Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پس وپیش ۔ ستائشستان کی بیماری – اے۔ایم۔خان

شیئر کریں:

پس وپیش ۔ ستائشستان کی بیماری – اے۔ایم۔خان

گزشتہ چند سالوں سے ایک بیماری نہ صرف نوجوان نسل میں عام ہو چُکا ہے بلکہ اب درازعمر کے لوگ بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں

اس بیماری میں عام طور پر بندہ زیادہ وقت مصروف رہتا ہے لیکن کوئی عملی کام نہیں کرتا اور  ہوسکتا ہوتا ہے ۔

اس بیماری میں اپنی ‘شہرت اور دوسروں کی حجت’ ٹھیک کرنے کی غرض سے شب و روز محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس میں کئی ایک کام کرنا پڑتے ہیں جسمیں فوٹو ، لکھ کر، آڈیو یا ویڈیو  پیغام کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس بیماری کی وجہ سے اگر  رات کی نیند اور دن کا کام متاثر ہو بھی جائے لیکن شہرت اور حجت کی ذمہ داری جاری رہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ چینی زیادہ استعمال کرنے  سے افاقہ ہونے کے بجائے بیماری قابو سے باہر کیوں نہ ہو چُکا ہو۔

ستائشستان میں یہ پہلا کام ہوتا ہے جسمیں’ کام سے زیادہ نام’ پر توجہ دی جاتی ہے۔

 اس ملک میں اگر کوئی شہری  اس بیماری میں مبتلا نہ ہونا چاہے تو کوئی قدغن نہیں۔ اُس وقت تک جب وہ  اپنے اوپر خود یہ قدغن نہ لگا دے تب تک ہر معاشرتی، سیاسی اور معاشی قدغن نہیں ہوتی۔ ایک تکلیف یہ ہوتی ہے کہ اس میں ‘پسند اور تعریف’ کرنے والے گھٹنے  کا خدشہ رہتا ہے اور ساتھ زیادہ ہونے کی وقتی خوشی بھی۔

 اس بیماری میں پسند اور تعریف کرنے والے  زیادہ  ہونا  بیماری کا فوری علاج ہے لیکن یہ بیماری کا بنیادی  وجہ بھی جس سے یہ بیماری روز بروز بڑھ جاتی  ہے۔  

اس بیماری کا ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ سامنے اور موبائل میں موجود اس ایک فرد میں آسانی سے فرق کیا جاسکتا ہے  اور یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اُس کی بیماری کس نوعیت کی ہے۔ عام علامات میں نیند کی کمی، آنکھوں میں جلن، تنہائی، الجھن، بے کیفی اور تعلیمی کمزوری نمایاں ہوتے ہیں اس کے علاوہ ذہنی افسردگی بھی بعض لوگوں میں عام نظر آتا ہے۔  

اس بیماری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بیمار بندہ چوبیس گھنٹے میں جاگتا اور  عملی کام کے باوجود مصروف رہتا ہے

ستائشستان میں چینی کی ہوش ربا استعمال سے شوگر کی بیماری روز بروز بڑھ رہی ہے۔ حالیہ اعداو شمار کے مطابق پاکستان میں چار کم سن افراد میں ایک اس بیماری کا شکار ہے۔ اگر یہ بیماری ایک حد میں پہنچ جائے جس کا علاج پھر ممکن نہیں ہوتا۔ اسلئیے عام استعمال میں حد سے زیادہ چینی کے استعمال کو کم کیا جائے اور کڑوے چیزیں کھانے کی عادت بنانے کا مشورہ ڈاکٹرز دیتے ہیں  تاکہ وقت پر اس بیماری پر قابو پایا جا سکے۔ ستائشستان میں اس بیماری سے ہلاکت کی کوئی خبر اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس بیماری کی نوعیت قریہ قریہ مختلف ہے لیکن ترقی یافتہ لوگوں اور دیہات میں علامات زیادہ نظر آرہے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چینی کے تھوک و پرچون  یعنی دونوں کاروبار پر  کئی سال سے ادب کے لوگ قابض ہیں، اور یہ جاری ہے کیونکہ اب اس میں مندی کی گنجائش نہیں ہے۔  قیاس کے مطابق ایک عشرہ  گزرنے کے بعد لوگ افاقہ کی خاطر  خود چینی کا استعمال معمول سے کم کرنا شروع کردیں گے تو بیماری میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔  


شیئر کریں: