Chitral Times

Jan 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سقوط ڈھاکہ کے 50 سال – تحریر : راجہ منیب

شیئر کریں:

پاکستان کی تشکیل میں مشرقی بازوکے عوام اور مسلم لیڈرزنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اس پر ابتدا ئی چند سالوں میں تعمیر ی قوتیں غالب رہیں لیکن اس کے بعد اندرونی اور بیرونی سازشوں کا آغاز ہوگیا اور اُن   میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا بعض عناصر بہروپ بن کر اندر سے نقب لگانے میں مصروف ہوئے ۔ پاکستان کے مشرقی بازومیں اغیار نے سازشیں کرکے سادہ لوح عوام کو احساس ِمحرومی کا شکا ر کرکے بغاوت پرا کسایا اور آخر کار 14اگست کو پاکستان کی صورت میں دُنیا کے نقشہ پرا بھرنے والی عظیم مملکت کو 16دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن گیا۔ بنگلہ دیش کی آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

چھبیس مارچ 1971 کو اس وقت مشرقی پاکستان کے اہم سیاسی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد فوجی آپریشن شروع ہوا جو نو ماہ تک جاری رہا۔تاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش کے قیام کی آوازیں اس وقت زور پکڑ گئی تھیں جب 1970 میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کو اکثریت ملی تھی۔ بھارت نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کو ہوا دی اور علیحدگی پسندوں کو بھارت میں تربیت دے کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیا تھا۔سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کے سانحہ مشرقی پاکستان کی یاد میں پاکستان بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جاتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کی مدد سے مکتی باہنی کے نام پر بھارت نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کی اور پھر حکومتِ وقت کیخلاف بغاوت کی فضا پیدا کرکے مغربی پاکستان پر بھی جنگ مسلط کر دی گئی۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔اور چرچل کا کہنا تھا کہ ’’آپ ماضی سے جتنا زیادہ واقف ہوں گے اتنے ہی بہتر انداز میں مستقبل کی تیاری کر سکیں گے‘‘ تحقیق ریسرچ ایک مشکل اور کٹھن فن ہے۔ اکثر مؤرخین ونامہ نگاروں  نے سقوط ڈھاکہ کے بارے میں مخصوص ایجنڈے کے تحت لکھا لہٰذا تاریخ کا اصل سچ سامنے نہیں آ سکا۔ عارضی ماحول پروپیگنڈے اور منظر سے متاثر ہو کر تاریخ لکھنے والے مؤرخین سقوط ڈھاکہ کی بنیادوں تک نہ پہنچ سکے۔اس  سانحہ کے تلخ حقائق کو سپرد قلم کرنا نہ صرف بہت مشکل بلکہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ مگر سقوط ڈھاکہ کے دلخراش تاریخی واقعات  اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا ذکر ضروری اس لیے یہ کہ خدانخواستہ اسی طرح کی سازشیں ہمارے  وطن عزیز کو اپنی لپیٹ میں لے کرپھر سے نقصان نہ پہنچا س سکیں۔سا نحہ مشرقی پاکستان کے پچاس سال مکمل ہو چکے۔

ہندوستان کی دخل اندازی اور جارحیت صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ خطے میں آج تک جو آگ لگی ہوئی یہ ہندوستان کی لگائی ہوئی ہے۔ جب کہ مشرقی پاکستان   کے لوگوں نے پاکستان کیلئے اپنے گھر بار لُٹا دیے۔  اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو امن کا جزیرہ بنایا مگر ہم بجائے اللہ تعالیٰ  کا شکر ادا کرتے ا اور اس کی قدر کرتے ہم نے ہی اپنے ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا شروع کی ہوئی ہے۔1970  کا سال  ایسے ہی گزارا جیسے آج کل سیاست دان لڑ جھگڑ رہے ہیں ۔سیاسی بابے 70 کے حالات اور آج کل کے حالات کا جائزہ لیں  اور غیرت مندی کا مظاہرہ کریں۔اس وقت بھی تمام سیاسی جماعتوں  کے رولے تھے اور چاہے کوئی بھی  ہو اوررہی بات سرخوں کی تو اس وقت  پی ٹی ایم کی جگہ اس وقت بھاشانی گروپ ہوا کرتا تھا۔ 

چلیں مختصر ذکر کر ہی دیتا ہوںمگر اس سے صرف سبق سیکھیں اس لیے  بتاتا ہوں کہ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان سے 162میں سے 160نشستیں جیت لیں جبکہ مغربی پاکستان سے ایک نشست بھی حاصل نہ کرسکی مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے 138میں سے 8نشستیں سند ھ اور پنجاب سے جیت لیں اور مشرقی پاکستان سےمغربی پاکستان کی کوئی جماعت کامیاب نہ ہوسکی ۔دونوں حصوں میں نتائج کے اعلان سے صوبائی عصبیت کو فروغ حاصل ہوا اور اقتدار کا مسلٔہ صوبائی صبیت میں بدل گیا۔ مگر اب تو پچاس سال گزر گئے ہیں ۔ پھر وہی رولے ہیں ۔ اندر سے ملک کو تمام سیاسی پارٹیاں کمزور کرنے پر لگی ہوئی ہیں۔ جب اس وقت سیاسی پارٹیاں آپس میں لڑ رہی تھی تو  کچھ سرخوں  کی جماتوں ، فراریوں ، کلعدم تنظیموں، لبرلز وغیرہ نے مل کر بھار ت سے مدد طلب کر نے کا منصوبہ بنایا اور اسی منصوبے کے تحت بھارت نے 50 ہزار گوریلوں پر مشتمل مکتی باہنی قائم کر کے شرارت و ظلم و ستم شروع کر دیے۔ادھر سیاسی پارٹیاں   بین الا قوامی طور پر خود کو مظلوم ظاہر کرنے میں کامیاب ہو گئے مگر پاکستانی  عوام ان کے مظالم دنیا کو آگاہ نہ کر سکے۔بھارت 65 ء کی جنگ کا بدلہ چاہتا تھا ۔جبکہ مغربی میڈیا  خاص کربرطانیوی میڈیاپاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی حد سے زیادہ کرنے لگ گیا جیسا کہ اس وقت اور آجکل بھی بی بی سی کر رہا ہے۔71 کی جنگ میں بی بی سی نے تمام ہمدردیاں مجیب الرحمٰن کے ساتھ کر دی تھیں۔روس اس وقت پاکستان کو صرف اور صرف   چائنہ یعنی چین کا دوست سمجھتا تھا۔ اور چین اور روس میں اس وقت سخت مخالفت تھی جیسا کہ آجکل چین و امریکہ کے حالات ہیں۔

روس کا بھارت کی طرف جھکاوّ تھا ۔ بھارت کے ساتھ دفاعی معاہد ہ کر کے خفیہ طور پر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کا معاہدہ کر لیا ۔ بڑی طاقتیں چین سے پہلے ہی ڈرتی تھیں اس لیے مشرقی پاکستان کو الگ کر کے اسکے اڈے چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ ادھر شیخ مجیب نے ہزاروں باغیوں کو بھارت بھیج کر مسنگ پرسن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان پر حملے کا جواز بنا لیا جبکہ بھارت نے اپنا طیارہ گنگا اغوا ہونے کا ڈرامہ رچا کر مغربی پاکستان کے درمیان ہوائی راستہ بند کر دیا تا کہ مددو رسد نہ پہنچ سکے۔روس کے ساتھ 25 سال کا دفاعی معاہدہ پہلے ہی تھا اس مرتبہ بھارت نے مشرقی پاکستان کے بدلے روس کو بحری اڈہ جو روس کی دکھتی رگ تھا آفر کر دیا ۔  22 نومبر 1971 ء کو بھارت نے باقاعدہ مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ مکتی باہنی کے تخریب کاروں نے تمام اہم مقامات اور تنصیبات تباہ کردیںاور بھارتی فضائیہ نے پہلے سے موجود ہوائی جہازوں کو زمین پر ہی تباہ کردیااور ڈھاکہ کا ہوائی اڈہ اسلئے کھنڈر بنادیاتاکہ مغربی پاکستان سے کسی دوسرے راستے پہنچنے والا امدادی سامان وہاں اتارا نہ جاسکے۔ ایک تو پاکستانی افواج کو فضائی تحفظ نہ مِل سکا دوسرا بھارت نے چھاتہ بردار فوج اتار کر پشت سے حملہ کردیا۔

چند دنوں تک پاکستانی افواج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن کمک نہ پہنچ سکنے کے باعث زیادہ دیر تک مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا۔مشرقی پاکستان سے توجہ ہٹانے کیلئے مغربی محاذ پر دباو ڈالنے کی بھارت نے بے حد کوشش کی لیکن گولا باری کے تبادلے سے بات آگے نہ بڑھ سکی ۔ 8جنوری کی رات کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ شیخ مجیب الرحمٰن کو غیر مشروط طور پر رہا کرکے لند ن بجھوایا گیا جہاں پہنچ کراُنہوں نے آزاد جمہوریہ بنگلہ دیش کا اعلان کیا ۔اسکے بعد نئی دہلی میں اپنے محسنوں کا شکریہ ادا کرکے بنگلہ دیش پہنچے اور صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔بھارت کے جراثیم  یعنی کارندے مشرقی پاکستان میں اہم عہدوں پر فائز رہے اس لیے  بھی وہاں کے معاملات خراب ہوئے اور  پاکستان کے خلاف نفر ت کا بیچ بوتے رہے۔جیسا کہ چند مثالیں دے ہی دیتا ہوں تا کہ حقیقت جاننے والوں پر حقیقت واضح ہو سکے۔ کہ کیسے بھارتی عناصر بنگالی بن کر پاکستان کے خلاف اور کیا کیا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں ۔

مثلاً  پاک فوج پر ایک اور بھارت اور بنگلہ دیش کے کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ پاک مسلح افواج نے 30 لاکھ سے زیادہ معصوم بنگالیوں کو قتل کیا اور 200,000 بنگالی خواتین کی عصمت دری کی  تو جناب  اس افسانے کی اصل کا پتہ دسمبر 1971 سے لگایا جا سکتا ہے جب سوویت اخبار ‘پراودا’ نے 23 دسمبر 1971 کے اداریے میں ‘دشمن کا قبضہ’ کے عنوان سے رپورٹ کیا کہ 1971 کی جنگ میں تقریباً 30 لاکھ اموات ہوئیں اور جلد ہی بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔غیر ملکی مصنفین نے مجیب الرحمان کو جارحانہ اور اقتدار کے لیے بے چین قرار دیا۔ ان کی اور ان کی پارٹی کے ارکان نے 30 لاکھ مارے جانے والے اعداد و شمار بتائے تھے جبکہ 1971 میں اموات کی اصل تعداد ایک لاکھ تک بھی نہیں پہنچی۔30 لاکھ کے اعداد و شمار کی توثیق مجیب نے 18 جنوری 1972 کو ڈیوڈ فراسٹ (برطانوی صحافی) کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کی تھی۔

انہوں نے زور دے کر کہا، “30 لاکھ لوگ مارے گئے، جن میں بچے، خواتین، دانشور، کسان، مزدور، طلباء شامل ہیں”۔مجیب الرحمان 30 لاکھ بنگالیوں اور 200,000 بنگالی خواتین کی عصمت دری کے افسانے کے لیے مستند ذرائع فراہم نہیں کر سکے، جب ان سے ذرائع کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: میرے آنے سے پہلے میرے لوگوں نے معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی تھیں۔ میرے پاس ان تمام علاقوں سے پیغامات آرہے ہیں جہاں میرا بیس ہے۔ ہم نے حتمی طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا، یہ زیاددہ ہوسکتا ہے، لیکن یقینی طور پر، یہ تین ملین سے کم نہیں ہوگا۔کئی تحقیقاتی اکاؤنٹس نے عوامی لیگ کی حکومت کے ان واضح طور پر غیر تائید شدہ دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد عوامی لیگ کی فوری حکومت بھی 30 لاکھ کے اپنے پیدا کردہ افسانے کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔مجیب نے جنوری 1972 میں 30 لاکھ نسل کشی کے اعداد و شمار کو پورا کرنے کے لیے فضائی انکوائری کمیٹی بنائی لیکن ناکام رہی کیونکہ کمیٹی پچاس ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ اسی طرح عالمی میڈیا نے بھی تیس لاکھ کے اعداد و شمار کی تردید کی۔یا پھر یہ کہ بنگلہ دیش کو مرکز نے نظر انداز کیا / استحصال کیا؟  

مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان معاشی تفاوت ایک تاریخی میراث تھی۔ چونکہ روم ایک دن میں نہیں بنایا گیا تھا، اس لیے بنگلہ دیش کی بھارت سے ملنے والی  تاریخی معاشی محرومیوں کو مختصر عرصے میں ختم نہیں کیا جا سکتا ۔فطرت، سالانہ طوفانوں اور سیلابوں کی شکل میں، مشرقی پاکستان کے معاملے میں بھی دوستانہ نہیں تھی۔ نیز، مشرقی پاکستان میں خوراک کی فراہمی قحط سے بحال نہیں ہو سکی۔صنعت کاری، انفراسٹرکچر/ایئر لائن کی ترقی، بندرگاہوں، آئل فیلڈز/ریفائنری اور ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس وغیرہ کی کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد بنگلہ دیش کی ترقی پر بھارت کے ایجنٹوں نے جو کرتادھرتا تھے انھوں نے  خاصی توجہ نہیں  دی گئی۔ یا پھر یہ کہ بنگلہ دیش کا قیام دو قومی نظریہ کی نفی ہے؟ بنگلہ دیش کی تخلیق مذہبی خطوط پر نہیں ہوئی، یہ مختلف ثقافت/سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ہوئی ہے – جس کا استحصال کسی ظاہری غیر ملکی ہاتھ نے کیا۔مزید یہ کہ دو قومی نظریہ کی نفی کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنا پڑا جیسا کہ تقسیم سے پہلے کے دور میں تھا، جو اس نے نہیں کیا۔دو قومی نظریہ کا مطلب یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں ہیں۔ پاکستان سے کامیاب ہونے کے بعد بھی بنگلہ دیش کے مسلمان خود کو ہندوؤں جیسا نہیں سمجھتے۔

دو قومی نظریہ کی حمایت میں سب سے بڑا ثبوت مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان میں شروع ہونے والے واقعات کا سلسلہ ہے۔ مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے/مزید دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ متعدد اقدامات – آرٹیکل 370 کی منسوخی، رام مندر کی تعمیر، شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) / شہریوں کے لیے قومی رجسٹر (NRC) – نے ہندوستانی مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت نواز کشمیری رہنما (مفتی اور عبداللہ) بھی اپنے آباؤ اجداد کے یونین آف انڈیا میں رہنے کے فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔آر ایس ایس / زہریلے ہندوتوا نظریہ سے متاثر مودی نے دو قومی نظریہ کو کامیابی سے ثابت کیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان کہ ’’جو مسلمان پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں وہ ساری زندگی ہندوستان سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے گزاریں۔یا پھر پاکستانیوں اور بنگالیوں کے درمیان نفرت ہے۔

پاکستانیوں میں بنگالیوں کے خلاف دشمنی کا کوئی نشان نہیں ہے۔ بے ترتیب ادب سے لے کر نصابی کتابوں تک، بنگالیوں کے خلاف کوئی مذمتی مواد نہیں ہے۔ اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کو بڑی حد تک ایک دردناک قومی سانحہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو روح کی تلاش اور خود احتسابی کی ضمانت دیتا ہے۔علیحدگی کے بعد سے آج تک پاکستان میں کسی بھی فورم پر بنگلہ دیش کو نیچا دکھانے یا اسے نظرانداز کرنے کے لیے کوئی بدنیتی پر مبنی مہم نہیں چلائی گئی۔ بلکہ اسے برادر مسلم خودمختار ریاست سمجھا جاتا ہے۔بنگلہ دیش میں حالیہ میچوں میں پاکستانی کرکٹرز کی زبردست حمایت دونوں لوگوں کے درمیان موجودہ تعلق کی عکاسی کرتی ہے جسے دشمن قوتیں شکست دینے میں ناکام رہی ہیں۔حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور مفاد پر مبنی مفاہمت اور ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔ دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے کہ وہ کھلے دل سے ناخوشگوار ماضی کا جائزہ لیں/ بھول جائیں اور جیو اکنامکس اور علاقائی انضمام کے ڈھلتے ہوئے دور میں مشترکہ خوشحال مستقبل کی طرف دیکھیں۔


شیئر کریں: