Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغان عوام ہماری مددکے منتظر ہیں،او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل سے عالمی رہنماؤں کا خطاب

شیئر کریں:

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 17 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں نے افغانستان میں امن و استحکام کے لئے علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اس کانفرنس کی میزبانی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں معاشی صوررتحال بہت خراب ہے، افغانستان کے عوام ہماری مددکے منتظر ہیں۔اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستانی کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے 17 اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتیہوئے سیکرٹری جنرل او آئی سی جنرل ابراہیم حسین طہٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کی تجویز اور پاکستا ن کی میزبانی میں افغانستان کے مسئلے پر اجلاس طلب کرنے کو خوش آئندقرار دیتے ہوئے کہا کہ اوو آئی سی کے اجلاس کے انعقاد کے لئے بہترین انتظامات قابل تعریف ہے۔

یہ اجلاس بلانا پاکستان کے افغان بحران کے حل کے عزم کا اعادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورعلاقائی امن و سلامتی اور ترقی کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، تمام رکن ممالک اپنی صلاحتیں امن، سلامتی اور استحکام کے لئے وقف کریں، اوآئی سی نے ہمیشہ افغان مسئلے پر مضبوط موقف اپنایا ہے، افغانستان میں امن خطے کے لئے اہم ضرورت ہے، یہ اجلاس افغانستان کی مد کے لئے کامیاب ثابت ہو گا۔افغانستان کے لئے انسانی امداد کی جتنی آ ج ضرورت ہے پہلے نہ تھی۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعودنے کہا کہ او آئی سی اجلاس کے انعقاد اور بہترین اتنطامات پر پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، پاکستان نے اتنے کم ترین وقت میں اجلاس کا نعقاد ممکن بنایا، او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اس اہم ترین اجلاس کے انعقاد پر پاکستان کے مشکورہیں،

اجلاس میں شرکت پر سیکرٹری جنرل او آئی سی اور دیگر ممبران کا مشکور ہوں۔سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں خواتین بچوں سمیت عوام مشکلات کا شکار ہیں، افغانستان میں معاشی صوررتحال بہت خراب ہے، افغانستان کے عوام ہماری مددکے منتظر ہیں،سعودی عرب افغانستان کے مسائل کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کیمعاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہو گا۔ہم افغانستان میں امن کے خواہش مند ہیں،افغانستان میں مالی بحران شدید ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ عالمی ادارے افغان عوام کی مدد کریں۔ ایشیا گروپ آف او آئی سی رکن ممالک کی طرف سے ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش او لونے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو اس وقت مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے 23 ملین عوام کو بھوک کا سامنا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے افغانستان میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے پاکستان، او آئی سی اور اسلامی ترقیاتی بینک کی کوششوں اور کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زود دیا کہ او آئی سی کو یو این ایچ سی آر اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنا چاہتے تاکہ افغانستان میں انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نیکہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں طالبان کے ساتھ بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے افغانستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان، ازبکستان، انڈونیشیا اور دیگر ایشیائی ملکوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد پاکستان کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد افغانستان کی موجودہ صورتحال کی جانب بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرانا ہے تاکہ طویل جنگ اور خانہ جنگی سے متاثرہ ملک کو کسی بھی انسانی بحران کو روکا جاسکے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کی جانب سے افغانستان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے جبکہ انہیں انسانی بنیادوں پر افغانستان کو امداد کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد سے دنیا کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال محض ایک انسانی المیہ کو جنم نہیں دے سکتا بلکہ اس کے نتیجہ میں خطے اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ریجنل عرب گروپ کی طرف سے اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہاو آئی سی کااجلاس بلانے کے لئے پاکستان اور سعودی عرب کی کوششیں قابل ستائش ہیں، افغانستان کے عوام خورا ک کی قلت کا شکار ہیں، افغانستان اس قت انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، افغان عوام کی سلامتی کے لئے اقدامات کرنا ہو ں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ترقی کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، افغان بحران خطے کو متاثر کر سکتا ہے، افغانستان میں بحران مسلم امہ کے لئے چیلنج ہے۔

اردن افغان کی مدد کے لئے تیار ہے، افغانستان کی مدد کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔او آئی سی افریقن گروپ کی طرف سے نائجر کے وزیر خارجہ یوسف محمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مسئلے پر آج کیغیر معمولی اجلاس خوش آئند ہے، اجلاس بلانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، افغانستان کے عوام کی ہر ممکن مدد کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان بہن بھائیوں کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سلمان الجاسر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم افغان بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوئے ہیں، افغانستان کوآ ج بہت سارے چیلنجز کا سامناہے، افغانستان کو انسانی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح خوراک اور تعلیم کے لئے امداد فراہم کرنا ہے، تعمیر نو کے ذریعے افغانستان کو مستحکم کرنیکی ضرورت ہے، افغانستان کو دیہی علاقوں کو زرعی شعبہ کے لئے سہولیات دیں گے،کوئی بھی اکیلا ملک افغانستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔

اقوام متحدہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری برائے انسانی حقوق مائیکل گرفتھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں بچے افغانستان میں تعلیم سے محروم ہیں، افغانستان میں اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں بینکنگ کے نظام کو بحال کرنا ہو گا، افغانستان کی معیشت بحران کا شکار ہے،افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لئے سب جمع ہوئے ہیں، اقوام متحدہ افغان مسئلہ پر او آئی سی کی کوششوں کاساتھ دے گا۔


شیئر کریں: