Chitral Times

Aug 12, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دارالعلوم کراچی کے بزرگ استاد مفتی نعمت اللہ چترالی انتقال کر گئے

شیئر کریں:

63 سال عمر پائی، 44 سال دار العلوم کی خدمت کی، مفتی محمد شفیع کے خاص شاگرد تھے

دار العلوم کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک، علمائے کرام، وفاق المدارس کا اظہار تعزیت

کراچی (چترال ٹائمز رپورٹ ) دار العلوم کراچی کے بزرگ استاد مولانا مفتی نعمت اللہ چترالی حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے، مرحوم نے تقریباً 63 سال عمر پائی، گزشتہ دن شام کے وقت انہیں سینے میں درد ہوا، اسپتال لے جایا گیا تو دل پر مائنر اٹیک تشخیص ہوا، دوا دینے کے بعد واپس گھر لائے گئے، تاہم رات گئے بڑا اٹیک ہوا، جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے اور جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ مفتی نعمت اللہ نے 1958ء میں موڑ دہ تریچ اپر چترال میں آنکھ کھولی۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد دینی تعلیم کے حصول کیلئے کراچی آئے اور 1977ء میں دار العلوم کراچی سے فراغت حاصل کی۔ انہوں نے اپنی تمام تعلیم دار العلوم کراچی میںہی حاصل کی۔ وہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے شاگرد، خادم، معتمد خاص اور کاتب تھے۔

مفتی صاحب کی تمام خط و کتابت ان کے ذمے تھی۔ وہ فراغت کے بعد دار العلوم کراچی میں ہی تدریس سے وابستہ ہوئے اور آخری دم تک دار العلوم میں انہوںنے تدریس اور مختلف انتظامی شعبوں میں اہم خدمات انجام دیں۔ دار العلوم کراچی میں ان کی خدمات کا دورانیہ 44 سال کے طویل عرصے کو محیط ہے۔ مفتی نعمت اللہ انتہائی سادہ منش، خدا ترس، صابر و شاکر، راضی برضائے الٰہی اور بلند پایہ عالم دین تھے۔ وہ سرپرست اعلیٰ جامعة الرشید مفتی عبد الرحیم کے بڑے بھائی مولانا عبد الکریم کے سمدھی اور ممتاز قلم کار مولانا شفیع چترالی کے سسر تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ دار العلوم کراچی کے استاذ حدیث مفتی عبد الرؤف سکھروی نے پڑھائی، جس میں ان کے شاگردوں، عقیدت مندوں، رشتہ داروں اور علماء و طلبہ نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ مرحوم کو بعد ازاں دار العلوم کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مرحوم نے بیوہ، پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑیں۔ مرحوم کے انتقال پر وفاق المدارس العربیہ کے اکابر اور میڈیا کو آر ڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی، دار العلوم کراچی کے اساتذہ، اقراء روضة الاطفال ٹرسٹ کے مفتی خالد محمود، ممتاز سماجی اور دینی شخصیت قاری فیض اللہ چترالی، قاری حبیب اللہ چترالی، قاری حبیب الرحمن، خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کاکاخیل و دیگر نے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند اور خدمات کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔


شیئر کریں: