Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نئے سیاسی بیانیہ کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

ؒ
حکومت کے فرائض و واجبات کیا اور ایک اچھی حکومت کسے کہتے ہیں، یہ وہ سوالات ہیں جن کے متعلق افلاطون کے زمانے سے لے کر آج تک اتنا کچھ لکھا جاچکا کہ اسے یکجا کیا جائے تو انبار لگ جائیں، لیکن اس تمام ذخیرے کو اگر سمیٹا جائے تو اس میں سے قدرِ مشترک یہ نکلے گی کہ حکومت کا وجود اس لئے ضروری ہے کہ افرادِ مملکت امن، آرام اور اطمینان کی زندگی بسر کریں، امن ہر قسم کے خطرات سے، آرام جسمانی ضروریات کے باآسانی اور باافراط میسر آجانے سے اور اطمینان قلبی مسرتوں اور ذہنی خوشگواریوں کی رو سے۔ بنا بریں ایک اچھی حکومت وہ ہوگی جس میں ہر فرد کی جان، مال، عزت، آبرو، عصمت اور متاع زندگی کی ہر متاع ِ عزیز محفوظ رہے، جس میں ان کی ضروریات ِ زندگی جگر پاش مشقوں کے بغیر پوری ہوتی رہیں، انہیں اپنے معاملات کے سلجھانے اور سنوارنے میں کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مجال انکار نہیں اچھی اور بُری، کامیاب اور ناکام،حکومت کے پرکھنے کی یہ ایسی کسوٹی ہے جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔


سب سے پہلے حفاظت کو دیکھ لیتے ہیں، ڈاکو دن دیہاڑے کھلے چہرے یا نقاب ڈالے،دور افتادہ تو کبھی پوش آبادی کے کسی بھی گھر میں بے خوف ڈاکہ مار کر فرار ہوجاتے ہیں، ان میں ایسے رہزن بھی ہیں جو دوپہر یا شام کے کسی بھی پہر کسی بھی فرد کو اس کے مال سے محروم کردیتے ہیں، اکیلا فرد ہو یا خاتون محلے میں راہ چلتے رہزنوں سے محفوظ نہیں۔ ٹھگوں کے فراڈ بھی عروج پر کہ کسی کو ملازمت تو کسی کو منافع کی لالچ  پر لوٹا،کچھ اعتماد کرنے پر دھوکے کا شکار ہوئیکیونکہ ٹھگ اپنا پورا پورا اعتماد قائم کرلیتے اور جب وہ اس طرح اپنی حفاظت سے بے خبر ہوجاتا تو پھر اسے دھوکا دیتے۔جنسی استحصال کا یہ عالم کہ جنسی بھڑیئے بچوں اور بچیوں کو اپنی ہوس کا شکار بناکر ان کی زندگی کو بھی پھول کی طرح مسل دیتے ہیں۔ بچے بچیاں اسکول ہو یا مدارس میں غیر محفوظ، تو کئی کو راہ چلتے اٹھا لینے کا ڈر، قلیل المدت اغوا برائے تاوان، لڑکیاں کام یا تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے نکلیں تو اُن کو راستے میں روک  لینا، کسی بد نصیب کو گاڑی میں ڈال کر بھگا لیا جاتا تو کوئی فلیٹ میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دی جاتی ہے، سیکڑوں ایسی کہ انہیں عصمت فروشی پر مجبور کردیا جاتا اور ان سے انسان نما درندوں کی ہوس خون آشامی کا مستقل ذریعہ بنی رہتی اور جہنم کی زندگی بسر کرتی ہیں،

خواتین حق مانگنے نکلیں تو بالوں سے گھسیٹ کر گاڑیوں میں اغوا کرلیا جاتا ہے تو کبھی کسی لڑکی کی لاش درخت سے لٹکتی نظر آتی ہے۔غرض یہ کہ کوئی ایسی صبح ایسی نہیں گذرتی کہ آپ اخبار اٹھائیں اور اس میں اس قسم کی قتل و غارت گیری۔ قزاقی اور رہزنی اور عصمت دری اور مختلف قسم کی درندگی کا واقعات درج نہ ملیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ہر شریف اور سفید پوش اپنے اپنے ہاں ڈرا اور سہما ہوا زندگی کے دن بسر کررہا  اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ساتھ کل کیا ہونے والا ہے۔


غور فرمایئے کہ جہاں زندگی اس شکل سے گزر رہی ہو، وہاں لوگوں کی قلبی کیفیت کیا ہوگی؟،بخوبی معلوم ہے کہ ان میں سے ہر جرم کے لئے قانون موجود ہے، قانون نافذ کرنے والے، عدالتیں، لیکن ان سب کے باوجود یہ روز مرہ کے واقعات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ا س نظام میں کہیں کوئی سقم موجود ہے اور بہت بڑا سقم،کہ اس کی وجہ سے بد معاشوں کے دل سے قانون کا ڈر اورشریفوں کے دل سے اس کا اعتماد جاتا رہا اور ظاہر ہے کہ جس سرزمین میں قانون کا ڈر اور اعتماد باقی نہ رہے وہ سرزمین بے آئین ہوجاتی ہے،دیکھنا  چاہے کہ وہ سقم کہاں اور اُسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے، درحقیقت ایسا ہی ہے کہ غلط انتخاب مسائل کی اصل جڑ کا موجب ہے۔


حکمراں جماعت کے بیشتر اراکین کا کہنا یہ بھی ہے کہ مہنگائی کا سونامی بلدیاتی انتخابات میں شکست کی کلیدی وجہ ہے تو اس مہنگائی کو کنٹرول نہ کرنے اور بروقت پالیسیاں نہ بنانے کا ذمے دار کون ہوا، کیا اسے نقارہ خلق سمجھا جائے، یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی اور گراں نرخ پر ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے سفید پوش طبقہ پریشان کہ اس طرح گزراہ کیسے چل سکے گا ؟ بے شمار چیزیں تو ایسی ہیں جن کی قیمتیں مقرر نہیں، اس لئے جو کسی کے جی میں آئے وہ مانگ لیتا ہے اور آپ اس کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہہ سکتے، جن چیزوں کی قیمتیں مقرر ہیں، وہ بھی کبھی مقررہ قیمتوں پر نہیں ملتیں، اگر انہیں مقررہ قیمت پر فروخت کرنے پر اصرار کریں تو وہ چیزیں بازار سے گم اور ضرورت مند بے چارہ مارا مارا پھرتا ہے، دوائیوں کے معاملہ میں یہ اب بازار کا معمول بن چکا، جو چیزیں ملتی ہیں، ان کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا نام کیا اور وہ درحقیقت ہیں کیا؟۔

زندگی کی اساس ہوا پر ہے اور آلودہ ماحول اتنا بھیانک کہ کوئی سانس لے سکتا کہ بیماریوں کے جراثیم اور گرد و غبار کے ساتھ صاف پانی میں غلاظت اس طرح ’شیر و شکر‘ ہو رہے ہیں کہ انہیں الگ الگ کیا ہی نہیں جاسکتا، پانی کو روئیں کہ آٹے، دودھ اور گھی کے خالص نہ ہونے پر اشک بہائیں۔ سو کس کس کے متعلق کیا کیا لکھا، کہا، سنا یا دیکھا جائے کہ اب تک سب اچھا ہے، بوٹ پالش اور دیز لین کی طنزیں اب پرانی اور فرسودہ ہوچکے ہیں اور جدید طنزیں لوگوں نے اس لئے وضع کرنی چھوڑ دی کہ کہنے والوں نے کس قدر سچ کہا تھا کہ
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبتیرے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہواس نسل کو تو اب چھوڑیئے کہ کسی نہ کسی طرح زندگی کے دن پورے کرکے مرجائیں گے، سوال آنے والی نسل کا ہے جس نے گل کو ملت ِ پاکستانیہ بننا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان تمام امور کے لئے محکمے اور شعبے متعین ہیں اور ان کے پیچھے قانون کی قوت بھی موجود ہے لیکن اس کے باوجود، جو کچھ ہورہا ہے اسے جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا، سوال صرف یہ ہے کہ یہ تمام انتظامات اپنا صحیح نتیجہ کیوں نہیں دے رہے؟۔ 


شیئر کریں: