Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اتحاد بین المسلمین کی ضرورت ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

اتحاد بین المسلمین کی ضرورت ۔ محمد شریف شکیب

بھارت میں جب سے نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار سنبھالاہے مذہبی اقلیتوں پر عرصہ حیات روز بروز تنگ ہوتا جارہا ہے۔ تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندو انتہاپسندوں نے ہندوستان کے کئی مقامات پر مسلم دور کی کئی نشانیوں کو مٹادیا۔کئی عید گاہیں مسمار کردی گئیں۔بھارت میں سیکولرازم کا پرچار کرنے والے موہن داس کرم چند نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مسلمان یا تو ہمارے ہی لوگ ہیں جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔یا وہ درانداز ہیں۔باہر سے آکر ہم پر حکومت کرتے رہے۔ جو باہرسے آئے تھے وہ اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں اور جنہوں نے مذہب تبدیل کیاتھا۔وہ دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرے کیونکہ ہندوستان میں ہندوؤں کے سوا کسی کو رہنے کا حق نہیں۔ بعد میں سیاسی مفادات کی خاطر جواہر لعل نہرواور گاندھی جی نے ہندومسلم اتحادکا نعرہ لگایا۔ اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ کسی مسلمان اور ہندو کی شادی نہیں ہوسکتی۔ مسلمانوں کا ہیرو ہندوؤں کا دشمن اور ان کا ہیرو ہمارا دشمن ہے۔

وہ ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے۔ مسلمان گائے کو ذبح کرکے کھاتے ہیں اور ہندو اس کی پوجا کرتے ہیں۔ دونوں کو ایک قوم قرار دے کر ایک ملک میں رہنے پر مجبور کرنا پورے ملک کی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیاتھا۔ تقسیم ہند کے بعد بھی دلی کی تخت شاہی پر براجمان ہونے والے ہر حکمران نے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا لیکن مذہبی اقلیتوں پر موجودہ حکومت نے جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے قانون میں تبدیلی کے ساتھ ہندوؤں کو وہاں لاکر بسانے کا منصوبہ روبہ عمل ہے۔ بھارتی ریاست ہریانہ میں بی جے پی کے وزیراعلیٰ منوہر لال نے حال ہی میں پوری ریاست میں مسلمانوں کے کھلے مقامات پر نماز ادا کرنے پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ منوہر لال نے کھلے مقامات پر نماز اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کی ادائیگی کے عمل کو ’ناقابل برداشت‘ قرار دے دیا۔

وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو احکامات جاری کئے ہیں کہ مسلمانوں کو عبادات کی ادائیگی کے لئے گھروں تک محدود رکھاجائے۔منوہر لال کا کہنا ہے کہ کوئی نماز پڑھتا ہے، کوئی پاٹھ کرتا ہے، کوئی پوجا کرتا ہے ان سب کے لئے الگ الگ مقامات مختص ہیں۔ انہوں نے 2018 میں مسلمانوں کے ساتھ مذہبی آزادی کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ میڈیا کے مطابق حال ہی میں کھلے مقامات پر نماز جمعہ ادا کرنے پر سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیاگیا۔دنیا کے تمام مذاہب میں انتہاپسند اور میانہ رو دونوں طبقے موجود ہیں یہودی اور ہندو مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت انتہاپسندانہ سوچ رکھتی ہے لیکن انتہاپسندی کو صرف مسلمانوں کے ساتھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نتھی کیاجارہا ہے۔

مسلم اقوام کے خلاف یہود و ہنود سمیت ہر عقیدے سے تعلق رکھنے والے متحد ہیں کیونکہ وہ صرف اسلام کو ہی اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔انہیں بخوبی معلوم ہے کہ جب مسلمان متحد ہوجائیں تو وہ قصر و کسریٰ کی سلطنتوں کی اینٹ سے اینٹ بجاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑاکران کی طاقت کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ اور بدقسمتی سے یہ نکتہ مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ہم اتنے مادیت پرست اور خود غرض ہوچکے ہیں کہ اپنی نشاۃ الثانیہ کے بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ہمیں قومیت، علاقائیت، لسانیت اور جاگیر و جائیداد اور مال و دولت سے بالاتر ہوکر امت بن کر سوچنا ہوگا۔ ہماری سیاسی و مذہبی قیادت کو بھی اقتدار و اختیار کے حرص کے بجائے پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو ایک متحد قوم بنانے پر سوچنا ہوگا۔ہمارے اساتذہ، علماء، دانشوروں اور رائے عامہ ہموار کرنے والوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہم متحد ہوں گے تو اپنی سلامتی اور بقاء کا دفاع کرسکیں گے۔اور دنیا میں جہاں جہاں کلمہ گو ظلم و بربریت کا شکار ہیں ان کے لئے آواز اٹھاسکیں گے۔


شیئر کریں: