Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال۔بمبوریت روڈ کا ٹینڈرجاری کردیا گیا ہے،چترال۔شندورروڈ کی تعمیر کیلئے زمین کی خریداری کا عمل جاری۔ وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور ( چترا ل ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرا م (پی ایس ڈی پی) کے تحت صوبے میں جاری منصوبوں خصوصاً سڑکوں کے ترجیحی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے روایتی انداز سے ہٹ کر کام کیا جائے۔ اُنہوںنے ہدایت کی کہ منصوبوں کیلئے جاری شدہ فنڈزکی سو فیصد یوٹیلائزیشن یقینی بنائی جائے جبکہ فنڈ یوٹیلایزیشن رپورٹس متعلقہ فورم کو بروقت پیش کرنے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ پی ایس ڈی پی 2022-23 میں شامل کرنے کیلئے تمام مجوزہ منصوبوں کے پی سی ونز بھی رواں ماہ کے آخری تک صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی(پی ڈی ڈبلیو ڈی) سے منظور کرالئے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں جاری عوامی مفاد کے میگا منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی ترجیح ہے جس کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں بروقت پور ی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان منصوبوں کو بلا تاخیر مکمل کرکے عوام کی سہولت کیلئے استعمال میں لایا جا سکے۔ یہ ہدایات اُ نہوں نے جمعرات کے روز صوبے میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجدعلی خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں پی ایس ڈی پی 2021-22 میں شامل منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور اگلے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کیلئے مجوزہ منصوبوں پر غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے میں جاری میگا منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنے اور وفاقی حکومت سے جڑے مسائل کے حل کیلئے متعلقہ وفاقی محکموں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے این ایچ اے کے تحت صوبے میں جاری شاہراﺅں کے بعض منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبوں پر پیشرفت تیز کرنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کیلئے جاری شدہ فنڈز کی یوٹیلائزیشن میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام محکمے اپنے منصوبوں پر پیشرفت اور فنڈز کی یوٹیلائزیشن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ قبل ازیں اجلاس کو پی ایس ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 143 منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سے 69 منصوبوں پر صوبائی حکومت جبکہ 74 پروفاقی حکومت عمل درآمد کر رہی ہے۔ منصوبوں پر اب تک 47 ارب روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔

جاری شدہ فنڈز کے خلاف یوٹیلائزیشن کی شرح 56 فیصد ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فنڈز کی یوٹیلائزیشن کے سلسلے میں شعبہ اعلیٰ تعلیم 31 منصوبوں کے ساتھ سرفہرست ہے جس نے اب تک سو فیصد یوٹیلائزیشن یقینی بنائی ہے۔ اسی طرح شعبہ مواصلات 86 فیصد جبکہ شعبہ جنگلات 69 فیصد یوٹیلائزیشن کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اجلاس کو پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ترجیحی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 32 کلومیٹر طویل ناردرن بائی پاس روڈ پشاور کی تعمیر کے منصوبے کیلئے زمین کی خریداری کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ منصوبہ 21 ارب روپے کی لاگت سے دسمبر2022 تک مکمل کیا جائے گا۔منصوبے کے ایک پیکج پر کام مکمل ہے جبکہ دو پیکجز پر بھی کام اکتوبر 2022 تک مکمل کرلیاجائے گا۔

وزیراعلیٰ نے منصوبے کے تیسرے پیکج کا ٹینڈر 15 جنوری تک یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ مقررہ ٹائم لائن کے مطابق منصوبے کی تکمیل ممکن ہو سکے۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ 89 کلومیٹر طویل اولڈ بنوں روڈ کو دورویہ کرنے کا منصوبہ اگست2022 ئتک مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کا تخمینہ لاگت 17 ارب روپے ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چترال۔ بونی۔ مستوج۔ شندورروڈ کی تعمیر کیلئے زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ 153 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ تقریباً21 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد کیلئے چار پیکجز بنائے گئے ہیں جن کیلئے متعلقہ زمین پر سیکشن فور لگا دیا گیا ہے اور پہلے تین پیکجز پر کام شروع ہے۔

اسی طرح 46 کلومیٹر طویل چترال۔ایون۔بمبوریت روڈ منصوبے کا ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے اور ایک مہینے کے اندر منصوبے پر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ 4 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے منصوبے کا سول ورک 90 فیصد مکمل کیا جا چکا ہے تاہم آلات کی خریداری باقی ہے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کیلئے آلات کی خریداری کا عمل بلا تاخیر شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس منصوبے کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق ہر حوالے سے مکمل کرکے عوام کی سہولت کیلئے یوٹیلائز کیا جا سکے۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ایکسپو سنٹر پشاور کا منصوبہ بھی دسمبر 2022 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

بعد ازاں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پی ایس ڈی پی 2022-23 میں شامل کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر 63 منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے 32 منصوبوں کے پی سی ونز تیار کر لئے گئے ہیں جبکہ 16 پی سی ونز پی ڈی ڈبلیو پی سے کلیئر بھی کئے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے باقی ماندہ منصوبوں کے پی سی ونز بھی جلد مکمل کرکے متعلقہ فورم سے منظور کروانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ڈیمز یا ایریگیشن چینلز کے مجوزہ منصوبوں کا مکمل پلان بمعہ کمانڈ ایر یا ڈویلپمنٹ تیار ہونا چاہیئے تاکہ بعدازاں منصوبوں کی متعلقہ فورم سے منظوری اور اُن پر عمل درآمد کے سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ سامنے نہ آئے۔


شیئر کریں: