Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنیا نے افغانستان پر توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان

شیئر کریں:

دنیا نے افغانستان پر توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(سی ایم لنکس) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا نے افغانستان پر توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں 80 لاکھ کشمیری ایک کھلی جیل میں زندگی بسرکرنے پرمجبور ہیں جو ایک بڑے قیدخانے کا منظر پیش کررہا ہے،کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پراجاگر کریں گے، میری سیاست کا مقصد پاکستان کو کرپٹ حکمرانوں اور مافیاز سے پاک کرکے اسے صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، نبی کریمﷺ میرے رول ماڈل ہیں، کوشش ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بناؤں، نبی کریم ﷺکی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی بنائی، قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب نہیں بن سکتا، میری ساری جدوجہد اشرافیہ کے خلاف ہے، پاکستان پر دو کرپٹ خاندانوں نے حکومت کی، کورونا کی وجہ سے ساری دنیا کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عدل، انصاف اور قانون کی حکمرانی مہذب معاشروں کی بنیادی اقدار ہوتی ہیں، میری سیاست کا مقصد پاکستان کو کرپٹ حکمرانوں اور مافیاز سے پاک کرکے اسے صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، عدل، انصاف اور قانون کی حکمرانی مہذب معاشروں کی بنیادی اقدار ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بہت سارے بحرانوں کا سامنا ہے، افغانستان کی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں، دنیا نے افغانستان پر توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا لیکن افغانستان پرامریکہ کی مسلط کردہ جنگ ایک جنونی عمل تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں نام نہادجنگ کے نام پر20 سال تک قبضہ کیے رکھا، سمجھ نہیں آیا امریکی افغانستان میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے، افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں اور امریکہ کو اب افغان عوام کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جہاں 80 لاکھ کشمیری کھلی جیل میں رہ رہے ہیں اور 8 لاکھ بھارتی فوجیوں نے انہیں کھلی جیل میں بند کررکھاہے،ہم نے اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھایا ہے، ہم نے یہ معاملہ اسلامی تعاون تنظیم میں اٹھایا اور اسلامی ممالک سے بات بھی کی ہے، اسلامی ممالک کے بھارت کے ساتھ اپنے اپنے تعلقات ہیں اور آپ ان سے کچھ زیادہ توقع نہیں کر سکتے لیکن پاکستان اپنے طورپر یہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے اس کو عالمی سطح پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 20 سال تک کرکٹ کھیلی، ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اطمینان کااحساس ہوا، کھیل آپ کو مشکل حالات میں لڑناسیکھاتے ہیں، آپ کی ناکامی آپ کا بہترین استاد ہے جو آپ کو مقابلہ کرنا سیکھاتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری والدہ پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتی تھی، والدہ کی وفات کے بعد کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا اورکرپشن ملک کو تباہ کردیتی ہے، پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، ملک کی بدحالی کے ذمہ داربھٹو اور شریف خاندان ہیں،بھٹو اورشریف خاندان نے وسائل کا ناجائز استعمال کیا، ہم ملک کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں، ہمارا مقابلہ دو ایسے خاندانوں سے ہے جودولت سے مالا مال ہیں، بھٹو اورشریف خاندان سیاست نہیں خاندانی نظام قائم کرناچاہتے ہیں جبکہ پاکستان کی بدحالی کے ذمہ دار بھی یہی دونوں خاندان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی اسکینڈل پر حکومت حرکت میں آئی جبکہ وزیروں کیخلاف بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تو خود شفاف تحقیقات کروں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرے والد نے پاکستان کی اپنی نوعیت کی پہلی انجینئرنگ کنسلٹنسی فرم قائم کی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت بھارت اورخطے کیلئے خطرناک ہے، بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے جو فاشسٹ جماعت ہے، اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان اتناہی موثر جواب دے گا جیسا فروری 2019 میں دیا تھا۔ کورونا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اور میری اہلیہ دونوں کو ایک ساتھ کورونا ہوا تھا، 5 دن مشکل تھے، ساتویں دن دوبارہ کام کررہا تھا، مکمل بحال ہو نے میں 8سے 9 دن لگے۔کورونا وبا کے دوران سمارٹ لاک ڈاؤن کے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اگر میں نے ملک بند کردیا تو دیہاڑی دار لوگوں کاکیا بنے گا، جن کے خاندانوں کا گزارا ان کی روزانہ کی کمائی پر ہوتا ہے، اگر میں معیشت کو بندکردیتا تو ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور اور چھابڑی والوں کاکیا بنتا جو اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں، میں غریب طبقے کو کچلنا نہیں چاہتا تھا،ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنائی اور کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن لگایا، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ وہ بھوک سے مر جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف آپ کورونا سے لوگوں کو بچا رہے ہیں تو دوسری طرف وہ بھوک سے مررہے ہوں، میں ایسا کرنے کو تیار نہیں تھا۔وزیراعظم نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میں تین سال بہت مصروف رہا ہوں اور میری کوئی سماجی مصروفیت نہیں رہی،ایک ہی آپشن ہے کہ میں پہاڑی علاقوں میں جاؤں، ہمیشہ میرا رجحان ماحول کی طرف تھا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی مناظر ہیں،

میں سویٹزر لینڈ اور آسٹریا سمیت دنیا میں ہر جگہ گیا لیکن وہ خوبصورتی کہیں بھی نہیں جو پاکستان کے ہمالیہ، قراقرم اور دیگر پہاڑی سلسلہ میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ حکومتوں کی طرف سے جنگلوں اور درختوں کی کٹائی کی اجازت دینے کے بارے میں سوچتا تھا، جو ماحولیاتی تنزلی، ماحول کی خرابی اور جنگلی حیات کے خاتمے کا باعث بنی، اور یہ عہد کیا کہ اگرمجھے کبھی موقع ملا تو میں ملک میں دوبارہ جنگلات اگاؤں گا تاکہ جنگلی حیات واپس آئے،یہی وجہ ہے کہ ہم نے بلین ٹرین لگانے کاانتہائی پرعزم سونامی شروع کیا ہے، ہم اب تک اڑھائی ارب درخت لگا چکے ہیں۔ روایتی پاکستانی لباس پہننے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ملک کا وزیر اعظم ہو ں، 90 فیصد سے زائد لوگ ایسے ہی کپڑے پہنتے ہیں، میں اپنے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہومیرے عوام جو کپڑے پہنتے ہیں میں بھی انہی جیسا لباس پہنتا ہوں۔


شیئر کریں: