Chitral Times

Jan 17, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندو کُش کے دامن سے چرواہے کی صدا-موروثی سیا ست اورالیکشن کمیشن-عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار اور بااختیار ادارہ ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ کوئی بھی پارٹی الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے بغیر انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی ہے۔ ملک میں جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں وہ سب الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہوئے ہیں۔ الیکشن میں کامیاب ہونے والی پارٹی الیکشن کو صاف شفاف اور منصفانہ قرار دیتی ہے جبکہ ہارنے والوں کی رائے ہمشہ یہی ہوتی ہے کہ اس سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن ملک میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔


ہارنے والی پارٹیاں الیکشن کمیشن پر ہمیشہ اس طرح کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں موروثی سیاست جاری ہے۔ موروثی سیاست کو روکنے میں الیکشن کمیشن ابھی تک کامیاب نہیں ہوا۔ اس کی بری وجہ سیاسی پارٹیوں میں بروقت پارٹی انتخابات نہ ہونا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق برائے نام اور خود ساختہ پارٹی انتخابات کراتی ہے۔

اس برائے نام پارٹی انتخابات کے نتیجے میں دوبارہ وہی لوگ پارٹی سربراہ بن جاتے ہیں یا ان کے خاندان کا کوئی فرد پارٹی کا عہدہ حاصل کرتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں یہ لُولی لنگڑی جمہوری تماشہ جاری ہے۔اس جمہوری نظام سے نہ عوام کو کوئی فائدہ پہنچا اور نہ ملک میں جہوریت مستحکم ہوئی۔ عوام موجودہ جمہوری نظام سے متنفر ہو رہے ہیں۔ ملک کے عوام کا اعتماد اور اعتبار اس نظام سے اٹھ رہا ہے۔

اس بابرکت جمہوری نظام کی وجہ سے ملک قرضوں میں ڈوپ چکا ہے اور عوام مہنگائی کے ہاتھوں بدحال ہوچکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ موروثی سیاست ہے۔ الیکشن کمیشن کی کمزوریوں کی وجہ سے ملک میں موروثی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کو اپنے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے جمہوری طریقہ کار کے مطابق اپنی نگرانی میں ہر پارٹی کے اندر مقررہ مدت میں الیکشن کرانا چاہیے تاکہ موجودہ موروثی سیاست سے عوام کو نجات مل سکے۔ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ملک کے تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا پابند کرے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک مقررہ مدت کے اندر الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی میں تحصیل سے لیکر صوبہ لیول تک صاف شفاف اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق انتخابات منعقد کریں۔

جمہوری طریقہ کار کے مطابق کسی بھی سیاسی پارٹی کا سربراہ کارکنوں کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے جبکہ اس وقت ہر سیاسی پارٹی اپنی مرضی کے مطابق برائے نام پارٹی انتخابات کراتا ہے اور خود ہی پارٹی سربراہ بن جاتا ہے۔اس وقت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور جمیعت علمائے اسلام (ف) ملک میں جاری موروثی سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنی پارٹیوں کی سربراہی خود کررہے ہیں۔ اس کے باوجود اپنی پارٹیوں کو جمہوری پارٹی قرار دے رہے ہیں جبکہ ان کی پارٹیوں میں ان سے بہتر، قابل اور اہل لوگ موجود ہیں۔

مگر موروثی سیاست کی وجہ سے قابل اور اہل لوگوں کو پارٹی سربراہ بننے کا موقع نہیں ملتا۔ کسی بھی پارٹی میں سیاسی تجربہ کار، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دیانت دار لوگوں کی کمی نہیں ہے لیکن جمہوری اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ان حقدار لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ قابل اور اہل لوگ رہ جاتے ہیں۔ نااہل اور نالائق لوگ اپنے اثر و رسوخ اور دولت کی وجہ سے پارٹی عہدیدار بن جاتے ہیں۔


ملک کی بعض سیاسی جماعتیں جمہوریت کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ دولت کی طرح پارٹی قیادت بھی ان لوگوں کی میراث بن چکی ہے جوکہ مسلسل ایک ہی خاندان میں نسل درنسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا الیکشن کمیشن کو اپنے اختارات بروئے کار لاتے ہوئے موروثی سیاست کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں موروثی سیاست کو تقویت مل رہی ہے۔موجودہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کو پابند کرے کہ وہ پہلے اپنی پارٹی کے اندر جمہوریت نافذ کریں اور اس پر عمل درآمد کرائیں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی جمہوری طریقہ کار کے مطابق پارٹی انتخابات نہ کرائے تو ان پارٹیوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا جائے اور ان پر پابندی لگائی جائے۔

الیکشن کمیشن اور دوسری جمہوری قوتوں کو مل کر ملک میں موروثی سیاست کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانا چاہیے تاکہ ملک میں موروثی سیاست کو روکا جاسکے۔


شیئر کریں: