Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری کا یومِ وفات-از قلم : کلثوم رضا

شیئر کریں:

قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا اصل نام ابوالاثر حفیظ تھا ۔آپ 14 جنوری سن 1900ء کو شمالی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔


آپ نے ابتدائی تعلیم آبائی قصبے سے حاصل کرنے کے بعد کسب معاش کا آغاز ریلوے میں ملازمت سے کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے مستقل طور پر لاہور میں سکونت اختیار کی اور ڈائریکٹر جنرل مورال آرمڈ سروسز آف پاکستان مقرر ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے فیلڈ ڈائریکٹر آف پبلسٹی ویلج ایڈمنسٹریشن اور ڈائریکٹر ادارہ نو پاکستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔


آپ کو شاعری سے اتنا لگاؤ تھا کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی شاعری سے ناطہ نبھاتے رہے۔ یوں آپ نے کئی گیت، غزلیں اور نظمیں لکھیں لیکن آپ کی وجہِ شہرت “شاہنامہِ اسلام ” بنا جس میں آپ نے تاریخ اسلام کو نظم کی صورت میں لکھا ہے۔
1952ء میں آپ نے قومی ترانہ لکھا جو 13 اگست 1954ء کو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔ جس کی دھن ایک سندھی موسیقار احمد غلام علی چھاگلا نے ترانے کے بول سے پہلے بنائی تھی۔ جس سال یہ جاری کیا گیا اسی سال گیارہ بڑے گلوکاروں نے اسے اپنی آوازوں میں ریکارڈ کرایا۔ تین بندوں پر مشتمل اس مخمس ترانے میں حفیظ جالندھری نے وطن عزیز کے لیے جن اچھی خواہشات اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اسے ترجمے کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

پاک سر زمین شاد باد
اے میرے وطن کی پاکیزہ زمین تو ہمیشہ خوش رہے

کِشورِ حسین شاد باد
اے میرے خوبصورت ملک تو ہمیشہ خوشیوں سے بھرا رہے

تُو نِشانِ عظمِ عالی شان
ارضِ پاکستان
اے پاک سر زمین تو ہمارے بزرگوں کے شاندار عَظم اور ان کے پکے ارادے کی نشانی ہے

مرکزِ یقین شاد باد
ہمارے ایمان اور یقین کا یہ مرکز سدا خوش رہے

پاک سر زمین کا نظام
قوتِ اخوتِ عوام
اس پاک سر زمین کا نظام اس میں بسنے والوں کے اتحاد کی طاقت اور ان کے بھائی چارے سے چلتا ہے

قوم ملک و سلطنت
پائندہ تابندہ باد
ہماری قوم، ہمارا ملک، ہماری یہ سلطنت ہمیشہ قائم رہے اور چمکتی دمکتی رہے

شاد باد منزلِ مراد
ہماری امیدوں اور مرادوں کی یہ منزل ہمیشہ خوشیوں سے بھری رہے

پرچمِ ستارہ و ہلال
رہبرِ ترقی و کمال
ہمارا یہ چاند ستارے والا پرچم زندگی کے ہر شعبے میں ترقی اور عظمت کی طرف رہنمائی کرتا ہے

ترجمانِ ماضی شانِ حال
جانِ استقبال
یہ سبز پرچم ہمارے شاندار ماضی کی کہانی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ زمانے میں بھی ہماری شان بڑھاتا ہے اور ہمارے مستقبل کی شان بھی سبز ہلالی پرچم ہے

سایہِ خدائے ذوالجلال
ہمارا پرچم ہم پر خدا کا سایہ ہے۔ اس خدا کا سایہ جو بڑی بزرگی اور عظمت والا ہے

21 دسمبر 1982ء کو 82 سال کی عمر میں قومی ترانے کے عظیم شاعر نے داعیِ اجل کو لبیک کہا اور ماڈل ٹاون لاہور میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے مدفون ہوئے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا ۔حفیظ جالندھری کو اپنے خالقِ حقیقی سے ملے 39 سال گزر چکے ہیں لیکن ان کی یاد ہمارے اور ہماری نسلوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ان کا لکھا ہوا یہ خوبصورت ترانہ تا ابد ارضِ پاک پر گونجتا رہے گا ان شاءالله۔
آپ کی دیگر تصانیف میں چراغِ سحر، نغمہِ زار، تلخابہِ شیرین، تصویرِ کشمیر، شاہنامہِ اسلام، سوزوساز اور غیر ملکی افسانوں کا ترجمہ “معیاری افسانے” کے نام سے مشہور ہیں۔

qomi tarana hafiz jhalandri

شیئر کریں: