی ہے. 


شیئر کریں: